’جرمنی سے شکست کے باوجود ارجنٹائن کی حمایت نہیں‘

ارجنٹائن کی فائنل میں جیت برازیل زیادہ تر لوگوں کے لیے ایک المیہ ثابت ہوگی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنارجنٹائن کی فائنل میں جیت برازیل زیادہ تر لوگوں کے لیے ایک المیہ ثابت ہوگی
    • مصنف, اوگو باچیگا
    • عہدہ, بی بی سی، برازیل

جرمنی کے ہاتھوں سیمی فائنل میں اپنے ملک کی بدترین شکست کے باوجود بھی برازیلی مداح فائنل میں ارجنٹائن کی حمایت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ارجنٹائن اور برازیل دونوں روایتی حریف ہیں اور ان دونوں کے درمیان فٹبال کے میدان میں رقابت کا سلسلہ 20ویں صدی کے اوائل میں اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب فٹبال اس خطے میں مقبولیت حاصل کر رہا تھا۔

دونوں ملکوں نے فٹبال کی دنیا میں پیلے، میراڈونا، رونالڈو اور میسی جیسے کھلاڑیوں کو جنم دیا ہے۔ تاہم دونوں ملکوں کے مداحوں میں اس بات پر نوک جھونک ہوتی رہتی ہے کہ فٹبال کے عظیم ترین کھلاڑی پیلے ہیں یا میراڈونا۔

ارجنٹائن کے مداحوں نے اس بار ورلڈ کپ کے دوران ’میراڈونا پیلے سے بڑا کھلاڑی‘ اور ’میسی ورلڈ کپ لے کر آئے گا‘ کے نعرے لگائے جس کے جواب میں برازیلی مداحوں نے ’ایک ہزار گول، صرف پیلے کے ہزار گول‘ کی صدا بلند کی۔

دونوں ٹیموں کو ورلڈ کپ میں آمنے سامنے آنے کا موقع تو نہیں ملا، تاہم دونوں ملکوں کے مداحوں کے درمیان رقابت کا سلسلہ ورلڈکپ کے دوران سٹیڈیم اور سڑکوں پہ ضرور دیکھنے کو ملا۔

برازیلی مداح ارجنٹائن کے میچوں میں ان کی مخالف ٹیم کی حمایت کرنے گئے جبکہ برازیل کی سیمی فائنل میں 7-1 سے شکست کے بعد ارجنٹائن کے مداحوں نے ’ایک، دو، تین، چار، پانچ، چھ، سات‘ کے نعرے لگائے، جس پر برازیلی مداح ناراض ہوگئے۔

مداحوں کے درمیان بڑھتی ہوئی اس کشیدگی کو دیکھتے ہوئے برازیل میں حکام نے سیکورٹی سخت کر دی ہے۔

بہت سے لوگوں کے لیے ان دونوں ملکوں کے درمیان رقابت کا یہ سلسلہ فٹبال کے میدان سے باہر بھی موجود ہے۔

’اگر برازیل نہیں جیت سکتا تو ارجنٹینا بھی نہیں جیت سکتا‘

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن’اگر برازیل نہیں جیت سکتا تو ارجنٹینا بھی نہیں جیت سکتا‘

برازیلی مداح لوئز اموریم کے مطابق وہ ارجنٹائن کے سوا ہر ٹیم کی حمایت کر سکتے ہیں۔ جبکہ ریو ڈی جنیرو کے ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ اگر برازیل کو ارجنٹائن کے خلاف فائنل میں شکست ہوئی تو وہ خود کشی کر لیں گے۔ تاہم اب ایسا ممکن نہیں۔

اتوار کو ہونے والا فائنل میچ ریو کے ماراکانا سٹیڈیم میں کھیلا جارہا ہے جہاں برازیل کو 1950 کے ورلڈ کپ فائنل میں یوروگوائے کے خلاف اپ سیٹ شکست ہوئی تھی۔

ارجنٹائن کی فائنل میں جیت برازیل میں زیادہ تر لوگوں کے لیے المیہ ثابت ہوگی۔ برازیل پانچ بار ورلڈ کپ جیت چکا ہے جبکہ جرمنی نے تین اور ارجنٹائن نے دو بار یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔

27 سالہ گیبریئل ٹیڈے کہتے ہیں کہ ’اگر ارجنٹائن فاتح ہوا تو میں فٹبال کھیلنا چھوڑ دوں گا۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔‘

ارجنٹائن کی حمایت کرنے والے گنے چنے برازیلی مداح چاہتے تھے کہ جنوبی امریکی ٹیم فائنل جیتے۔ دوسرے مداح کہتے ہیں کہ انھیں ڈر تھا کہ اگر برازیل اور ارجنٹائن تیسری پوزیشن کے میچ کے لیے آمنے سامنے آتے تو اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔ لیکن ایسے مداحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

برازیلی مداح جولیانو الواریز کہتے ہیں: ’اگر برازیل نہیں جیت سکتا تو ارجنٹائن بھی نہیں جیت سکتا۔‘