کیا اونٹ پہاڑ کے نیچے آیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
دبئی ٹیسٹ کے دوسرے دن بھی پاکستانی بولرز کے لیے نیوزی لینڈ کی پہلی اننگز کو سمیٹنا آسان نہ رہا لیکن جب پاکستان کی بیٹنگ آئی تو دونوں اوپنرز کی وکٹیں جلد گرنے کے بعد اظہرعلی اور یونس خان کے سامنے وہی تصویر ہے جو آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں دونوں اوپنرز کے آؤٹ ہو جانے کے بعد تھی۔
تو کیا ان دونوں کی زبردست بیٹنگ فارم کا سلسلہ اس بار بھی جاری رہے گا۔
یہ تو تیسرے دن کے کھیل میں ہی دیکھنے کو ملے گا فی الحال دو دن کے کھیل کے بعد نیوزی لینڈ نے پہلی بار پاکستان کو دباؤ میں لیا ہوا ہے۔
<link type="page"><caption> تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/89437" platform="highweb"/></link>
نیوزی لینڈ کی ٹیم دوسرے دن دو مواقعوں پر دو دو وکٹیں جلد گنوانے کے باوجود سیریز میں پہلی بار پاکستانی بولنگ پر حاوی ہوتے ہوئے 400 کا سکور پارگئی ۔
کپتان مک کیولم بھی یہی چاہتے تھے کہ وہ ٹاس جیتیں اور ان کے بیٹسمینوں کو پہلے بیٹنگ کا موقع ہاتھ آسکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی بولرز نے دوسرے دن کی ابتدا اچھی کی تھی اور وہ ون ڈے انٹرنیشنل کے تیز ترین سنچری میکر کورے اینڈرسن اور اس میچ کے سنچری میکر ٹام لیتھم کی وکٹیں صرف آٹھ گیندوں پر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
ان دونوں کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ پاکستانی بولنگ برینڈن مک کیولم کی بڑا سکور کرنے کی خواہش پوری نہیں ہونے دے گی لیکن پھر اگلی وکٹ کے لیے پاکستانی ٹیم کو تقریباً پندرہ اوورز کا انتظار کرنا پڑگیا۔
جیمز نیشم اس اننگز میں یاسر شاہ کی دوسری وکٹ بنے تو بی جے واٹلنگ اور مارک کریگ بولرز کی جان کو آگئے جنہوں نے اگرچہ ساتویں وکٹ کی شراکت میں صرف اڑسٹھ رنز بنائے لیکن تقریباً اکتیس اوورز کریز پر گزارگئے۔
یہ شراکت طول نہ پکڑتی اگر راحت علی نو رنز کے انفرادی سکور پر مارک کریگ کا کیچ ڈراپ نہ کرتے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بولرز کے صبر کا امتحان لینے والی یہ شراکت جزوقتی بولر اظہرعلی کے ہاتھوں ٹی ٹوٹی جنہوں نے متبادل کی حیثیت سے فیلڈنگ کرنے والے جزوقتی فیلڈر حارث سہیل کی مدد سے واٹلنگ کو پویلین کی راہ دکھائی۔
پانچ گیندوں بعد مارک کریگ نے ذالفقار بابر کی گیند وکٹوں کےسامنے پیڈ پرلگنے کی وجہ سے وکٹ گنوائی اگرچہ اپنی وکٹ بچانے کے لیے انہوں نے ریویو کا سہارا بھی لیا لیکن تھرڈ امپائر کا فیصلہ بھی فیلڈ امپائر پال رائفل کے حق میں گیا۔
نیوزی لینڈ کی آخری پانچ وکٹوں نے سکور میں ایک سو پچیس رنز کا اضافہ کیا۔
پچھلے میچ میں جارحانہ نصف سنچری بنانے والے ایش سوڈھی کے ارادے اس بار بھی خطرناک دکھائی دیے تاہم آخری وکٹ گرنے کی وجہ سے وہ بتیس رنز پر ناٹ آؤٹ رہ گئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی بولرز کی ایک سو چھپن اوورز کی میراتھن بولنگ میں ذوالفقار بابر نے سب سے زیادہ پنتالیس اوورز کیے اور ایک بار پھر چار وکٹوں کے ساتھ وہ سب سے کامیاب بولر ثابت ہوئے۔
اس سیزن کے چار ٹیسٹ میچوں میں وہ اب تک 23 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔
ذوالفقاربابر کے ساتھی سپنر یاسر شاہ بھی کسی طور پیچھے نہیں ہیں اور ان کی وکٹوں کی تعداد 18 ہوچکی ہے۔
تین ٹیسٹ میچوں کے بعد پہلی بار فیلڈ میں پانچ مکمل سیشن گزارنے کے بعد جب پاکستانی بولرز نے نیوزی لینڈ کو آؤٹ کیا تو بیٹنگ کے لیے انیس اوورز بچے تھے لیکن اوپنرز شان مسعود اور توفیق عمر یہ اوورز نہ گزارسکے اور نیا پار لگانے کی ذمہ داری وہ ایک بار پھر یونس خان اور اظہرعلی کو سونپ گئے۔



