کیا سعید اجمل ماضی کا حصہ بن چکے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم تین سال قبل پاکستان کے مقابلے پر آئی تو وہ ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی نمبر ایک ٹیم تھی لیکن تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں اسے وائٹ واش کی خفت سے دوچار ہونا پڑا تھا۔
انگلینڈ کی ٹیم کو اس شکست سے دوچار کرنے میں والے آف سپنر سعید اجمل تھے جنھوں نے سیریز میں 24 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
انگلینڈ کی ٹیم تین سال بعد ایک بار پھر پاکستان کے مقابلے پر ہے لیکن اب منظر بدل چکا ہے۔
انگلینڈ نہ عالمی نمبر ایک ٹیم ہے اور نہ ہی پاکستانی ٹیم میں سعید اجمل موجود ہیں۔
انگلینڈ کی ٹیم کبھی نہ کبھی دوبارہ عالمی نمبر ایک بننے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن کیا سعید اجمل انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آ کر پہلے جیسا فتح گر بننے میں کامیاب ہو سکیں گے؟
اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے شاید سعید اجمل کے پاس بھی نہیں۔
درحقیقت سعید اجمل کے لیے مشکلات تین سال قبل انگلینڈ کے خلاف سیریز کے موقع پر ہی شروع ہوگئی تھیں جب انگلینڈ کے سابق فاسٹ بولر باب ولس نے کمنٹری کے دوران سعید اجمل کی مشہور اور مؤثر گیند’دوسرا‘ کو مشکوک قرار دیا تھا جس کے بعد ان کے بولنگ ایکشن کے بارے میں بحث شروع ہوگئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
گذشتہ سال انگلش کرکٹرز سٹورٹ براڈ اور مائیکل وان نے ٹوئٹر پر سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کا خاصا مذاق اڑایا تھا لیکن پاکستانی کرکٹ اور خود سعید اجمل کے لیے کٹھن وقت وہ تھا جب وہ آئی سی سی کی جانب سے مشکوک بولنگ ایکشن کے خلاف شروع ہونے والے کریک ڈاؤن کی زد میں آگئے۔
سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو قواعد و ضوابط کے مطابق کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق آف سپنر ثقلین مشتاق کی خدمات حاصل کیں اور سعید اجمل کے متعدد بائیو مکینک ٹیسٹ بھی کرائے لیکن تبدیل شدہ بولنگ ایکشن کے ساتھ سعید اجمل پہلے جیسے موثر ثابت نہیں ہو سکے کیونکہ نئے بولنگ ایکشن کے ساتھ ان کی سب سے خطرناک گیند ’دوسرا‘ اپنا اثر کھو بیٹھی۔
تبدیل شدہ بولنگ ایکشن کے ساتھ ان کی واپسی بنگلہ دیش کے دورے میں ہوئی لیکن پہلے ہی ون ڈے میں انھیں 74 رنز دینے کے باوجود کوئی وکٹ نہ ملی جبکہ دوسرے ون ڈے میں انھوں نے 49 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔
اسی دورے میں وہ ایک ٹی ٹوئنٹی بھی کھیلے لیکن اس میں بھی وہ خاص تاثر نہ چھوڑ سکے۔

،تصویر کا ذریعہgetty
سعید اجمل نے اس سال ووسٹر شائر کی طرف سے کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیلی لیکن آٹھ فرسٹ کلاس میچوں میں وہ 55 کی بھاری اوسط سے صرف 16 وکٹیں حاصل کر پائے جس میں ہمپشائر کے خلاف اننگز میں پانچ اور میچ میں آٹھ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی شامل تھی لیکن اس کے بعد تین ایسی اننگز بھی آئیں جن میں ان کی بولنگ پر سو سے زیادہ رنز بنے اور وہ کاؤنٹی کا اعتماد کھو بیٹھے۔
سعید اجمل کی پاکستانی ٹیم میں واپسی کا انحصار حالیہ ٹی ٹوئنٹی کپ میں ان کی کارکردگی پر تھا لیکن چار میچوں میں صرف دو وکٹوں کی غیرتسلی بخش کارکردگی نے سلیکٹرز اور خود اجمل کی مایوسی میں اضافہ کر دیا۔
سعید اجمل اگرچہ ذرائع ابلاغ میں ریٹائرمنٹ کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے پاکستانی ٹیم میں واپسی کی بات کرتے ہیں لیکن حقیقت اس سے برعکس ہے۔ انھیں اپنی افادیت کھونے کا یقیناً اندازہ ہو چکا ہے۔
اب سوال صرف یہ ہے کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں باضابطہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے رخصتی کا موقع فراہم کرے گا یا یہ سمجھ لیا جائے کہ سعید اجمل اپنا آخری بین الاقوامی میچ کھیل چکے۔



