برطانوی ایتھلیٹ محمد فرح دولتِ مشترکہ کھیلوں سے باہر

فرح اس سے پہلے اس ماہ گلاسگو ہی میں ہونے والی ڈائمنڈ لیگ میں بھی بیمار ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کر پائے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنفرح اس سے پہلے اس ماہ گلاسگو ہی میں ہونے والی ڈائمنڈ لیگ میں بھی بیمار ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کر پائے تھے

اولمپکس میں دو زمروں میں سونے کا تمغا حاصل کرنے والے برطانوی ایتھلیٹ محمد فرح زخمی ہونے کے باعث دولتِ مشترکہ کھیلوں سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

31 سالہ عالمی چیمپیئن محمد فرح کو برطانیہ میں مو فرح کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے دو سال قبل لندن میں ہونے والے اولمپکس میں پانچ اور دس ہزار میٹر کی دوڑوں میں سونے کے تمغے حاصل کیے تھے۔

فرح گلاسگو میں ہونے والی کامن ویلتھ گیمز میں انھی دونوں زمروں میں دوڑنے والے تھے۔ تاہم وہ مکمل طور پر فٹ نہیں ہیں اور اب وہ ٹریننگ کیمپ میں رہ کر اگست کے مہینے میں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی یورپین چیمپیئن شپ کی تیاری کریں گے۔

مو فرح کے مطابق کھیلوں میں حصہ نہ لینا ان کے لیے بہت مشکل فیصلہ تھا اور دو ہفتے قبل ہونے والے بیماری ان کے لیے بہت بڑا دھچکہ ثابت ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا: ’میری ٹریننگ میں فرق آیا ہے، تاہم مجھے فٹنس کے اس مقام پر پہنچنے کے لیے مزید دو سے تین ہفتے درکار ہوں گے جس مقام پر میں 2012 اور 2013 میں تھا۔ میری بہت تمنا تھی کہ میں ان کھیلوں میں حصہ لوں لیکن یہ کھیل میری پہنچ سے تھوڑا دور ہیں۔‘

فرح امریکہ کے شہر نیو یارک میں ہونے والی میراتھن میں ریس کے درمیان بے ہوش ہو کرگر پڑے تھے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنفرح امریکہ کے شہر نیو یارک میں ہونے والی میراتھن میں ریس کے درمیان بے ہوش ہو کرگر پڑے تھے

واضح رہے کہ فرح ان کھیلوں سے دستبردار ہونےوالے پہلے ایتھلیٹ نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے جمیکا کے یوہان بلیک نے ہیمسٹرنگ انجری کے باعث اپنی غیر دستیابی سے حکام کو آگاہ کیا تھا جبکہ برطانیہ کی جیسیکا اینس بھی دولتِ مشترکہ کھیلوں میں شرکت نہیں کر پائیں گی۔

فرح اس سے پہلے اس ماہ گلاسگو میں ہی ہونے والی ڈائمنڈ لیگ میں بھی بیمار ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کر پائے تھے۔

بی بی سی سپورٹس کے ایتھلیٹکس کے تجزیہ نگار سٹیو کریم کا کہنا ہے کہ فرح کا کھیلوں میں حصہ نہ لے پانا ان کے اور دولتِ مشترکہ کھیلوں کے لیے افسوس ناک خبر ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہمیں پتہ تھا کہ انھیں مشکلات کا سامنا تھا۔ مجھے امید تھی کہ وہ کم از کم دس ہزار میٹر کی دوڑ کے لیے تیار ہو سکیں گے لیکن اب ان کے پاس فٹ ہونے کے لیے اب وقت نہیں رہا۔‘