کیا یونس خان کی ون ڈے میں جگہ بنتی ہے ؟

یونس خان کی ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی کے بعد شہریارخان نے انہیں ون ڈے ٹیم میں بھی شامل کرنے کی بات کردی تھی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنیونس خان کی ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی کے بعد شہریارخان نے انہیں ون ڈے ٹیم میں بھی شامل کرنے کی بات کردی تھی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی

انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اعلان کسی بھی وقت متوقع ہے اور اس ضمن میں یہ سوال بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ کیا یونس خان کو اس ٹیم میں شامل کرلیا جائے گا؟

ماضی کی طرح اس بار بھی یونس خان کو ون ڈے ٹیم میں شامل کیے جانے کی بازگشت سنی جارہی ہے اور سلیکٹرز نے کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریارخان سے بھی اس بارے میں مشورہ کیا ہے جس کی تصدیق خود شہریارخان نے کی ہے کہ سلیکٹرز نے یونس خان کے معاملے میں ان سے مشورہ کیا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اتنا بڑا معاملہ ہے جس کے لیے سلیکٹرز خود کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے بورڈ کےچیرمین کی طرف دیکھ رہے ہیں کیونکہ عام طور پر ٹیم منتخب کرنے کے بعد کرکٹ بورڈ کے چیرمین سے منظوری لی جاتی ہے مشورہ نہیں کیا جاتا۔

تاہم ماضی میں یہ ہوچکا ہے کہ یونس خان کی ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی کے بعد شہریارخان نے انہیں ون ڈے ٹیم میں بھی شامل کرنے کی بات کردی تھی حالانکہ اس وقت کے چیف سلیکٹر معین خان یہ واضح کرچکے تھے کہ یونس خان ورلڈ کپ کے ان کے پلان میں شامل نہیں تھے لیکن چونکہ شہریارخان کہہ چکے تھے لہذا یونس خان کو نیوزی لینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ون ڈے سیریز میں شامل کرنا پڑا تھا۔

اس سیریز کے پانچ میچوں میں یونس خان صرف ایک سنچری بناسکے تھے جبکہ دیگر چار میچوں میں ان کا اسکور صرف چار، چھ، پنتیس اور بارہ رہا تھا۔

ورلڈ کپ سے قبل نیوزی لینڈ کے دورے میں بھی وہ ناکام رہے تھے اور پھر ورلڈ کپ میں ان کی جو کارکردگی رہی وہ سب کے سامنے ہے۔

یہ بات بھی سب کو یاد ہوگی کہ یونس خان کو سینٹرل کنٹریکٹ میں بی سے اے کیٹگری دیے جانے کے بعد انہیں سری لنکا کے دورے کے لیے ون ڈے سیریز میں شامل کرنا پڑگیا تھا حالانکہ اس وقت وہ سترہ ماہ سے ون ڈے انٹرنیشنل نہیں کھیلے تھے۔

ماضی میں بھی یونس خان کو ون ڈے ٹیم میں شامل کیے جانے کے معاملے میں کرکٹ بورڈ پر دباؤ رہا ہے یہ دباؤ خود یونس خان کے جذباتی بیانات اور میڈیا کے کچھ حلقوں کی جانب سے رہا ہے۔

یونس خان اس بات پر مصر ہیں کہ وہ اب بھی ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل سکتے ہیں اور اس ضمن میں وہ اپنی حالیہ ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کی دو نصف سنچریوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔وہ اپنا کیس مضبوط کرنے کے لیے یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ شعیب ملک بھی پاکستانی ٹیم میں جس کارکردگی کی بنیاد پر واپس آئے ہیں وہ انھوں نے مختلف ملکوں کی لیگ میں دکھائی ہے یا پھر ڈومیسٹک کرکٹ میں۔

یونس خان نے نومبر 2008 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ابوظہبی میں سنچری بنانے کے بعد سے اب تک 82 ون ڈے اننگز میں مزید ایک ہی سنچری بنائی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنیونس خان نے نومبر 2008 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ابوظہبی میں سنچری بنانے کے بعد سے اب تک 82 ون ڈے اننگز میں مزید ایک ہی سنچری بنائی ہے

پاکستان میں کرکٹ کا نظام دوسرے ملکوں سے قطعاً ہے کیونکہ یہاں کسی کرکٹر کو ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی پرفارمنس پر ٹیسٹ ٹیم میں شامل کرلیا جاتا ہے اور کسی کی ٹیسٹ میچوں کی اچھی کارکردگی پر اس کے لیے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں جگہ نکالی جاتی ہے۔

یونس خان کو ون ڈے ٹیم میں شامل کرنے سے قبل سلیکٹرز کو ان دو سوالات کے جواب بڑی دیانت داری سے دینے ہوں گے کہ کیا یونس خان دو سال بعد انگلینڈ میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی ٹیم میں موجود ہونگے؟ اور کیا وہ چار سال بعد انگلینڈ ہی میں ہونے والے عالمی کپ کے پلان کا حصہ ہیں ؟۔

اگر ان دونوں سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر آخر کیا وجہ ہے کہ سلیکٹرز انہیں ون ڈے ٹیم میں شامل کرنے پر مصر ہیں کہ ان کا تجربہ انگلینڈ کے دورے میں ( ون ڈے میں ) کام آسکتا ہے حالانکہ یہ دورہ ابھی آٹھ ماہ کی دوری پر ہے۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یونس خان کو ون ڈے میں کھلاکر نوجوان کھلاڑیوں کا راستہ تو نہیں روکا جارہا؟

اس وقت حارث سہیل، صہیب مقصود، عمراکمل، سمیع اسلم، فواد عالم اور بابر اعظم جیسے نوجوان باصلاحیت ون ڈے ٹیم میں واپسی کے پہلے سےمنتظر ہیں اور اگر انہیں اب بھی موقع نہ ملا تو پھر کب ملے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یونس خان اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کے چند کامیاب بیٹسمینوں میں سے ایک ہیں لیکن جہان تک ون ڈے کا تعلق ہے ان کی حالیہ کارکردگی ان کے مؤقف کی تائید نہیں کرتی۔

یونس خان نے نومبر 2008 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ابوظہبی میں سنچری بنانے کے بعد سے اب تک 82 ون ڈے اننگز میں مزید ایک ہی سنچری بنائی ہے جبکہ اسی عرصے میں جنوبی افریقہ کے ہاشم آملا جن پر ٹیسٹ بیٹسمین کی چھاپ لگی ہوئی تھی ون ڈے میں 21سنچریاں بناچکے ہیں اور ویراٹ کوہلی اسی عرصے میں اپنی ون ڈے سنچریوں کی تعداد کو23 تک پہنچا چکے ہیں۔