’نوجوان کرکٹرز ہمارا مستقبل ہیں، اب انھی پر انحصار کرنا ہوگا‘

 ورلڈ کپ کے بعد مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ اب ون ڈے کرکٹ بہت تبدیل ہوچکی ہے: وقار یونس

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن ورلڈ کپ کے بعد مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ اب ون ڈے کرکٹ بہت تبدیل ہوچکی ہے: وقار یونس
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شارجہ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقاریونس کی تمام تر توجہ اس وقت انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ پر مرکوز ہے جو اتوار سے شارجہ میں شروع ہو رہا ہے۔

پاکستانی ٹیم کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ دبئی ٹیسٹ کی برتری کو ہاتھ سے نہ جانے دے اور سیریز اپنے نام کر لے۔

یہی نہیں بلکہ دو صفر کی جیت پاکستان کو آئی سی سی کی عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں بھی دوسرے نمبر پر لے آئے گی۔

تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے بعد کپتان مصباح الحق اور چند دیگر کھلاڑی اپنی ذمہ داریاں نبھاکر وطن واپس چلے جائیں گے لیکن کوچ وقاریونس کا کام ختم نہیں ہوگا کیونکہ ان کے سامنے انگلینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹی20 سیریز بھی ہے جس کے لیے انھیں کھلاڑیوں کو تیار کرنا ہے۔

چار ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز گیارہ نومبر سے شروع ہوگی جس کےبعد دونوں ٹیمیں تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں مدمقابل ہونگی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم حالیہ برسوں میں ٹیسٹ کرکٹ میں ایک مضبوط کامبی نیشن کے ساتھ کھیلتی آرہی ہے جس میں کوئی خاص ردوبدل دکھائی نہیں دیتا اور اس نے آسٹریلیا ۔ بنگلہ دیش اورسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز بھی جیتی ہیں تاہم ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی میں اتارچڑھاؤ رہا ہے اور اس وقت وہ عالمی رینکنگ میں نویں نمبر پر ہے۔

تاہم وقار یونس کی سوچ واضح ہے کہ اگر نوجوان کرکٹرز کو مناسب مواقع دیتے ہوئے ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا تو پاکستانی ٹیم ون ڈے کرکٹ میں بھی اچھا تاثر چھوڑے گی۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کے بعد مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ اب ون ڈے کرکٹ بہت تبدیل ہوچکی ہے۔

’اب کسی بھی ون ڈے میچ میں 300 یا اس سے زائد کا سکور معمول کی بات بن چکی ہے۔ ان حالات میں انہوں نے کوشش کی ہے کہ اپنے بیٹسمینوں کو سٹرائیک ریٹ تیز رکھتے ہوئے کھیلنے کے بارے میں بتا سکیں۔‘

وقار یونس کا کہنا ہے کہ نوجوان کرکٹرز پاکستانی کرکٹ کا مستقبل ہیں اور ’ہمیں اب انھی نوجوان کرکٹرز پر انحصار کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ اس وقت متعدد نوجوان کرکٹرز پاکستانی ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔’ کپتان اظہرعلی دن بہ دن سیکھ رہے ہیں۔ محمد رضوان نے اب تک جتنی بھی کرکٹ کھیلی ہے متاثرکن کارکردگی دکھائی ہے۔ عماد وسیم کا ٹیلنٹ سب کے سامنے ہے اور بابر اعظم بھی ایک باصلاحیت کرکٹر ہے جس سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔‘

واضح رہے کہ بابر اعظم ابھی تک تین ون ڈے کھیلے ہیں جن میں انہوں نے ایک نصف سنچری سری لنکا کے خلاف سکور کی ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ان پر اعتماد کیا گیا تو وہ پاکستانی بیٹنگ لائن کے لیے ایک اہم بیٹسمین ثابت ہو سکتے ہیں۔

وقار یونس کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے چیمپئنز ٹرافی کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے لیکن اگلا چیلنج ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان کرکٹرز اپنی عمدہ کارکردگی اور ٹیلنٹ سے پاکستانی ٹیم کی ورلڈ کپ میں براہ راست شرکت یقینی بنا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ورلڈ کپ میں آٹھ ٹیمیں براہ راست حصہ لیں گی اور یہ وہ ٹیمیں ہونگی جو 30 ستمبر 2017 کو آئی سی سی کی عالمی رینکنگ میں پہلی آٹھ پوزیشنز پر ہوں گی اور بقیہ دو ٹیموں کا فیصلہ کوالیفائنگ راؤنڈز کے ذریعے ہوگا۔