یوسین بولٹ ایک بار پھر سو میٹر کے عالمی چیمپیئن بن گئے

،تصویر کا ذریعہGetty
چین کے شہر بیجنگ میں جاری عالمی ایتھلیٹکس مقابلوں میں مردوں کے سو میٹر کی دوڑ مشہور ایتھلیٹ اور اولمپک چیمپیئن جمیکا کے یوسین بولٹ نے جیت لی ہے۔
اتوار کو ہونے والے مقابلے میں 29 سالہ بولٹ یہ فاصلہ 9.79 سیکنڈ میں طے کر کے عالمی چیمپیئن بنے۔
ان کے قریب ترین حریف امریکہ کے 33 سالہ جسٹن گیٹلن رہے جنھوں نے مقررہ فاصلہ 9.80 سیکنڈز میں طے کیا اور چاندی کا تمغہ جیتا۔
سونے اور چاندی کے تمغے کے حقداروں کا فیصلہ فوٹو فنش کے ذریعے کیا گیا۔
امریکہ کے ہی ٹریون برومل اور کینیڈا کے آندرے ڈی گریس 9.911 سیکنڈز کے ساتھ کانسی کے تمغے کے حقدار قرار پائے۔
یہ ایتھلیٹکس کے عالمی مقابلوں میں بولٹ کا نواں طلائی تمغہ ہے۔ ان نو تمغوں میں سے تین انھوں نے سو میٹر کی دوڑ میں حاصل کیے ہیں اور امریکہ کے کارل لوئیس اور مورس گرین کا ریکارڈ برابر کر دیا۔
فائنل میں بولٹ اور ان کے حریف امریکہ کے جسٹن گیٹلن کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا لیکن سیمی فائنل میں بجھی بجھی سے کارکردگی کے برعکس بولٹ اسی فارم میں نظر آئے جس کے لیے وہ مشہور ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
فتح کے بعد بولٹ نے کہا کہ ’میرے لیے یہ جیت بہت معنی رکھتی ہے۔ میں سارے سیزن تکلیف کا شکار رہا ہوں۔ مجھے کارکردگی بہتر بنانے میں وقت لگا ہے۔میری کارکردگی اوپر نیچے ہوتی رہی لیکن اب وہ ٹھیک ہے۔‘
اتوار کو ہی ہونے والی سیمی فائنل دوڑ میں یوسین بولٹ اگرچہ 9.96 سیکنڈز میں اپنی ہِیٹ جیتنے میں کامیاب رہے تھے لیکن ان کی کارکردگی کو اس معیار کا قرار نہیں دیا گیا تھا جس کے لیے وہ دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں۔
بولٹ کے برعکس جسٹن گیٹلن نے سیمی فائنل میں سو میٹر کا فاصلہ 9.77 سیکنڈز میں طے کر کے بولٹ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔
بولٹ اور گیٹلن کی یہ سو میٹر کی دوڑ میں بولٹ اور گیٹلن کا یہ مقابلہ ایتھلیٹکس میں اعزازات حاصل کرنے والے ایتھلیٹس کی جانب سے ممنوعہ ادویات کے استعمال کی حالیہ خبروں کے بعد بھی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔
جہاں یوسین بولٹ پر کبھی بھی اس قسم کی قوت بخش ادویہ کے استعمال کا الزام نہیں لگا وہیں جسٹن گیٹلن ایسی ادویات کے استعمال کرنے کی وجہ سے پابندی کا شکار رہ چکے ہیں۔
گیٹلن نے سنہ 2004 اولمپکس اور 2005 کی عالمی چیمپیئن شپ میں 100 میٹر دوڑ میں طلائی کا تمغہ جیتا تھا لیکن وہ 2006 سے 2010 تک دو بار ممنوعہ ادویات کےاستعمال کی وجہ سے پابندیوں کا سامنا کر چکے ہیں۔
ریس جیتنے کے بعد اس سوال پر کہ وہ خود کو ایتھلیٹکس کی دنیا کو بچانے والا فرد قرار دیے جانے پر کیا کہتے ہیں، بولٹ نے کہا کہ ’میں جانتا ہوں کہ مجھے یہ خطاب کیوں ملا ہے لیکن یہاں میں اپنے لیے بھی جیتنا چاہتا تھا۔ یہ میرے لیے بہت بڑی بات تھی۔‘



