فیفا کرپشن: سوئس بینکوں کا ’ممکنہ منی لانڈرنگ‘ کا انکشاف

سوئس اٹارنی جنرل مائیکل لیوبر کا کہنا ہے کہ یہ کیس سوئس بینکوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسوئس اٹارنی جنرل مائیکل لیوبر کا کہنا ہے کہ یہ کیس سوئس بینکوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے ہیں

سوئس استغاثہ سنہ 2018 اور سنہ 2022 کے فیفا عالمی کپ مقابلوں کی میزبانی سونپنے کے معاملے میں ممکنہ منی لانڈرنگ کے 53 کیسوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔

سوئس اٹارنی جنرل مائیکل لیوبر کا کہنا ہے کہ یہ کیس سوئس بینکوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے ہیں۔

<link type="page"><caption> روس اور قطر کی ورلڈ کپ کی میزبانی کو خطرہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/06/150607_fifa_qatar_russia_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’جنوبی افریقہ میں عالمی کپ کی میزبانی کے لیے رشوت لی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/06/150603_chuck_blazer_bribe_fifa_sh.shtml" platform="highweb"/></link>

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس تفتیش میں فیفا کے منجمد کیے گئے ’بڑی تعداد‘ پر مشتمل ڈیٹا کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔

سوئس تفتیش کاروں کے علاوہ امریکہ میں بھی فیفا میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ سنہ 2018 اور سنہ 2022 کے فٹبال عالمی کپ مقابلوں کی میزبانی بالترتیب روس اور قطر کو سونپی گئی تھی۔

تاہم فیفا اہلکار ڈومینکو سکالا کا کہنا ہے کہ اگر رشوت کے ثبوت سامنے آ گئے تو میزبانی کا حقوق ختم کیے جا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ زیورخ میں ایک ہوٹل میں پولیس چھاپے کے بعد فیفا کے سات اہم اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا جس کے بعد فیفا بدعنوانیوں کے الزامات میں گھر گئی ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کی درخواست پر ان سات اہکاروں کو حراست میں لیا گیا تھا اور اس نے 14 موجودہ اور سابقہ فیفا اہلکاروں اور ان کے معاونین پر بدعنوانی کے سنگین مقدمات قائم کیے تھے۔

ان مقدمات کے بعد ایف بی آئی کی جانب سے تین سال کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

سوئس تفتیش کاروں کے علاوہ امریکہ میں بھی فیفا میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کی جارہی ہیں

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنسوئس تفتیش کاروں کے علاوہ امریکہ میں بھی فیفا میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کی جارہی ہیں

اس کے علاوہ مئی میں سوئس استغاثہ کی جانب سے بھی الگ سے سنہ 2018 اور سنہ 2022 کے عالمی کپ مقابلوں سے متعلق ’نامعلوم افراد کے خلاف مجرمانہ بدانتظامی اور منی لانڈرنگ‘ کی تحقیقات کا آغاز کیا۔

تاحال سوئس حکام کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کے بارے میں ایف بی آئی کی تحقیقات کے مقابلے میں بہت کم معلومات سامنے آئی ہیں۔

مائیکل لیوبر نے نیوزکانفرنس میں بتایا کہ تحقیقات ’کئی سطحوں پر بہت طویل اور پیچیدہ‘ ہیں اور اس کے لیے خاصا وقت صرف ہو گا۔

مائیکل لیوبر نے تحیقات میں فیفا کے صدر سیپ بلیٹر سے پوچھ گچھ کے امکان کو رد نہیں کیا۔

واضح رہے کہ سیپ بلیٹر نے خود پر عائد بدعنوانی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اس ماہ کے شروع میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

مائیکل لیوبر کا کہنا تھا کہ ان کی تحقیقات کا ایف بی آئی کی جانب سے کی جانے والی تحیقات سے تعلق نہیں ہے اور اس حوالے سے ڈیٹا بھی شیئر نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا: ’فٹبال کی دنیا کو صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہ تحقیقات واضح طور پر معروف 90 منٹ سے زیادہ وقت لیں گی۔‘