ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستانی ٹیم کو اڑا لے گئی

ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو ایک یکطرفہ مقابلے میں ہرا کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنویسٹ انڈیز نے پاکستان کو ایک یکطرفہ مقابلے میں ہرا کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پہلے بولرز کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا اور اس کے بعد بیٹسمین کے ہاتھ پیر پھول گئے۔

دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز نے 84 رنز کی جیت کے ذریعے پاکستانی ٹیم کو راستے سے ہٹاکر سیمی فائنل میں جگہ بنالی جہاں جمعرات کے روز اس کا مقابلہ سری لنکا سے ہوگا۔

<link type="page"><caption> تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/88776" platform="highweb"/></link>

ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے چھ وکٹوں پر ایک سو چھیاسٹھ رنز بنا ڈالے۔ جواب میں پاکستانی ٹیم سسک سسک کر 82 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

یہ پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں دوسرا سب سے کم سکور ہے اس سے قبل اس نے دو ہزار بارہ میں آسٹریلیا کے خلاف دبئی میں 74 رنز بنائے تھے۔

سیموئیل بدری نےپاکستان کے تین کھلاڑی آؤٹ کیے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسیموئیل بدری نےپاکستان کے تین کھلاڑی آؤٹ کیے

گزشتہ میچ کے سنچری میکر احمد شہزاد اننگز کی پہلی ہی گیند پر سینٹوکی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

بلندبانگ دعوؤں کے ساتھ اوپنر کی حیثیت سے ٹیم میں شامل کیےگئے کامران اکمل نے بھی کھاتہ کھولے بغیر پویلین کی راہ لی۔

عمراکمل نے ایک رن پر اپنی وکٹ گنوائی شعیب ملک دو اور کپتان محمد حفیظ انیس رنز بناکر شائقین کی مایوسی بڑھاگئے۔

پاکستانی ٹیم کو اس تباہ کن صورتحال سے دوچار کرنے والے سپنر سیمیوئل بدری تھے جنہوں نے چار اووروں میں صرف تیرہ رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کرڈالی تھیں جو کچھ بچا وہ سنیل نارائن لے گئے جنہوں نے صہیب مقصود، سہیل تنویر اور شاہد آفریدی کی وکٹوں پر ہاتھ صاف کرڈالا۔

دونوں سپنرز وکٹ کیپر رام دین کے شکرگزار بھی تھے جنہوں نے چار سٹمپڈ کیے۔

اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی اننگز کی ابتدا پاکستانی کپتان محمد حفیظ کی خواہش کے مطابق رہی جنہوں نے اپنے دوسرے ہی اوور کی پہلی گیند پر کرس گیل کو پانچ کے انفرادی اسکور پر کامران اکمل کے ہاتھوں سٹمپڈ کرا دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کرس گیل پاکستان کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے ہیں اور ہر میچ میں وہ دس سے کم سکور پر محمد حفیظ کا شکار بنے ہیں۔

سہیل تنویر نے سمتھ کو کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ کرایا تو ویسٹ انڈیز کا سکور چوتھے اوور میں بائیس تھا۔

اننگز کے نصف حصے میں پاکستان کو دو اہم وکٹیں ہاتھ آگئیں۔ سمنز جو جارحانہ انداز میں بولرز پر حاوی ہوتے جا رہے تھے اکتیس رنز بناکر رن آؤٹ ہوئے۔شاہد آفریدی نے اسی اوور میں مارلن سیمیولز کو بھی بیس رنز کے انفرادی سکور پر بولڈ کرکے اپنی ٹیم کے حوصلے جواں کردیے۔

ذوالفقار بابر جو ویسٹ انڈیز کے خلاف گزشتہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے مین آف دی سیریز تھے اپنے تیسرے اوور میں دنیش رام دین کو عمراکمل کے ہاتھوں کیچ کرانے میں کامیاب ہوگئے۔

ویسٹ انڈیز کی پانچویں وکٹ چودھویں اوور میں گری تو سکور صرف اکیاسی رنز تھا لیکن اس کے بعد پاکستانی بولرز مکمل طور پر براوو اور سیمی کے رحم و کرم پر تھے اور محمد حفیظ جو ویسٹ انڈیز کی بساط جلد لپیٹنے کے لیے پرامید تھے ایک کے بعد ایک بولر کی بے بسی کا تماشہ دیکھنے پر مجبور ہوگئے۔

ویسٹ انڈیز نے آخری پانچ اوورز میں بیاسی رنز بنا ڈالے۔

براوو اور سیمی نے سعید اجمل کے آخری دو اوورز میں چھتیس رنز بناکر انہیں چار سال پہلے مائیکل ہسی کے ہاتھوں بننے والی درگت یاد دلادی۔

عمرگل بھی چوکڑی بھول گئے جن کے ایک اوور میں اکیس رنز بنے۔

اننگز کے آخری اوور میں براؤ چار چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے چھیالیس رنز بناکر آؤٹ ہوئے ۔

کپتان ڈیرن سیمی پانچ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے بیالیس رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔