دولتِ مشترکہ کھیلوں میں سوات کے کھلاڑی کی شرکت

18 سالہ رمیز خان کا تعلق سوات کے چھوٹے سے قصبے بریکوٹ سے ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن18 سالہ رمیز خان کا تعلق سوات کے چھوٹے سے قصبے بریکوٹ سے ہے
    • مصنف, سید انور شاہ
    • عہدہ, سوات

دولتِ مشترکہ کھیلوں ٹیبل ٹینس کے مقابلوں کے لیے پاکستان سے چھ کھلاڑی شریک ہیں جن میں شورش سے متاثرہ وادی سوات کا 18 سالہ رمیز بھی شامل ہے۔

پاکستان کا 65 رکنی دستہ سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسکو میں موجود ہے جہاں پاکستانی کھلاڑی دولتِ مشترکہ کھیلوں میں باکسنگ، بیڈ منٹن، ایتھلیٹکس، جمناسٹک، شوٹنگ، سوئمنگ، ٹیبل ٹینس اور ویٹ لفٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔

18 سالہ رمیز خان کا تعلق سوات کے چھوٹے سے قصبے بریکوٹ سے ہے جو تقریباً 40 ہزار کے قریب آبادی پر مشتمل علاقہ ہے۔

رمیز خان کی تربیت ان کے ماموں اظہر خان کے ہاتھوں میں ہے جن کا کہنا ہے کہ رمیز خان نے کلاس ٹو سے اس کھیل کو شروع کیا تھا۔

ان کے مطابق رمیز شروع ہی سے اس کھیل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اظہر خان نے ٹیبل ٹینس کی ایک اکیڈمی بھی بریکوٹ میں قائم کی ہے جو پانچ ہزار سکوائر فٹ کے رقبے پر 70 لاکھ روپے کے لاگت سے تعمیر ہوئی ہے۔

ان کے مطابق انھوں نے یہ اپنے مدد آپ کے تحت بنائی ہے جہاں رمیز اور دیگر کھلاڑی پریکٹس کرتے ہیں۔

اظہرکے مطابق رمیز خان نے آٹھ سال کی عمر میں یہ کھیل شروع کیا اور وہ تین بار پاکستان کے انڈر 15 چیمپئین رہ چکے ہیں جبکہ دو بار وہ انڈر 12 پاکستانی چیمپیئن بھی رہے ہیں۔

ساؤتھ ایشین گیم میں انھوں نے کانسی کا تمغہ حاصل حاصل کیا ہے جبکہ سینیئر رینکنگ میں آنے کے بعد اب وہ دولتِ مشترکہ کھیلوں میں شامل ہوئے ہیں۔

رمیز خان کی کامیابی کے لیے ان کا خاندان اور علاقے کے لوگ پر امید ہیں اور ان کی کامیابی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔

رمیز خان کے والد محمد ارشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا اپنے بیٹے کے لیے پیغام ہے کہ وہ وطن کا نام روشن کرنے کے لیے بھر پور محنت کرے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کا بیٹا ایک فاتح کی صورت میں لوٹ آئے گا۔

علاقے کے ایک مقامی شخص پروفیسر اجمل خان نے بتایا کہ علاقے کے لوگ ان کی کامیابی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں کیونکہ ان کی کامیابی پاکستان اور سوات کی نوجوانوں کی کامیابی ہوگی۔

چھ بہن بھائیوں میں رمیز خان پانچویں نمبر پر ہیں۔

ان کے بڑے بھائی انیس بھی اپنے چھوٹے بھائی کے کامیابی کے لیے دعاگو اور پر امید دکھائی دے رہے ہیں۔