پاکستانی ٹیم چیمپینز ٹرافی سے قریب تر

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بھی اس وقت ایک ایک جیت کی اشد ضرورت ہے جو اسے چیمپینز ٹرافی میں لے جائے۔
سری لنکا کو تیسرے ون ڈے میں 135 رنز سے ہرانے کے بعد پاکستانی ٹیم آئی سی سی ایونٹ کے مزید قریب آگئی ہے۔
پاکستانی ٹیم کو کولمبو کا پریماداسا سٹیڈیم راس آ چکا ہے۔ اس میدان میں یہ اس کی 22ویں ون ڈے میں بارہویں کامیابی ہے اور یہ چوتھا موقع ہے کہ اس نے اس میدان میں تین سو سے زائد رنز بناکر اس کا کامیابی سے دفاع کیا ہے۔
پریما داسا میں اب تک کوئی بھی ٹیم تین سو کا ہدف عبور نہیں کر سکی ہے۔
سری لنکا نے اس میچ میں کوئی تبدیلی نہیں کی البتہ پاکستان کو محمد حفیظ پر بولنگ کی پابندی کے سبب عماد وسیم کی شکل میں لیفٹ آرم سپنر ٹیم میں لانے کے لیے بابراعظم کو باہر بٹھانا پڑا۔
اینجیلو میتھیوز پاکستانی ٹیم کے اس دورے میں مسلسل چھٹا ٹاس ہارے ہیں۔
اظہرعلی اور احمد شہزاد نے 93 رنز کی مضبوط بنیاد رکھی ۔
احمد شہزاد نے نصف سنچری سے چھ رنز کی دوری پر ڈیپ مڈوکٹ پر کیچ کی پریکٹس کراتے ہوئے اپنی وکٹ گنوائی۔
اظہرعلی کو دوسرا رن لینے کی کوشش میں وکٹوں کے درمیان رکنے کی قیمت رن آؤٹ کی صورت میں چکانی پڑی۔ وہ ایک رن کی کمی سے نصف سنچری مکمل نہ کر سکے البتہ وہ ون ڈے میں تیز ترین ایک ہزار رنز بنانے والے پاکستانی بیٹسمین بن گئے۔
محمد حفیظ نے بھی نصف سنچری سکور کرنے کے بعد ڈیپ مڈ وکٹ پر کیچ دے کر پویلین کی راہ لی۔
سرفراز احمد نے ایک بار پھر دی گئی ذمہ داری کو بھرپور انداز میں نبھایا۔
درحقیقت یہ انہی کی شاندار بیٹنگ تھی جس نے پاکستانی ٹیم کے لیے ایک بڑے سکور تک پہنچنے کا راستہ کھولا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
چوتھے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے انہوں نے ایک سو چار کے سٹرائیک ریٹ سے سات چوکوں کی مدد سے77 رنز بنائے۔
شعیب ملک اور محمد رضوان کی ناقابل شکست نصف سنچری شراکت سکور کو 316 تک لے آئی۔
پاکستانی بیٹسمینوں نے آخری 10 اوورز میں 93 رنز بٹورے جس میں لستھ مالنگا سب سے زیادہ لپیٹ میں آئے اور انہوں نے 10 اوورز کا اختتام 80 رنز پر کیا۔
سری لنکا کی ٹیم 317 تک پہنچنے کے لیے کوشل پریرا کے ’ جے سوریا اسٹائل‘ پر نظریں لگائے بیٹھی تھی جنہوں نے گذشتہ میچ میں گیند کے ساتھ انتہائی بے رحمانہ سلوک کیا تھا لیکن اس مرتبہ انور علی کی گیند پر سرفراز احمد کے غیر معمولی کیچ نے انہیں صرف 20 رنز پر پویلین کا راستہ دکھادیا۔
اس سے قبل تلکارتنے دلشن بھی14 رنز بناکر انور علی کی وکٹ بنے تھے ۔
سری لنکا کے لیے مشکل گھڑی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کیونکہ سرفراز احمد کی مستعدی نے یاسر شاہ کو اپنے پہلے ہی اوور میں تھارنگا کی وکٹ دلا دی ۔
یاسر شاہ کا اگلا وار بھی کم مہلک نہ تھا جس میں انہوں نے اپنے تیسرے اوور میں کپتان میتھیوز کو لانگ آف پر شعیب ملک کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
میزبان ٹیم کی آخری امیدیں تھری مانے اور چندی مل سے وابستہ رہ گئی تھیں لیکن اپنا پہلا ون ڈے کھیلنے والے عماد وسیم نے چندی مل کو بولڈ کر کے پاکستانی ٹیم کو جیت کے مزید قریب کردیا۔
تھری مانے نے نصف سنچری بناکر سرفراز احمد کو کیچ دے کر راحت علی کا کھاتہ بھی کھلوا دیا ۔
تماشائیوں کی ہنگامہ آرائی کے سبب کھیل کچھ دیر روکنا پڑا لیکن اس وقت تک میزبان ٹیم سات وکٹیں گنواکر نوشتۂ دیوار پڑھ چکی تھی۔
سکیورٹی سٹاف کی جانب سے حالات پر قابو پانے کے بعد جب کھیل دوبارہ شروع ہوا تو پاکستانی ٹیم نے ضابطے کی کارروائی نمٹاتے ہوئے بچ جانے والی تینوں وکٹیں حاصل کر ڈالیں جن میں سے دو یاسر شاہ نے انور علی کے شاندار کیچ کی مدد سے اپنے آخری اوور میں حاصل کر کے اپنی بولنگ کا اختتام 29 رنز کےعوض چار وکٹوں پر کیا جو ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کی بہترین انفرادی بولنگ ہے۔



