بولرز کی محنت پر بلے بازوں نے پانی پھیر دیا

ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے مرلی دھرن کے بعد اب رنگانا ہیرتھ پاکستانی بلے بازوں کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے مرلی دھرن کے بعد اب رنگانا ہیرتھ پاکستانی بلے بازوں کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکے ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

بولرز کی محنت پر پانی پھیرنے میں پاکستانی بلے بازوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔

کولمبو ٹیسٹ میں سری لنکا کو320 پر آؤٹ کرنے کے بعد پاکستانی ٹیم نے ایک بڑا سکور کرنے کا موقع ٹاپ آرڈر بیٹنگ کی مایوس کن کارکردگی کے نتیجے میں گنوا دیا۔

جب ٹیسٹ کا دوسرا دن ختم ہوا تو پاکستان نے چھ وکٹوں پر صرف 244 رنز بنائے تھے۔

اس طرح وہ سری لنکا کے سکور سے اب بھی 75 رنز پیچھے ہے۔

صفِ اول کے سورما بلے بازوں کی ناکامی کے بعد وکٹ کیپر سرفراز احمد سیریز کی تیسری نصف سنچری مکمل کرتے ہوئے 66 رنز پر مزاحمت میں مصروف تھے۔

ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے مرلی دھرن کے بعد اب رنگانا ہیرتھ پاکستانی بلے بازوں کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکے ہیں۔ وہ پاکستانی اننگز میں گرنے والی چھ میں سے پانچ وکٹیں حاصل کرکے سری لنکا کو دوبارہ مقابلے پر لے آئے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کو ایک بار پھر اچھا آغاز نہ مل سکا۔ خرم منظور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں اور شاید وہ اس میچ کے بعد یہ گلہ کرنے میں بالکل حق بجانب نہیں ہوں گے کہ انھیں کیوں ڈراپ کر دیا گیا ہے؟۔

احمد شہزاد نے نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد لیگ سائیڈ کی گیند کھیلنے کی غلطی کی جس کا خمیازہ انھیں بھگتنا پڑا۔

اظہرعلی نے بھی غیرذمہ دارانہ شاٹ پر وکٹ گنوائی۔

یونس خان اور مصباح الحق جنھوں نے گال ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کی مشکلات کو کم کرنے کی کوشش کی تھی اس مرتبہ ڈریسنگ روم میں جلد واپس ہوئے۔ یونس خان 13 اور مصباح الحق صرف پانچ رنز بنا سکے۔

140 رنز پر پانچ وکٹیں گرجانے کے بعد اسد شفیق اور سرفراز احمد نے ٹوٹ پھوٹ کی مرمت شروع کی اور سکور میں قیمتی 93 رنز کا اضافہ کیا لیکن اسد شفیق نے ایک بار پھر سیٹ ہو کر بڑی اننگز کھیلنے کا موقع ضائع کردیا۔ وہ ہیراتھ کی اننگز میں پانچویں وکٹ بنے۔

سری لنکن بولرز اپنی وکٹوں کےلیے وکٹ کیپر دک ویلا کے ممنون تھے جنھوں نے چار کیچ لے کر اپنے بولرز کے حوصلے بلند رکھے۔

کولمبو ٹیسٹ کے دوسرے دن کا کھیل شروع ہوا تو وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔

خرم منظور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں اور شاید وہ اس میچ کے بعد یہ گلہ کرنے میں بالکل حق بجانب نہیں ہوں گے کہ انھیں کیوں ڈراپ کر دیا گیا ہے؟۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنخرم منظور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں اور شاید وہ اس میچ کے بعد یہ گلہ کرنے میں بالکل حق بجانب نہیں ہوں گے کہ انھیں کیوں ڈراپ کر دیا گیا ہے؟۔

پاکستانی بولرز نے سری لنکن ٹیل اینڈرز کو ’مفت کی عیاشی‘ کا پورا پورا موقع فراہم کردیا۔

میزبان ٹیم کی آخری دو وکٹوں نے سکور میں قیمتی 59 رنز کا اضافہ کیا۔

پاکستانی بولرز کو پہلی کامیابی کے لیے چھ اوورز کا انتظار کرنا پڑا جب جنیدخان دلرون پریرا کو ایل بی ڈبلیو کرنے میں کامیاب ہوئے۔

یہ جنید خان کی اننگز میں پانچویں وکٹ تھی وہ اپنے 18 ٹیسٹ میچوں میں پانچویں مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور یہ تمام کی تمام سری لنکا کے خلاف ہیں۔

ویلیگیدرا نے وہاب ریاض کی لگا تار تین گیندوں پر چوکے جڑے تو کپتان مصباح الحق ان کی جگہ عبدالرحمن کو لے آئے جنھوں نے رنگانا ہیرتھ کو یونس خان کے ہاتھوں کیچ کرا کر سری لنکا کی اننگز 320 رنز پر ختم کردی۔

یہ یونس خان کا ٹیسٹ کرکٹ میں 100 واں کیچ تھا اس طرح وہ ٹیسٹ کرکٹ میں فیلڈر کی حیثیت سے کیچ کی سنچری مکمل کرنے والے پہلے پاکستانی بنے ہیں۔