برازیل کی ٹیم میں ماضی والی بات نہیں: جرمن کوچ

برازیلی ٹیم اب تک ٹورنامنٹ میں 96 فاؤل کر چکی ہے اور اسے دس پیلے کارڈ بھی ملے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبرازیلی ٹیم اب تک ٹورنامنٹ میں 96 فاؤل کر چکی ہے اور اسے دس پیلے کارڈ بھی ملے ہیں

جرمنی کے کوچ یوآخیم لوو کا کہنا ہے کہ برازیل کی موجودہ فٹبال ٹیم اس طریقے سے نہیں کھیل رہی جس کے لیے وہ روایتی طور پر ماضی میں مشہور رہی ہے۔

جرمنی کی ٹیم منگل کو 2014 کے ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں برازیل کے خلاف میدان میں اترنے والی ہے اور جرمن کوچ کے مطابق ان کے خیال میں یہ ایک ایسا میچ ہوگا جس میں جسمانی ٹکراؤ زیادہ دیکھنے کو ملے گا۔

لوئس فلپ سکولاری کی برازیلی ٹیم اب تک ٹورنامنٹ میں 96 فاؤل کر چکی ہے اور اسے دس پیلے کارڈ بھی ملے ہیں۔

یوآخیم لوو کا کہنا تھا کہ وہ دیگر کسی بھی ٹیم کے مقابلے میں زیادہ جارحانہ انداز میں کھیل رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’فٹبال کا روایتی برازیلی انداز بہت کم باقی رہ گیا ہے اور آخر میں یہ ریفری کا کام ہے کہ وہ صحیح سزا دے۔‘

جرمنی کے مڈفیلڈر باستیان شوائن سٹائگر اپنے مینیجر کے تجزیے سے متفق نظر آتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں مقابلے میں سختی دکھانے کا حامی ہوں لیکن برازیل کے کچھ فاؤل حد سے باہر تھے۔‘

شوائن سٹائگر نے کہا کہ ’خطرناک فاؤل کرنا برازیل کے کھیل کا حصہ ہے۔ ہمیں اور ریفری دونوں کو محتاط رہنا ہوگا۔‘

منگل کو کھیلے جانے والے سیمی فائنل میں برازیل کو اپنے سب سے اہم کھلاڑی نیمار کی خدمات بھی حاصل نہیں جو کولمبیا کے خلاف میچ زخمی ہو کر ورلڈ کپ سے باہر ہو چکے ہیں۔

شوائن سٹائگر کو خدشہ ہے کہ ان کی غیرموجودگی برازیلی ٹیم کو بھڑکائے گی: ’نیمار کے ساتھی ان کے لیے ورلڈ کپ جیتنا چاہتے ہیں۔ انھیں اس سے ہمت ملے گی۔‘

جرمنی 2002 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں برازیل کے مدِمقابل آیا تھا اور اس میچ میں اسے شکست ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے وہ ہر ورلڈکپ میں سیمی فائنل کھیلے اور ہارے ہیں۔

گذشتہ ورلڈ کپ میں انھیں چیمپیئن بننے والی سپین کی ٹیم نے شکست دی تھی لیکن شوائن سٹائگر کے مطابق جرمنی کی موجودہ ٹیم چار برس پہلے کی ٹیم سے زیادہ مضبوط ہے۔

ان کے مطابق ’ہم ایک قدم آگے ہیں اور ٹیم میں شامل بہترین کھلاڑیوں کی تعداد پہلے سے زیادہ ہے۔‘