بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر کپتان پر برس پڑے

بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر نے ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست کے بعد کوچ کپتان اور سلیکٹرز سے تفصیلی گفتگو کی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر نے ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست کے بعد کوچ کپتان اور سلیکٹرز سے تفصیلی گفتگو کی ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈھاکہ

بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر نظم الحسن نے کپتان مشفق الرحیم کے اس بیان کو ناقابل قبول قرار دے دیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کھلاڑی کھل کر نہیں کھیل پا رہے ہیں کیونکہ وہ ٹیم سے ڈراپ ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کو سپر مرحلے میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں تہتر رنز سے شکست ہوئی تھی۔ اس سے قبل وہ کوالیفائنگ راؤنڈ میں ہانگ کانگ جیسی کمزور ٹیم سے بھی ہاری تھی۔

نظم الحسن کا کہنا ہے کہ انہیں مشفق الرحیم کی اس تشویش کی کوئی بھی معقول وجہ نظر نہیں آتی کیونکہ اگر اوپنرز کی بات کریں تو سلیکشن تین اوپنرز میں سے ہی ہونا ہے لہٰذا کھلاڑیوں کا عدم تحفظ کا شکار ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟ ان کے مطابق یہی صورتحال مڈل آرڈر بیٹنگ اور بولنگ میں بھی ہے۔

بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر نے ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست کے بعد کوچ کپتان اور سلیکٹرز سے تفصیلی گفتگو کی ہے جس میں کرکٹ آپریشنز کے چیرمین اکرم خان کو بھی شامل کیا گیا۔

نظم الحسن کا کہنا ہے کہ محمود اللہ اور ناصر حسین کو متواتر مواقع دیے گئے ہیں جو بھی کھلاڑی ٹیم سے باہر ہوتا ہے وہ واپس بھی آسکتا ہے لیکن اگر کسی دوسرے کھلاڑی کو کھیلنے کا موقع نہیں دیا جاتا تو پھر اسے اسکواڈ میں رکھنے کا کیا فائدہ؟

نظم الحسن نے کہا کہ بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے ٹی ٹوئنٹی کے لیے ایک علیحدہ کوچ کی تقرری کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ٹی ٹوئنٹی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیم میں بھی تبدیلیاں کی جائیں گی اور چند نئے کھلاڑی ٹیم میں شامل کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ کھلاڑیوں پر واضح کردیا گیا ہے کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر وہ کسی صورت میں ٹیم میں نہیں رہ سکیں گے۔