کامیابیوں کا سورج شارجہ میں غروب ہوگیا

پاکستانی ٹیم کی اس شکست کی بنیادی وجہ بیٹسمینوں کی ناکامی بنی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی ٹیم کی اس شکست کی بنیادی وجہ بیٹسمینوں کی ناکامی بنی ہے۔
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف تین مسلسل کامیابیوں کے بعد اگلے دو ٹیسٹ میچوں میں بالکل مختلف روپ میں دکھائی دی۔

دبئی میں وہ ممکنہ شکست کے خطرے کو ٹالنے میں کامیاب ہوگئی تھی لیکن شارجہ میں شکست نے بالآخر اسے اپنے شکنجے میں جکڑ ہی لیا۔

نیوزی لینڈ نے اننگز اور 80 رنز کی جیت سے نہ صرف سیریز برابر کر دی بلکہ پاکستانی ٹیم کو عالمی رینکنگ میں تیسرے سے چوتھے نمبر پر دھکیل دیا ہے ۔

پاکستانی ٹیم کی اس شکست کی بنیادی وجہ بیٹسمینوں کی ناکامی بنی ہے۔

یہ وہی بیٹسمین ہیں جنہوں نے آسٹریلیا کے خلاف دونوں ٹیسٹ اور پھر نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں رنز کے انبار لگادیے تھے لیکن آخری دو ٹیسٹ میچوں میں وہ نیوزی لینڈ کے بڑے سکور کا جواب دینے میں ناکام رہے ۔

شارجہ ٹیسٹ کا نتیجہ تیسرے ہی دن ظاہر ہوگیا تھا اور یہ صرف اسی صورت میں تبدیل ہوسکتا تھا اگر پاکستانی بیٹسمین دو دن تک کریز پر کھڑے رہ کر نیوزی لینڈ کے بھاری سکور کے جواب میں اتنا ہی سکور کرتے لیکن چوتھے دن وکٹیں گرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ شکست پر ہی آ کر رکا۔

اسد شفیق کی سنچری نے خود انہیں اعتماد ضرور دیا لیکن یہ اننگز نتیجہ تبدیل کرنے کے لیے ناکافی ثابت تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک اچھی اننگز کھیل کر وہ جس شاٹ پر آؤٹ ہوئے اس نے ان کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔

شاید وہ یہ سوچ کر آئے تھے کہ جتنی بھی بیٹنگ ہے وہ بس آج ہی کے لیے ہے۔

شان مسعود نے ایک سے زائد بار یہ ثابت کردیا کہ وہ اپنی تکنیک اور ٹمپرامنٹ کے اعتبار سے ٹیسٹ کرکٹ کے معیار سے بہت دور ہیں۔

سلیکٹرز انہیں کافی مواقع دے چکے اور اب انہیں مزید موقع دینا کسی دوسرے باصلاحیت اوپنر کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

اظہرعلی اور یونس خان کا یکے بعد دیگرے آؤٹ ہونا پاکستانی ٹیم کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا۔ بہت ہی کم ایسا ہوا ہے کہ یونس خان جلدی حریف ٹیم کے قابو میں آئے ہوں۔

محمد حفیظ اور مصباح الحق کی وکٹیں گریں تو پاکستانی ٹیم کی بچنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی تھی۔اسد شفیق نے اپنے سامنے وکٹیں گرتی دیکھیں لیکن وہ رنز بناتے گئے اور پھر خود بھی لوٹ گئے۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ نے اپنی ٹیسٹ تاریخ کا سب سے بڑا سکور 690 رنز بنا کر پاکستانی ٹیم کو 339 رنز کے زبردست دباؤ میں لے لیا۔

پاکستانی بولرز سے ٹاپ آرڈر مک کیولم اور ولیم سن تو ایک طرف ٹیل اینڈرز بھی آؤٹ نہ ہوسکے اور ٹم ساؤدی کے بعد مارک کریگ نے بھی نصف سنچری جڑ دی۔

اس طرح نیوزی لینڈ کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ ایک اننگز میں چھ بیٹسمینوں نے نصف سنچری اور اس سے زائد رنز بنائے۔

نیوزی لینڈ نے اس اننگز میں بائیس چھکوں کے ساتھ نیا عالمی ریکارڈ بھی بنایا۔

اب دونوں ٹیمیں اسی متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں محدود اوورز کی سیریز میں مدمقابل ہوں گی جس کا آغاز دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سے ہوگا اور پھر پانچ ون ڈے میچز کھیلے جائیں گے۔