سرفراز کو ڈراپ کیا جانا سازش نہیں تھی: وقار یونس

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس نے کہا ہے کہ سرفراز احمد پاکستان کے اگلے ٹی 20 کپتان ہیں اور سری لنکا کے خلاف ٹی 20 سیریز میں انھیں نہ کھلانا کوئی سازش نہیں تھی بلکہ آئندہ سال ہونے والے آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 کو ذہن میں رکھتے ہوئے مختلف کامبی نیشن آزمائے گئے۔
واضح رہے کہ سرفراز احمد کو سری لنکا کے خلاف دونوں ٹی 20 میں نہ کھلائے جانے پر پاکستان میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی مبینہ طور پر کہا ہے کہ ٹیم مینیجمنٹ سے اس بارے میں پوچھا جائے گا۔
کچھ حلقے سرفراز احمد کو نہ کھلانے کا براہ راست ذمہ دار کوچ وقار یونس کو قرار دیتے ہیں۔
وقاریونس نے سڈنی سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ٹیم کا ہر فیصلہ وہ تنہا نہیں کرتے بلکہ دوروں پر ٹورنگ سیلیکشن کمیٹی ہوتی ہے جس میں کپتان کوچ اور مینیجر شامل ہوتے ہیں اور تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔
وقار یونس نے کہا کہ اس سے پہلے بھی سرفراز احمد کو بٹھا کر رضوان کو موقع دیا گیا۔ دراصل ٹی 20 میں آپ کو مختلف کمبی نیشن دیکھنے ہوتے ہیں اور صرف سرفراز ہی نہیں بلکہ کسی بھی کھلاڑی کو جب نہیں کھلایا جاتا تو اسے اس کی وجہ بتائی جاتی ہے، اور اعتماد میں لیا جاتا ہے۔
وقار یونس نے کہا کہ سرفراز احمد پاکستانی ٹیم کے اہم کھلاڑی ہیں اور ان کےخیال میں وہ شاہد آفریدی کے بعد پاکستان کے اگلے ٹی 20 کپتان ہیں۔
انھوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستانی ٹیم کی سری لنکا کے دورے میں شاندار کارکردگی کو پس منظر میں ڈال کر ایک ایسے معاملے کو متنازع بنا دیا گیا جس کا کوئی سر پیر نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وقار یونس نے کہاکہ وہ پاکستانی ٹیم کے کوچ ہیں اور ہر کھلاڑی ان کی نظر میں برابر ہے اور وہ کیسے اپنے ہی کسی کھلاڑی اور اپنی ہی ٹیم کے ساتھ زیادتی کو سوچ سکتے ہیں؟
سرفراز احمد ہی نہیں کسی بھی دوسرے کھلاڑی کے خلاف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کے ساتھ بے ایمانی کر رہے ہیں، لہٰذا وہ منفی سوچ کے حامل ناقدین سے یہی کہیں گے کہ ’ٹیم جیت گئی ہے، اس موقعے پر وہ اس طرح کی منفی باتوں سے ٹیم کی شاندار کارکردگی کو پس منظر میں مت ڈالیں۔‘
وقار یونس نے کہا کہ وہ منفی سوچ کےحامل ناقدین سے قطعاً پریشان نہیں کیونکہ ان کا کام ٹیم کو تیار کرنا، کپتان کا کام آسان کرنا اور کھلاڑیوں کو حوصلہ دینا ہے اور اگر وہ اپنی تمام تر ذمہ داری نیک نیتی سے نبھا رہے ہیں تو انھیں ایسی کسی بھی منفی تنقید کی پروا نہیں ہے۔



