تھک گئے تو کیا ہوا، رینگ کر ہی میراتھن مکمل کر لی

،تصویر کا ذریعہunknown
میراتھن مکمل کرنا آسان کام نہیں ہے لیکن ذرا ہاتھوں اور پاؤں کی مدد سے رینگ کر منزل تک پہنچنا تصور کیجیے؟ یہی کینیا کی ایتھلیٹ ہیوون نگیٹچ نے اتوار کو کیا۔
29 سالہ ایتھلیٹ امریکی ریاست ٹیکساس میں منعقدہ آسٹن میراتھن کے دوران دوڑ میں سب سے آگے تھیں جب 23 میل فاصلہ طے کرنے کے بعد تھکن ان پر حاوی آگئی۔
جب وہ مزید دوڑ نہ سکیں تو انھیں ویل چیئر استعمال کرنے کی پیش کش کی گئی جسے انھوں نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ ’مجھے دوڑ مکمل کرنے دی جائے‘۔ آخرکار انھوں نے اختتامی 400 میٹر رینگتے ہوئے طے کیے اور پھر بھی تیسرے نمبر پر رہیں۔
اس سے بڑھ کر یہ کہ انھیں اپنا رینگنا یاد نہیں ہے۔
نگیٹچ نے بی بی سی کو بتایا ’مجھے یاد نہیں کہ اختتامی لمحات میں کیا ہوا تھا۔ اور مجھے اختتامی حد دکھائی نہیں دی۔‘
میراتھن دیکھنے والوں کی جانب سے ان کا نام پکارنا اور دوڑ کے اختتام تک ان کی حوصلہ افزائی کرنا بھی انھیں یاد نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہunknown
’میں نے پوچھا تھا کیا میں نے دوڑ مکمل کی؟ انھوں نے کہا ہاں اور یہ رہا آپ کا میڈل۔‘
پھر میں نے کہا ’نہیں، میں نے دوڑ مکمل نہیں کی۔ اور پھر انھوں نے مجھے میری رینگتے ہوئے تصویریں دکھائیں۔‘
وہ بظاہر آٹو پائلٹ موڈ میں چلی گئی تھیں اور اپنی تصویریں دیکھنے کے بعد تھوڑا بہت یاد کر سکیں کہ کیا ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہunknown
’پھر مجھے اپنے گھٹنوں میں درد محسوس ہوا اور مجھے احساس ہوا کہ کچھ ہوا ہے۔‘
ان کی غیرمعمولی جرات نے منتظمین کو بھی متاثر کیا اور انھوں نے ہیوون نگیٹچ کو دوسری پوزیشن کے برابر انعامی رقم سے نوازا۔



