نیمار کا زخمی ہونا برازیل کے لیے دھچکا

،تصویر کا ذریعہGetty
کولمبیا کو عالمی فٹبال کپ کے کوارٹر فائنل میں شکست دینے کے بعد پورے برازیل میں جشن کا سماں تھا۔
فورٹالیزا سٹیڈیم کی جانب جانے والے تمام راستوں پر برازیلین تمائشائیوں کا ہجوم جمع تھا اور وہ جیت کی خوشیاں منا رہے تھی۔
تاہم اس کے ساتھ ساتھ برازیلین تماشائی اپنے سٹار کھلاڑی اور فٹبال کا عالمی کپ جیتنے کی سب سے بڑی امید نمیار زخمی ہونے کی وجہ سے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے پر رنجیدہ بھی تھے۔
خیال رہے کہ کولمبیا کے زونیگا نے برازیل کے خلاف کوارٹر فائنل میں نیمار کی کمر میں گھٹنا مارا تھا جس سے ان کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ آئی اور وہ ورلڈ کپ کے بقیہ میچوں سے باہر ہوگئے ہیں۔
نیمار کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر پورے برازیل کو دھچکا لگا ہے اور برازیلی فٹبال کے لیجنڈ کھلاڑی پیلے نے بھی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس واقعے سے ’اس بات سے ہمارا دل دکھتا ہے کہ وہ اب ورلڈ کپ میں نہیں ہوگا۔‘
فورٹالیزا سٹیڈیم میں موجود برازیل کے کوچ لوئی فیلپ سکولاری اور ان کی ٹیم جہاں کولمبیا کو ہرانے کی خوشی منا رہے تھے وہیں سٹیڈیم سے باہر موجود افراد نیمار کو ہسپتال پہنچانے کے لیے راستہ بنا رہے تھے۔
برازیل کی ٹیم کے ڈاکٹر نے جب نیمار کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے کی خبر سنائی تو پوری قوم کو اپنی سرزمین پر ورلڈ کپ جیتنے کے خواب کو دھچکا لگا۔
برازیل کے کوچ لوئی فیلپ سکولاری نے میچ کے بعد کہا ’ نیمار کو ’شکار‘ کرنے پر کولمبیا کے کھلاڑی زونیگا کو پیلا کارڈ تک نہیں دکھایا گیا۔‘
برازیل میں نیمار کے زخمی ہو کر گرنے کے مناظر ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر چھائے ہوئے ہیں۔
برازیل کو جرمنی کے خلاف کھیلے جانے والے سیمی فائنل میچ کپتان تیاگو سلوا کی خدمات بھی حاصل نہیں ہوں گی۔ برازیلی کپتان تیاگو سلوا کو کولمبیا کے خلاف میچ میں ریفری نے کیپر کو گرانے پر پیلا کارڈ بھی دکھایا تھا۔
برازیل کی ٹیم کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ آیا وہ اپنے بہترین کھلاڑی نیمار کے بغیر ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
خیال رہے کہ برازیل کی ٹیم میں نیمار کی موجودگی کو میزبان ملک کی جانب سے فٹبال کا عالمی کپ جیتنے کی سب سے بڑی امید قرار دیا جا رہا تھا۔ نیمار نے اپنے ملک کی جانب سے چار گول کیے ہیں۔
برازیل کے کوچ لوئی فیلپ سکولاری نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ابھی انھیں نہیں معلوم کہ ٹیم سے نیمار کی غیر موجودگی سے کس طرح ایڈجسٹ کریں گے۔
خیال رہے کہ اس ٹورنامنٹ میں برازیل کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھائی جا رہی تھیں اور کہا جا رہا تھا کہ وہ ایک ٹیم کی طرح کھیلنے کی بجائے صرف اپنے سٹار سٹرائیکر نیمار پر بھروسہ کر رہی ہے۔



