’امپائر کی حفاظت نہیں کر سکتے تو ٹیم کا تحفظ کیسے کریں گے‘

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بی سی سی آئی کے دفتر پر شیو سینا کے دھاوے سے شروع ہونے والے واقعے کے بعد امپائر علیم ڈار کو میچز سے ہٹانے کے احکامات کے نتیجے میں بھارتی کرکٹ بورڈ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

پاکستانی کرکٹ ماہرین، تجزیہ کار اور سیاستدان پی سی بی اور آئی سی سی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

کرکٹ اینکر ڈاکٹر نعمان نیاز نے ٹویٹ کی کہ ’سنجیدہ سوال یہ ہے کہ کیا آئی سی سی کا ٹی 20 ورلڈ بھارت میں منعقد ہونا چاہیے؟ اگر پاکستان نے کھیلنا ہے تو اسے متحدہ عرب امارات یا سری لنکا میں منعقد کیا جائے۔‘

زین گردیزی کا کہنا تھا کہ ’اگر آئی سی سی اور بی سی سی آئی ایک امپائر علیم ڈار کی حفاظت کا پانچ دن کے لیے انتظام نہیں کر سکتے تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی پورے ٹی 20 کپ کے دوران حفاظت کا انتظام کیسے کریں گے؟‘

اینکر طلعت حسین نے لکھا کہ ’آئی سی سی کی جانب سے علیم ڈار کو جنوبی افریقہ بمقابلہ انڈیا ون ڈے سیریز سے ہٹانا قابلِ مذمت ہے۔ کرکٹ کو بھی کمیونلائز کیا جا رہا ہے۔ کیا اب شیو سینا امپائروں کے بارے میں فیصلے کرے گی؟‘

سمیع چوہدری نے لکھا کہ ’اس کی جو بھی قیمت ادا کرنے پڑے پاکستان کو 2016 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے نکل جانا چاہیے۔ اگر پاکستان میں ذرہ برابر بھی کردار باقی ہے۔ بس۔‘

دیا نے ٹویٹ کی کہ ’آئی سی سی شیو سینا کی دھمکیوں کی وجہ سے علیم ڈار کو ہٹا رہی ہے تو اگر یہ پاکستان ہوتا تو کرکٹ ختم ہوتی نہ کہ امپائر۔‘

پاکستانی سوشل میڈیا پر پی سی بی کی جانب سے اس سارے واقعے کے بعد بھی مذاکرات جاری رکھنے اور چیئرمین کے بھارت سے واپس نہ آنے کے فیصلے پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پی سی بی خدارا بھارت کے ترلے کرنا بند کرے۔ اگر وہ نہیں کھیلنا چاہتے تو بھاڑ میں جائیں۔‘