کولمبو ٹیسٹ میں ہیراتھ کی پانچ وکٹیں

سری لنکن سپنر ہیراتھ نے پانچ وکٹیں حاصل کیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسری لنکن سپنر ہیراتھ نے پانچ وکٹیں حاصل کیں

کولمبو ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز کھیل کے اختتام پر پاکستان نے پہلی اننگز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 244 رنز بنا لیے ہیں۔

پاکستان کو سری لنکا کی برتری ختم کرنے کے لیے ابھی مزید 76 رنز درکار ہیں۔

<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.com/sport/cricket/scorecard/89446" platform="highweb"/></link>

دوسری اننگز میں پاکستانی اوپنرز خرم منظور اور احمد شہزاد نے ٹیم کو 47 رنز کا نسبتاً بہتر آغاز فراہم کیا۔

اس شراکت کا خاتمہ رنگنا ہیراتھ نے خرم کو آؤٹ کر کے کیا۔

خرم کے جانے کے بعد احمد شہزاد نے نہ صرف نصف سنچری مکمل کی بلکہ اظہر علی کے ساتھ مل کر دوسری وکٹ کے لیے بھی 63 رنز بنائے۔

احمد شہزاد 58 رنز بنانے کے بعد پریرا کی واحد وکٹ بنے۔ اس موقع پر پاکستان کا سکور 110 رنز تھا۔

پاکستان کی اگلی تین وکٹیں سکور میں صرف 30 رنز کے اضافے کے دوران گر گئیں۔ یہ تینوں وکٹیں بھی ہیراتھ نے حاصل کیں۔

ایک موقع پر 140 کے مجموعی سکور پر پاکستان کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے لیکن پھر سرفراز احمد نے اسد شفیق کے ساتھ مل کر 93 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔

پاکستان کی جانب سے جنید خان نے پانچ اور وہاب ریاض نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپاکستان کی جانب سے جنید خان نے پانچ اور وہاب ریاض نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا

اسد شفیق دوسرے دن آؤٹ ہونے والے چھٹے اور آخری پاکستانی کھلاڑی تھے۔ انھوں نے 42 رنز بنائے اور ہیراتھ کی پانچویں وکٹ بنے۔

جب کھیل ختم ہوا تو سرفراز احمد نصف سنچری بنانے کے بعد 66 اور عبدالرحمان ایک رن پر ناٹ آؤٹ تھے۔

اس سے قبل سری لنکا کی ٹیم پہلے روز کے سکور میں کُل 59 رنز کا اضافہ کر کے 320 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

پاکستان کی جانب سے جنید خان نے 87 رنز دے کر پانچ اور ریاض نے 88 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔

جمعرات کو شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستانی ٹیم گال ٹیسٹ میں سات وکٹوں کی ہزیمت کے سبب سری لنکا کے خلاف پانچ سال میں تیسری ٹیسٹ سیریز ہارنے کے خطرے سے دوچار ہے۔

پاکستانی ٹیم مصباح الحق کی قیادت میں انگلینڈ کے خلاف کلین سویپ کے بعد سے ایک بھی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت سکی ہے۔ اس دوران اس نے تین سیریز برابر کھیلی ہیں اور دو میں اسے شکست ہوئی ہے ۔