’مشکل حالات کے باوجود جیت یاد رہے گی‘

ثنا میر پاکستان کی واحد خاتون کرکٹر ہیں جنھوں نے اس سال لارڈز کی 200 ویں سالگرہ کے موقع پر ایم سی سی کے خلاف میچ میں ریسٹ آف دی ورلڈ الیون کی نمائندگی کی تھی اور عمدہ بولنگ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں تھیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنثنا میر پاکستان کی واحد خاتون کرکٹر ہیں جنھوں نے اس سال لارڈز کی 200 ویں سالگرہ کے موقع پر ایم سی سی کے خلاف میچ میں ریسٹ آف دی ورلڈ الیون کی نمائندگی کی تھی اور عمدہ بولنگ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں تھیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان ثنا میر مسلسل دوسری بار ایشیائی کھیلوں میں سونے کا تمغہ جیتنے کو کسی کارنامے سے کم نہیں سمجھتیں۔

پاکستان کی خواتین ٹیم نے ایشیائی کھیلوں کے فائنل میں بنگلہ دیش کو دلچسپ مقابلے میں چار رنز سے شکست دیکر اپنے ایشیئن اعزاز کا کامیابی سے دفاع کیا تھا۔

چار سال قبل چین میں منعقدہ ایشیائی کھیلوں کے فائنل میں بھی پاکستان کی خواتین ٹیم نے بنگلہ دیش کو دس وکٹوں سے ہرایا تھا۔

ثنا میر نے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ تازہ ترین جیت مشکل حالات میں حاصل ہونے کے سبب یاد رہے گی۔

’ایک مرحلے پر فائنل بنگلہ دیش کے حق میں جاتا ہوا دکھائی دے رہا تھا کیونکہ بارش کے سبب اسے سات اووروں میں صرف 43 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن بولروں نے بہت عمدہ بولنگ کی اور فیلڈنگ بھی بہت اچھی رہی، جس کے نتیجے میں تین رن آؤٹ کیے گئے اور یوں ٹیم ورک نے پاکستان کو سونے کا تمغہ جتوا دیا۔‘

ثنا میر نے کہا کہ اس بار ایشیائی مقابلوں میں مقابلے کا معیار چار سال کے مقابلے میں بہت بہتر تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ چار سال قبل بنگلہ دیش کی خواتین ٹیم بین الاقوامی کرکٹ میں نئی تھی لیکن اب وہ ایک اچھی ٹیم بن چکی ہے جس نے جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کو بھی ہرایا ہے۔

اس کے علاوہ سری لنکا کی ٹیم بھی ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ جیسی تجربہ کار ٹیموں کو ہرا کر اپنی موجودگی کا احساس دلا چکی ہے۔

کرکٹ ٹیم کی کپتان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم اس مرتبہ فیورٹ کی حیثیت سے ایشیائی کھیلوں میں گئی تھی جس کی وجہ سے اس پر اضافی دباؤ تھا لیکن تمام کھلاڑیوں نے اس دباؤ کو صحیح طریقے سے ہینڈل کیا۔

ثنا میر نے کہا کہ پاکستانی خواتین ٹیم کی محنت رنگ لا رہی ہے تاہم آج بھی وہ وہیں کھڑی ہے جہاں پہلے تھی کیونکہ پاکستان میں کوئی بھی بیرونی ٹیم آنے کے لیے تیار نہیں جس کی وجہ سے ریزرو کھلاڑیوں کو کھیلنے کے مواقع نہیں مل رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ آئندہ برس جنوری اور مارچ میں سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے خلاف دوحہ میں جو سیریز ہو رہی ہیں ان میں ریزرو اور نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا پورا موقع ملے گا جو سنہ 2016 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کو ذہن میں رکھتے ہوئے بہت اہم ہے۔

ثنا میر پاکستان کی واحد خاتون کرکٹر ہیں جنھوں نے اس سال لارڈز کی 200 ویں سالگرہ کے موقعے پر ایم سی سی کے خلاف میچ میں ریسٹ آف دی ورلڈ الیون کی نمائندگی کی تھی اور عمدہ بولنگ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی ساتھی کھلاڑیوں کی محنت سے حوصلہ ملتا ہے جبکہ ان کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنی ساتھی کرکٹرز کو حوصلہ دیں:

’ہماری ٹیم سات آٹھ سال سے اکٹھی ہے اور سب کھلاڑی چاہتی ہیں کہ ایسی کارکردگی دکھا کر جائیں کہ انھیں سب اچھے لفظوں میں یاد رکھیں۔‘