72 رنز کا خسارہ 74 رنز کی برتری میں تبدیل

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شارجہ
شارجہ ٹیسٹ کے تیسرے دن پاکستان پہلی اننگز میں 72 رنز کے خسارے کو 74 رنز کی برتری میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہی ہے لیکن پاکستانی ٹیم کو ممکنہ شکست سے بچنے کے لیے ایک بڑے سکور کی ضرورت ہے۔
منگل کو کھیل کے اختتام پر پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں 146 رنز بنائے اور اب اس کی سات وکٹیں باقی ہیں۔
محمد حفیظ اپنی نویں ٹیسٹ سنچری سے صرف تین رنز کی دوری پر ہیں اور ان کے ساتھ نائٹ واچ مین راحت علی سات گیندیں کھیل کر بغیر کوئی رن بنائے کریز پر موجود ہیں۔
محمد حفیظ نے انگلش بولنگ کے خلاف جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے نو چوکے اور تین چھکے لگائے۔
انھیں دو کے انفرادی سکور پر امپائر بروس آکسنفرڈ نے اینڈرسن کی گیند پر وکٹ کیپر بیرسٹو کے ہاتھوں کیچ آؤٹ دے دیا تھا لیکن ریویو پر ٹی وی امپائر پال رائفل نے انھیں ناٹ آؤٹ قرار دے دیا۔
حفیظ نے پہلی اننگز میں صفر پر آؤٹ ہونے والے اظہر علی کے ساتھ مل کر دوسری اننگز میں پہلی وکٹ کے لیے 101 رنز کا اضافہ کیا جو اس سیریز میں پاکستان کی سب سے بڑی اوپننگ شراکت ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس شراکت کے بعد اظہر علی 34 رنز بنا کر ای این بیل کی تھرو پر رن آؤٹ ہوئے تو اس سے اگلے ہی اوور میں شعیب ملک پہلی ہی گیند پر جیمز اینڈرسن کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ڈبل سنچری کے بعد شعیب سیریز کی پانچ اننگز میں وہ دوسری مرتبہ اینڈرسن کی گیند پر صفر پر آؤٹ ہوئے ہیں اور ان کا سب سے بڑا سکور 38 رہا ہے۔
کھیل کے اختتامی اوورز میں یونس خان کو 14 کے انفرادی سکور پر سٹوئرٹ براڈ نے ایل بی ڈبلیو کر دیا۔
اس سیریز کی چھ اننگز میں یونس خان ایک سنچری اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 302 رنز سکور کر چکے ہیں۔
اس سے قبل انگلینڈ نے 222 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ کے سکور پر پہلی اننگز شروع کی تو ایک بڑے سکور کے لیے اس کی تمام تر امیدیں جیمز ٹیلر سے وابستہ تھیں جو گزشتہ روز 74 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔
تاہم دن کے پانچویں اوور میں راحت علی نے ٹیلر کو 76 کے انفرادی اسکور پر سرفراز احمد کے ہاتھوں اسی انداز میں کیچ کرایا جس طرح انہوں نے جو روٹ کی وکٹ حاصل کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ٹیلر نے بیرسٹو کے ساتھ پانچویں وکٹ کی شراکت میں 89 رنز کا اضافہ کیا جو خود بھی اپنے گذشتہ روز کے سکور میں صرف چھ رنز کا اضافہ کر کے ذوالفقاربابر کی گیند پر بولڈ ہوئے۔
پاکستانی بولرز کو سمیت پٹیل کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے چھ چوکوں کی مدد سے 42 رنز بنائے۔
شعیب ملک نے عادل رشید، جیمز اینڈرسن اور کندھے کی شدید تکلیف کے باوجود بیٹنگ کے لیے آنے والے بین سٹوکس کی وکٹیں حاصل کرکے اننگز کا اختتام کریئر کی بہترین کارکردگی 33 رنز کے عوض 4 وکٹوں پر کیا۔
اس سے قبل ٹیسٹ میں ان کی بہترین انفرادی بولنگ 42 رنز کے عوض 4وکٹیں 2003 ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف لاہور میں رہی تھی۔
ان کے علاوہ یاسر شاہ نے تین اور راحت علی نے دو وکٹیں حاصل کیں اور انگلینڈ کی چھ وکٹیں اپنے گذشتہ روز کے سکور میں84 رنز کا اضافہ ہی کر سکیں۔



