شیوسینا کا دھاوا، آئی سی سی کا کسی قسم کے تبصرے سےگریز

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن نے بی سی سی آئی کے دفتر پر شیوسینا کے دھاوے پر کسی قسم کے تبصرے سےگریز کیا ہے۔
پیر کے روز آئی سی سی کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگ کے موقع پر ڈیو رچرڈسن سے سوال کیا گیا کہ بی سی سی آئی کے دفتر پر شیوسینا کے کارکنوں کے مظاہرے کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ جس پر ڈیو رچرڈسن کا کہنا تھا کہ ان[یں اس کی تفصیلات کا علم نہیں کیونکہ وہ اس بریفنگ کے لیے آرہے تھے لہذا انھوں نے بھی صرف ٹی وی پر یہ دیکھا ہے۔
<link type="page"><caption> بی سی سی آئی ہیڈکوارٹر پر شیو سینا کا دھاوا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151019_pak_india_cric_shiv_attack_zh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> شیوسینا کی دھمکیوں کے بعد علیم ڈار سیریز سے الگ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/10/151019_aleem_dar_withdrwan_sq" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’کرکٹ اور مسلمان اب محفوظ نہیں رہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/10/151019_india_cricket_attacks_tim" platform="highweb"/></link>
ڈیورچرڈسن نے ایک سوال کے جواب میں یہ واضح کردیا کہ دو ملکوں کے درمیان دو طرفہ سیریز دونوں کرکٹ بورڈز طے کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت صورتحال بالکل واضح ہے کہ آئی سی سی کو رکن ممالک نے بتادیا ہے کہ وہی دو طرفہ سیریز طے کریں گےلہذا فی الحال یہ معاملہ کرکٹ بورڈز کے ہاتھ میں ہے اور اس میں آئی سی سی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے بارے میں ڈیو رچرڈسن کا کہنا تھا کہ آئی سی سی براہ راست سکیورٹی کے معاملات میں شریک نہیں ہے ۔ اس وقت کئی ممالک میں سکیورٹی کے خدشات ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان خطرات کے مقابلے کے لیے موثر نظام تیار کرے اور جب ایسا ہوجائے تو اس وقت ہی آپ دوسروں کا اعتماد حاصل کرسکتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کوشش کررہا ہے کہ سکیورٹی کے معاملات بہتر بنائے جائیں۔



