’کون اظہر علی، کیا کرکٹ، ہم نہیں جانتے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شیراز حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
بنگلہ دیش نے ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو تین صفر سے شکست دے کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔
پہلے دو میچوں کے بعد پاکستانی شائقینِ کرکٹ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ تیسرے اور آخری میچ میں پاکستانی ٹیم بہتر کارکردگی دکھا کر رہی سہی ساکھ قائم رکھنے میں کامیاب ہوجائے گی، تاہم بنگلہ دیشی کھلاڑی بیٹنگ اور بولنگ دونوں میدان میں حاوی رہے۔
آج دن بھر پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش، اظہر علی، تیسرا ایک روزہ میچ، حفیظ، سمیع اسلم اور کرکٹ سے متعلق دیگر کئی ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرتے رہے۔
بنگلہ دیش کی تاریخی فتح کے بعد سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی شکست کا چرچا رہا۔
ایک بھارتی صحافی وینکت آنند نے سنچری بنانے والے بنگلہ دیشی بلے باز کے بارے میں لکھا ‘اب کی بار۔۔۔ سومایا سرکار‘
بنگلہ دیش کے رٹوک اشمام کہتے ہیں: ’ہمیں خواہ چھوٹی ٹیم کہہ کر پکارا جائے لیکن یہ بات بالکل درست ہے کہ جتنا جذبہ ہماری ٹیم میں اتنا شاید ہی کسی اور ٹیم میں ہو‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
پاکستان سے یونس شاہ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’اس بار بنگہ دیش نے بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا، وہ یقینا فتح کے حق دار تھے۔‘
ڈھاکہ سے سکندر عزل لکھتے ہیں کہ ’بنگلہ دیش نے یہ کر دکھایا، اب ٹائیگرز کا اگلا شکار کون ہو گا؟‘
پاکستان کرکٹ بورڈ کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی بنگلہ دیش کی سیریز میں فتح پر مبارک باد کا پیغام بھیجا گیا۔
دوسری جانب پاکستانی شائقین کرکٹ کی جانب سے بھی پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی پر پی سی بی اور کوچ وقار یونس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
محمد وسیم پی سی بی سے سوال کرتے ہیں کہ ’یہ کیا تھا؟ آپ اس کو ایک ٹیم کہتے ہیں؟۔۔۔ بنگلہ دیش کے خلاف اس سے بہتر تو آئرلینڈ کی ٹیم کھیلتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
پہلی بار کپتانی کرنے والے اظہر علی کے بارے میں ملے جلے خیالات شیئر کیے گئے۔ کچھ لوگوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اظہر علی اچھے کپتان ثابت ہو سکتے ہیں اور کچھ کا خیال تھا کہ وہ شکست کے ذمہ دار ہیں۔ تاہم پی سی بی اور کوچ عوامی غم و غصے کا زیادہ مرکز رہے۔
حفظہ نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا۔۔۔ ‘کون اظہر علی، کون حفیظ، کون اجمل اور کیا کرکٹ، ہم کسی کو نہیں جانتے۔‘
حمزہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی خراب کارکردگی کا موازنہ پاکستان کی خستہ حال ہاکی ٹیم سے کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہاکی فیڈریشن کے نجم سیٹھی اور وقار یونس کون تھے؟‘
محمد بلال صدیقی بھی پی سی بی سے شکوہ کرتے ہیں یہ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم نہیں تھی جسے میں جانتا تھا۔
بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے اسلام سوہان کہتے ہیں: ’پاکستان کو برا مت کہو، یہ کہو کہ بنگلہ دیش بہت اچھا کھیلا۔‘






