آسٹریلوی سیریز مصباح کے لیے آخری موقع نہیں: شہریار

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں شکست کی صورت میں مصباح الحق کو کپتانی سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
شہریار خان نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ سری لنکا کے خلاف شکست کے بعد مصباح الحق کو وارننگ دے دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ سری لنکا کے خلاف سیریز سے قبل مصباح الحق زبردست بیٹنگ فارم میں تھےاور صرف ایک سیریز کی خراب فارم کو بنیاد بنا کر انھیں کپتانی سے ہٹا دینا زیادتی ہوگی۔
شہریار خان نے کہا کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ سری لنکا اور آسٹریلیا صف اول کی ٹیمیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مصباح الحق سے ملاقات میں بھی انھوں نے یہ بات کہہ دی تھی کہ وہ انھیں کپتان دیکھنا چاہتے ہیں البتہ یہ ضرور پوچھا تھا کہ ان کا ’ فریم آف مائنڈ‘ کیا کہہ رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
شہریار خان نے کہا کہ جہاں تک مصباح کو کپتان برقرار رکھنے کے فیصلے کا تعلق ہے تو وہ ٹیم میں استحکام اور تسلسل پر یقین رکھتے ہیں اور انھیں توقع ہے کہ جب مصباح الحق کی کپتانی کا معاملہ کرکٹ کمیٹی کے پاس جائے گا تو وہ بھی ٹیم میں تسلسل کو اولیت دے گی۔
شہریار خان کا کہنا ہے کہ ممبئی بم دھماکوں سے پاک بھارت کرکٹ روابط بری طرح متاثر ہوئے۔ اس واقعے سے پہلے بھارت کے عام لوگوں میں پاکستانی کرکٹروں کے لیے محبت کے جذبات تھے لیکن اب ان کی سوچ میں بھی شدت آگئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی کرکٹروں کو آئی پی ایل میں نہیں بلایا جاتا کہ کہیں ان کے خلاف مظاہرے نہ ہوجائیں۔
شہریار خان نے واضح کر دیا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے بااختیار چیئرمین ہیں اور اس تاثر میں کوئی صداقت نہیں کہ وہ ڈمی چیئرمین ہیں اور تمام اہم فیصلے نجم سیٹھی صاحب پس پردہ رہ کر کر رہے ہیں۔
شہریار خان نے کہا کہ جسٹس قیوم رپورٹ کی روشنی میں انضمام الحق اور وقار یونس پر جرمانے ہوئے تھے اور وہ اس کے بعد کپتان اور کوچ بھی بنے لہٰذا مشتاق احمد کی سپن بولنگ کوچ کی حیثیت سے تقرری پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔



