سپنرز کے سامنے آسٹریلوی دنیا اندھیر، پاکستان جیت گیا

ذوالفقار بابر نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنذوالفقار بابر نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی

آسٹریلوی کرکٹرز کا دنیا پر راج کرنے کا احساس تفاخر اس وقت اپنی حقیقت کھونے لگتا ہے جب وہ سپنرز کے سامنے بے بسی کی تصویر بن جاتے ہیں۔

دبئی ٹیسٹ میں سعید اجمل موجود نہیں تھے لیکن ذوالفقار بابر اور یاسر شاہ کی شاندار سپن بولنگ کے سامنے آسٹریلوی کرکٹرز کو اپنی دنیا گھومتی ہوئی نظر آئی۔

<link type="page"><caption> لائیو سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/89339" platform="highweb"/></link>

ان دونوں کی شاندار بولنگ نے پاکستان کو 221 رنز کی بیش قیمت جیت سے ہمکنار کردیا۔

آسٹریلوی ٹیم نے آخری دن زبردست مزاحمت کی جو تیسرے سیشن میں 216 رنز پر دم توڑگئی۔

پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے لیگ سپنر یاسر شاہ نے میچ میں سات وکٹیں حاصل کیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپہلا ٹیسٹ کھیلنے والے لیگ سپنر یاسر شاہ نے میچ میں سات وکٹیں حاصل کیں

ذوالفقار بابر نے اپنے تیسرے ٹیسٹ میں کریئر بیسٹ بولنگ کرتے ہوئے 74رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں۔

میچ میں انھوں نے 155 رنز کے عوض سات وکٹیں حاصل کیں۔

اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے یاسر شاہ نے دوسری اننگز میں پچاس رنز دے کر چار کھلاڑی آؤٹ کیے۔ میچ میں انھوں نے ایک سو سولہ رنز کے عوض سات وکٹیں حاصل کیں۔

آسٹریلیا کی 15 وکٹیں اس میچ میں سپنرز کی جھولی میں گریں۔

میچ کے چوتھے دن کرس راجرز اور سٹیو سمتھ بیٹنگ کے لیے آئے تو ان کے سامنے 379 رنز کا پہاڑ جیسا سکور تھا جسے پاکستانی سپنرز کے سامنے سر کرنا بہت مشکل دکھائی دے رہا تھا۔

پاکستان کو پہلی کامیابی کے لیے اٹھارہویں اوور تک انتظار کرنا پڑا جب عمران خان نے کرس راجرز کے دفاع میں شگاف ڈالا۔

وہ 43 رنز بناکر پویلین لوٹے تو آسٹریلیا کا سکور 92 رنز تھا لیکن پھر ذوالفقار بابر کے قصیدے پڑھے جانے لگے جنہوں نے پہلے مچل مارش اور پھر بریڈ ہیڈن کی وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلیا کے لیے زمین اور تنگ کردی۔

مچل مارش اپنے پہلے ٹیسٹ میں دوسری مرتبہ ذوالفقار بابر کا شکار ہوئے۔

انہیں صرف تین رنز پر قریب کھڑے اظہرعلی نے کیچ کیا۔

بریڈ ہیڈن نے جو عام طور پر بولرز کے صبر کا امتحان لینے میں شہرت رکھتے ہیں اس مرتبہ ترنوالہ ثابت ہوئے اور دس گیند کھیل کر صفر پر ذوالفقار بابر کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

آسٹریلیا کی ساتویں وکٹ ایک سو پانچ رنز پرگری۔

سمتھ اور مچل کے درمیان بننے والے پنسٹھ رنز آسٹریلوی اننگز کی سب سے بڑی شراکت کے طور پر درج ہوئے لیکن اس کا بڑا سبب پاکستانی ٹیم کی خراب فیلڈنگ تھی۔

سرفراز احمد نے سمتھ کو سٹمپ کرنے کا موقع ضائع کیا۔ مصباح الحق بھی ان کا کیچ لینے میں ناکام رہے۔

فاسٹ بولر عمران خان نے پانچویں روز کرس راجر کو آؤٹ کرکے پاکستان کو عمدہ آغاز فراہم کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفاسٹ بولر عمران خان نے پانچویں روز کرس راجر کو آؤٹ کرکے پاکستان کو عمدہ آغاز فراہم کیا

مچل جانسن کے دو کیچز احمد شہزاد اور یاسر شاہ نے چھوڑ دیے ۔

چاروں مرتبہ بدقسمت بولر ذوالفقار بابر تھے ۔

پاکستانی ٹیم نے اس وقت سکون کا سانس لیا جب یاسر شاہ نے پچپن رنز بنانے والے سٹیو سمتھ کو اسد شفیق کے ہاتھوں کیچ کرا دیا لیکن مچل جانسن آسانی سے پاکستانی بولرز کے ہاتھ آنے کے لیے تیار نہ تھے۔

آخری سیشن کے 29 اوورز میں پاکستانی ٹیم دو وکٹوں کے انتظار میں تھی۔

جانسن کی مزاحمت 61 کے انفرادی سکور پر ختم ہوئی وہ یاسرشاہ کی گیند پر سرفراز احمد کے ہاتھوں سٹمپ ہوئے۔

یہ اس اننگزمیں یاسر شاہ کی چوتھی وکٹ تھی۔

ذوالفقار بابر نے پیٹرسڈل کو اظہرعلی کے ہاتھوں کیچ کرا کر پاکستان کی جیت پر مہر تصدیق ثبت کردی۔