کولمبو میں انہونی ہونی میں بدل گئی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
شاہد آفریدی انور علی اور عماد وسیم کی دلیرانہ بیٹنگ نے پاکستانی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی کی ایک یادگار جیت سے ہمکنار کر دیا جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ایک وکٹ سے حاصل ہونے والی محض تیسری جیت ہے۔
شاہد آفریدی جب چار چھکوں اور ایک چوکے کی مدد 45 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو پاکستانی ٹیم 107 رنز پر سات وکٹوں سے محروم ہو چکی تھی اس مرحلے پر اسے 35 گیندوں پر جیتنے کے لیے 66 رنز درکار تھے۔
انور علی نے صرف 17 گیندوں پر چار چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 46 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر پاکستانی ٹیم کی امیدوں کو پھر سے زندہ کر دیا اور پھر عماد وسیم کے چھکے نے پاکستان کی ایک وکٹ کی جیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
عماد وسیم دو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے بیش قیمت 24 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
پاکستان نے جب ڈرامائی انداز میں یہ میچ جیتا تو صرف چار گیندیں باقی رہتی تھیں۔
اس جیت کے ساتھ ہی پاکستانی ٹیم آئی سی سی کی عالمی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پانچویں سے تیسرے نمبر پر آگئی ہے اور ساتھ ہی اس نے اس دورے کا اختتام بھی تینوں فارمیٹس کی سیریز کی جیت پر کیا ۔
پہلے ٹی ٹوئنٹی کی طرح اس میچ کا آغاز بھی نائب کپتان سرفراز احمد کو ایک بار پھر باہر بٹھانے کی بحث سے ہوا۔
کپتان شاہد آفریدی کا ٹاس کے موقع پر کہنا تھا کہ بینچ پر بیٹھے نئے کھلاڑیوں کو پرکھا جا رہا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سرفراز احمد کو باہر بٹھا کر بینچ پر بیٹھے نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جا رہا ہے تو پھر نئے کھلاڑی نعمان انور دوسرے میچ میں بھی کیسے باہر بیٹھ گئے؟
اور سب سے اہم بات یہ کہ زبردست فارم رکھنے والے ٹیم کے نائب کپتان کو ہی بار بار نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کے نام پر کیوں باہر بٹھایا جا رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی ٹیم کے لیے اس میچ میں اس وقت تک سب اچھا تھا جب اس نے سری لنکا کو 16ویں اوور کے اختتام تک 5وکٹوں پر 118 پر محدود رکھا تھا لیکن آخری چار اوورز میں پاکستانی بولرز نے54 رنز دے ڈالے۔یوں سری لنکا نے اپنی اننگز کا اختتام 172 رنز سات کھلاڑی آؤٹ پر کیا۔
تین سال بعد سلیکٹرز کو دوبارہ یاد آنے والے کاپوگدیرا نے چار چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست 48 اور اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے شیہان جے سوریا نے 40 رنز بناکر اپنی ٹیم کے سکور کو تقویت پہنچائی۔
بولرز کی درگت میں سہیل تنویر پیش پیش رہے ۔ پچھلے ہی میچ میں تین وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کے بعداگلے ہی میچ میں وہ اپنے معمول پر آگئے۔
انہوں نے اپنے پہلے ہی اوور میں 12 رنز دے ڈالے تھے دوسرے اوور میں 8 رنز دیتے ہوئے وہ ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے لیکن اپنے آخری دو اوورز میں انہوں نے 24 رنز دے ڈالے۔
پاکستانی اننگز میں چالیس رنز پر پانچ وکٹیں گرجانے کے نتیجے میں میچ میزبان ٹیم کے حق میں جا چکا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
محمد حفیظ 11 رنز پر آؤٹ ہوکر یہ سوال چھوڑ گئے کہ بولنگ نہ کرنے اور مسلسل ٹی ٹوئنٹی میچوں میں رنز نہ کرنے کی صورت میں ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں ان کی جگہ بنتی ہے یا نہیں؟
آؤٹ آف فارم شاہد آفریدی فارم میں آتے ہوئے نظر آئے تو پاکستانی ٹیم نے بھی آس باندھ لی وہ چار چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 45 رنز بنانے کے بعد جے سوریا کے ہاتھوں بولڈ ہوئے تو ایک خان کی جگہ دوسرے نے لے لی۔
یہ انور علی ہی کی شاندار بیٹنگ تھی جس نے سری لنکن بولنگ کے حوصلے پست کر دیے۔
سہیل تنویر اہم موقع پر رن آؤٹ ہوئے لیکن طویل قامت عرفان کا ایک رن شارجہ میں توصیف احمد کی یاد تازہ کرگیا جس کے بعد عماد وسیم کے چھکے نے جیت کا یہ خوبصورت سکرپٹ مکمل کر دیا۔



