انگلینڈ سے ون ڈے جیتنے کا انتظار ختم

محمد حفیظ اپنی 11 ویں ون ڈے اور انگلینڈ کے خلاف پہلی سنچری سکور کرتے ہوئے 102 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمحمد حفیظ اپنی 11 ویں ون ڈے اور انگلینڈ کے خلاف پہلی سنچری سکور کرتے ہوئے 102 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان نے پانچ سال کے صبر آزما انتظار کے بعد انگلینڈ کو ون ڈے انٹرنیشنل میں ہرا دیا۔ پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف آخری بار ون ڈے انٹرنیشنل میچ سنہ 2010 میں لارڈز میں جیتا تھا۔ جس کے بعد سے مسلسل پانچ میچوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جن میں سے چار میچ سنہ 2012 کی سیریز میں ہارے تھے۔

ابوظہبی میں چار میچوں کی سیریز کے آغاز ہی میں یونس خان کی ون ڈے سے ریٹائرمنٹ کی شکل میں شہ سرخی مل گئی تھی جو میچ کے اختتام پر پاکستان کی چھ وکٹوں کی جیت میں تبدیل ہوگئی۔ جیت سے بڑھ کر کوئی دوسری ہیڈ لائن نہیں ہوسکتی۔

پاکستان نے میچ پر اپنی گرفت اسی وقت مضبوط کر لی تھی جب موثر بولنگ اور شاندار فیلڈنگ نے انگلینڈ کو 49.4 اوورز میں 216 رنز پر آؤٹ کردیا جس کے بعد محمد حفیظ کی سنچری نے اسے 44 ویں اوور میں جیت سے ہمکنار کردیا۔

اوئن مورگن کے لیے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایک بڑا سکور کرنا اس وقت مشکل ہوگیا جب پہلے چار اوورز میں ہی اس کی تین وکٹیں ہاتھ سے نکل گئیں۔ میچ کی دوسری گیند پر محمد عرفان نے جیسن روئے کو بولڈ کیا۔ دوسرے اوور میں قابل بھروسہ جو روٹ کو انور علی نے ایل بی ڈبلیو کیا اور جب الیکس ہیلز انورعلی کی گیند پر سلپ میں یونس خان کے ہاتھوں کیچ ہوئے تو انگلینڈ کا سکور صرف 14 رنز تھا۔

کپتان مورگن اور جیمز ٹیلر کی سنچری شراکت نے انگلینڈ کو صحیح دھارے پر ڈالنے کی کوشش کی لیکن 133 رنز کی شراکت کے ٹوٹتے ہی مہمان ٹیم کوایک بار پھر مشکلات نے گھیر لیا۔

مورگن 11 چوکوں کی مدد سے 76 رنز بنا کر شعیب ملک کی گیند پر سرفرازاحمد کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

یہ اس سال ان کی بحیثیت کپتان ساتویں نصف سنچری تھی۔ دو سنچریاں اس کے علاوہ ہیں جو کسی بھی انگلش کپتان کی کلینڈر سال میں سب سے بہترین کارکردگی ہے۔جیمز ٹیلر نے اپنی چھٹی ون ڈے نصف سنچری مکمل کرتے ہوئے 60 رنز سکور کیے۔

پاکستان نے بھی ابتدائی تین وکٹیں اپنا دوسرا ون ڈے کھیلنے والے بائیں ہاتھ کے تیز بولر ٹوپلی نے حاصل کیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپاکستان نے بھی ابتدائی تین وکٹیں اپنا دوسرا ون ڈے کھیلنے والے بائیں ہاتھ کے تیز بولر ٹوپلی نے حاصل کیں۔

انگلینڈ کی ٹیم پاکستان کی عمدہ فیلڈنگ کے سبب صرف 14 رنز کے اضافے پر چار وکٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ اظہرعلی نے ٹیلر کا کیچ ڈراپ کیا لیکن پھر وہی غلطی نہیں دوہرائی۔

معین علی کا تیز پل شاٹ بابر اعظم نے ایک ہاتھ سے خوبصورتی سے دبوچ کر یاسر شاہ کو پہلی وکٹ دلا دی جنھوں نے اپنے دس اوورز صرف 38 رنز کی کفایتی بولنگ پر ختم کیے۔

عادل رشید کا عرفان کی گیند پر شاٹ مڈ آن پر سیدھا متبادل فیلڈ ظفرگوہر کے ہاتھوں میں گیا۔ عرفان نے اننگز کی تیسری کامیابی ڈیوڈ ولی کو بولڈ کرکے حاصل کی۔

پاکستان نے بھی ابتدائی تین وکٹیں جلد گنوادیں اور یہ تینوں وکٹیں اپنا دوسرا ون ڈے کھیلنے والے بائیں ہاتھ کے تیز بولر ٹوپلی نے حاصل کرڈالیں۔

کپتان اظہر علی اور اوپنر کی حیثیت سے کھیلنے والے بلال آصف ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ یونس خان اپنی آخری ون ڈے اننگز میں صرف نو رنز بناکر عادل رشید کو کیچ دے گئے۔

محمد حفیظ اور شعیب ملک کے درمیان 70 رنز کی اہم شراکت نے جیت تک رسائی کو آسان کیا۔ شعیب ملک کے آؤٹ ہونے کے بعد بابر اعظم نے بھی محمد حفیظ کا اچھا ساتھ دیا اور ان دونوں کی 106 رنز کی ناقابل شکست شراکت نے انگلینڈ کو جیت کے رہے سہے خیال سے بھی دور کردیا۔

محمد حفیظ اپنی 11 ویں ون ڈے اور انگلینڈ کے خلاف پہلی سنچری سکور کرتے ہوئے 102 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ باصلاحیت بابر اعظم اپنی دوسری ون ڈے نصف سنچری مکمل کرتے ہوئے چار چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 62 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

محمد حفیظ اس سال 17 ویں ون ڈے انٹرنیشنل میں دو سنچریوں اور پانچ نصف سنچریوں کی مدد سے 699 رنز بناچکے ہیں جو کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کے اس سال ون ڈے میں سب سے زیادہ رنز ہیں۔