سہیل خان ورلڈ کپ کے سب سے خوش قسمت کرکٹر

سہیل خان 30 سال کے ہیں اور قومی سطح پر کرکٹ کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسہیل خان 30 سال کے ہیں اور قومی سطح پر کرکٹ کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام, کراچی

ورلڈ کپ کے لیے سلیکشن کی آنکھ مچولی میں جس کھلاڑی کی قسمت خوب جاگی ہے وہ تیز رفتار بولر سہیل خان ہیں جنہیں ٹیم میں شامل کرنے کے مطالبے اگرچہ مختلف حلقوں کی طرف سے کیے جارہے تھے لیکن آخر وقت تک کسی کو بھی یہ یقین نہ تھا کہ وہ پندرہ رکنی سکواڈ کا حصہ بننے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

سہیل خان ورلڈ کپ کے پلان میں دور دورتک شامل نہ تھے اور اندازوں اور قیاس آرائیوں کے چوکے چھکوں میں سہیل تنویر انور علی اور بلاول بھٹی کے نام ہی سننے کو مل رہے تھے لیکن سلیکشن کمیٹی نے اس بات کو اہم جانا کہ اسپیشلسٹ اور حقیقی فاسٹ بولرز ہی ٹیم کی ضرورت ہیں اور یوں قرعہ فال سہیل خان کے نام نکل آیا۔

سہیل خان اس وقت کراچی میں جاری پنٹنگولر کپ ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ میں بہت ہی عمدہ بولنگ کر رہے ہیں۔ انھوں نے سندھ کی طرف سے کھیلتے ہوئے بلوچستان کے خلاف میچ میں 46 رنز کے عوض چھ وکٹیں حاصل کیں۔

سہیل خان نے اسی سیزن کی قائداعظم ٹرافی میں بھی شاندار بولنگ کرتے ہوئے چونسٹھ وکٹیں حاصل کی ہیں جن میں چھ مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹ اور تین مرتبہ میچ میں دس وکٹوں کی غیرمعمولی کارکردگی قابل ذکر ہے۔

30 سالہ سہیل خان تیز رفتار بولر ہیں پہلی بار پاکستانی ٹیم میں منتخب نہیں ہوئے ہیں لیکن آخری لمحات میں ورلڈ کپ کا حصہ بننے پر وہ شہ سرخیوں میں آگئے ہیں۔

سہیل خان دو ٹیسٹ پانچ ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں لیکن یہ سب کچھ سنہ 2008 سے سنہ 2011 کے درمیان رہا۔

سہیل خان کا تعلق مالاکنڈ سے ہے لیکن انھوں نے اپنی تمام تر کرکٹ کراچی میں کھیلی ہے۔

انہیں راشد لطیف کی دریافت کہا جاتا ہے جنہوں نے انہیں اچھا کرکٹر بنانے پر بہت محنت کی ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر محمد علی شاہ مرحوم کی حوصلہ افزائی بھی سہیل خان کے ساتھ رہی ہے۔

سہیل خان نے سنہ 2007 میں فرسٹ کلاس کرکٹ کی ابتدا دھواں دار انداز میں کی اور سوئی گیس کی طرف سے کھیلتے ہوئے قائداعظم ٹرافی کے پہلے نو میچز میں 65 وکٹیں حاصل کرڈالیں جن میں آٹھ مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں اور دو مرتبہ میچ میں دس وکٹیں شامل تھیں ۔ سب سےاہم بات یہ کہ انھوں نے 179 رنز کے عوض 16 وکٹیں حاصل کر کے فضل محمود کا 76 رنز کے عوض 15 وکٹوں کا قومی ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

اس شاندار کارکردگی نے سہیل خان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے فوراً کھول دیے اور وہ زمبابوے کےخلاف فیصل آباد کے ون ڈے میں شامل کرلیے گئے تاہم اس میچ میں وہ کوئی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے۔انھیں اسی سال بنگلہ دیش کے خلاف دو ون ڈے میچوں میں موقع دیا گیا انھوں نے ملتان میں تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ کینیڈا کے دورے میں کھیلےگئے ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں وہ کینیڈا کے خلاف میچ کسی قابل ذکر کارکردگی کے بغیر کھیلے۔

سنہ 2009 میں پاکستان کا دورہ کرنے والی سری لنکا کی ٹیم کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں سہیل خان کو ٹیسٹ کیپ دی گئی لیکن وہ دونوں اننگز میں 164 رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔ یہ وہی ٹیسٹ میچ ہے جس میں یونس خان نے ٹرپل سنچری سکور کی تھی۔

سہیل خان کو آخری بار پاکستان کی نمائندگی کا موقع سنہ 2011 میں زمبابوے کے دورے میں ملا جس کے بعد ان کی کرکٹ ڈومیسٹک میچوں تک محدود ہوکر رہ گئی۔

سہیل خان دو سال سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں پورٹ قاسم اتھارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں اور سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا ہے کہ سہیل خان کو ایک اچھا بولر بننےمیں وقت لگا ہے ان کی بولنگ میں نمایاں بہتری آئی ہے ان کی لینتھ بہتر ہوئی ہے اور انھوں نے آؤٹ سوئنگ پر بھی مہارت پیدا کی ہے وہ فٹ ہیں۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی آب و ہوا اور ماحول سے جتنا جلد وہ اپنے آپ کو مانوس کر لیں یہ اتنا ہی ان کے لیے اور ٹیم کے مفید ہو گا۔