سوچی اولمپکس: روس 13 طلائی تمغوں کے ساتھ سرِفہرست

،تصویر کا ذریعہAFP
روس کے تفریحی مقام سوچی میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس مقابلے اتوار کو اختتام پذیر ہو گئے، اور روس نے مقابلوں کے آخری دن مزید دو طلائی تمغے جیت کر میڈل ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔
مقابلوں کے آخری دن روس نے باب سلے اور کراس کنٹری سکی انگ میں طلائی تمغے جیتے۔
<link type="page"><caption> سوچی اولمپکس کا میڈل ٹیبل</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/winter-olympics/2014/medals/countries" platform="highweb"/></link>
ان مقابلوں میں ناروے نے 11 طلائی تمغوں کے ساتھ دوسری اور کینیڈا نے دس طلائی تمغوں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔
کھیلوں کا اختتام اتوار کو کینیڈا اور سویڈن کے درمیان مردوں کی آئس ہاکی کے فائنل میچ پر ہوا جس میں کینیڈا نے طلائی تمغہ جیتا۔
اتوار کو ہونے والی 50 کلومیٹر کراس کنٹری سکی انگ میں روس کے الیگزینڈر لیگکوف نے طلائی تمغہ حاصل کیا۔
انھوں نے 0.7 سیکنڈ کے فرق سے یہ ریس جیتی جو سرمائی اولمپکس کی تاریخ میں 50 کلومیٹر ریس میں آج تک سب سے کم فرق سے جیتی گئی دوڑ ہے۔
اس جیت کے بعد روس کے طلائی تمغوں کی کل تعداد 12 ہوگئی تھی لیکن بعد میں چار رکنی مرد روسی ٹیم نے باب سلے میں تیرہواں طلائی تمغہ حاصل کر کے روس کی میڈلز ٹیبل پر برتری یقینی بنا دی۔
ان کھیلوں کے آغاز سے قبل دہشت گرد حملوں کے خطرے اور ہم جنس پرستوں کے خلاف قانون پر مظاہروں کے خدشات حاوی تھے۔
تاہم بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے صدر تھامس بیخ نے ان کھیلوں کو ’زبردست‘ قرار دیا اور کہا کہ سوچی نے ان خدشات کا مقابلہ کیا اور بہترین اولمپک منعقد کیے۔
انہوں نے کہا کہ ’ کھیلوں کا زبردست طریقے سے انعقاد کیا گیا اور شاید اولمپکس سے قبل روسی منتظمین پر تنقید کرنے والوں کی رائے بدل جائے۔‘
لیگکوف اس سے قبل کلومیٹر ریلے میں چاندی کا تمغہ بھی حاصل کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جیت میری جان سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ میں بیان نہیں کر سکتا کہ میں کیسا محسوس کر رہا ہوں۔ میں 15 برس سے اس کے لیے کوشاں تھا۔‘



