کپتانی کی خواہش ہے لیکن ابھی توجہ کارکردگی پر:عمر گل

گھٹنے کے آپریشن کے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی آسان نہ تھی:عمر گل

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنگھٹنے کے آپریشن کے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی آسان نہ تھی:عمر گل
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستانی فاسٹ بولر عمرگل کا کہنا ہے کہ بحیثیت کرکٹر وہ بھی پاکستانی ٹیم کی قیادت کی خواہش رکھتے ہیں لیکن اس کا انحصار ان کی کارکردگی اور فٹنس پر ہے۔

30 سالہ عمرگل ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل مقابلوں میں 80 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں جو ان کے ہم وطن سپنر سعید اجمل کی 85 وکٹوں کے بعد سب سے زیادہ ہیں تاہم پچھلے کچھ عرصے سے وہ فٹنس کے مسائل سے دوچار رہے ہیں۔

عمرگل نے منگل کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں جاری پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کیمپ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ انھوں نے قیادت کے بارے میں نہیں سوچا اور وہ اپنی فٹنس اور آنے والی کرکٹ پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی کپتان بنےگا چاہے وہ سینیئر ہو یا جونیئر، وہ اس کا ساتھ دیں گے جیسا کہ ماضی میں وہ ہر کپتان کے ساتھ تعاون کرتے آئے ہیں۔

عمرگل نے کہا کہ ’کسی بھی کرکٹر کے لیے یہ اعزاز کی بات ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک کی قیادت کرے خاص کر جب آپ ریٹائر ہوں تو جب سابق کپتان کے طور پر تعارف ہوتا ہے تو یہ اعزاز کی بات ہوتی ہے۔‘

ان کے مطابق ان کے دل میں بھی کپتانی کی خواہش ہے لیکن فی الحال وہ اس بارے میں نہیں سوچ رہے اور یہ خواہش صحیح معنوں میں اس وقت ہوگی جب وہ دوبارہ ماضی جیسی غیر معمولی کارکردگی دوہرانا شروع کر دیں۔

عمرگل نے کہا کہ گھٹنے کے آپریشن کے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں ان کی واپسی آسان نہ تھی اور سری لنکا کے خلاف ان کی وہ فٹنس نہیں تھی جو انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے ضروری ہوتی ہے اور پھر ایشیا کپ میں بھی ان کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ رہا۔

فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ وہ اب خود کو بہت بہتر محسوس کر رہے ہیں اور ان کی کوشش ہےکہ اس سمر کیمپ میں سخت محنت کر کے اپنی فٹنس مکمل طور پر حاصل کر لیں اور خود کو آنے والی کرکٹ کے لیے تیار کر سکیں۔

عمرگل نے کہا کہ انھوں نے اس تربیتی کیمپ اور آنے والی انٹرنیشنل کرکٹ کی وجہ سے سمرسٹ کاؤنٹی سے معاہدہ چھوڑ دیا حالانکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انھیں این او سی جاری کر دیا تھا۔

عمرگل نے کہا کہ انھوں نے اپنی بین الاقوامی کرکٹ ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے تک محدود کرنے اور ٹیسٹ نہ کھیلنے کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ عمرگل ٹیسٹ میچوں میں 163 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔