دبئی ٹیسٹ میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم

یونس خان کے آؤٹ ہونے کے بعد سرفراز کریز پر آئے ہیں اور جارحانہ انداز میں بیٹنگ کی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنیونس خان کے آؤٹ ہونے کے بعد سرفراز کریز پر آئے ہیں اور جارحانہ انداز میں بیٹنگ کی

دبئی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا میچ دلچسپ مقابلے کے بعد ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہو گیا۔

دوسرے ٹیسٹ میچ کے آخری دن نیوزی لینڈ نے دلیرانہ ڈیکلیریشن کے بعد پاکستان کو جیتنے کے لیے 72 اوورز میں 261 رنز کا ہدف دیا تھا۔

<link type="page"><caption> تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.com/sport/cricket/scorecard/89437" platform="highweb"/></link>

میچ کے اختتام پر پاکستان نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 196 رنز بنائے تھے جبکہ کریز پر اسد شفیق اور سرفراز احمد موجود تھے۔

اس سے پہلے چائے کے وقفے کے بعد یونس خان اور اسد شفیق نے قدرے تیز بلے بازی کی اور اسی کوشش میں یونس خان 44 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

یونس خان کے بعد پہلی اننگز میں سنچری سکور کرنے والے سرفراز احمد بیٹنگ کرنے آئے اور انھوں نے بھی جارحانہ انداز میں بیٹنگ کی۔

چائے کے وقفے سے پہلے پاکستان کی چوتھی وکٹ کپتان مصباح الحق کی گری جو صفر پر بولٹ کی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

توفیق عمر کا مایوس کن ٹیسٹ میچ جاری ہے اور وہ دوسری اننگز میں بھی ٹیم کو عمدہ آغاز فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ وہ دوسری اننگز میں صرف چار رنز بنا کر وکٹ کیپر واٹلنگ کے ہاتھوں فاسٹ بولر ٹم ساؤدی کا شکار بنے۔ ان کے بعد اظہر علی حسبِ معمول سست رفتاری سے کھیلتے ہوئے 74 گیندوں پر 34 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

راس ٹیلر کی عمدہ بلے بازی کی بدولت نیوزی لینڈ کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنراس ٹیلر کی عمدہ بلے بازی کی بدولت نیوزی لینڈ کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے

اس سے قبل نیوزی لینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں 250 رنز بنائے اور اس کے نو کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔ جمعے کو میچ کے آخری روز کی خاص بات راس ٹیلر کی شاندار سنچری اور پاکستانی سپنر یاسر شاہ کی پانچ وکٹیں تھیں۔ راس ٹیلر کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

ٹیلر نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 12ویں سنچری 12 چوکوں کی مدد سے مکمل کی، جب کہ یاسر شاہ نے 79 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

آخری دن کھیل کے آغاز میں ہی پاکستان نے ساتویں کامیابی حاصل کرنے کا موقع اس وقت گنوا دیا جب توفیق عمر راحت علی کی گیند پر سلپ میں مارک کریگ کا کیچ پکڑنے میں ناکام رہے۔

نیوزی لینڈ کی دوسری اننگز میں اب تک کپتان برینڈن میک کلم اور راس ٹیلر کے علاوہ باقی بلے باز متاثر کن کارکردگی نہیں دکھا سکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستانی سپنرز نے دوسری اننگز میں مہمان بلے بازوں کو پریشان کیے رکھا اور گرنے والی تمام وکٹیں سپنروں کے حصے میں ہی آئیں۔ یاسر کی پانچ وکٹوں کے علاوہ ذوالفقار بابر نے چار جب کہ اظہر علی نے ایک وکٹ حاصل کی۔

اس سے قبل میچ کے چوتھے دن پاکستانی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں سرفراز احمد کی عمدہ سنچری کی بدولت 393 رنز کا مجموعہ بنانے میں کامیاب رہی تھی اور یوں نیوزی لینڈ کو پہلی اننگز میں پاکستان پر دس رنز کی برتری ملی تھی۔

نیوزی لینڈ نے اس میچ میں ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کی پوری ٹیم میچ کے دوسرے دن 403 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان نے پہلا میچ جیت کر سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر رکھی ہے۔