’مصباح اکیلے ہی بولنگ سے لڑتے نظر آئے‘

پاکستانی ٹیم کے سکور میں 44 فیصد حصہ مصباح الحق کا تھا
،تصویر کا کیپشنپاکستانی ٹیم کے سکور میں 44 فیصد حصہ مصباح الحق کا تھا
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سنچورین میں پاکستانی بلے بازوں کی غیر مستقل مزاجی کی وجہ سے جنوبی افریقی ٹیم 21 برس بعد ممکنہ وائٹ واش کی ہزیمت سے بچ گئی۔

اپریل سنہ 1992 میں ویسٹ انڈیز نے جنوبی افریقہ کو سیریز کے تینوں میچز میں شکست دی تھی جس کے بعد یہ سنہری موقع سنیچر کو پاکستانی ٹیم کے ہاتھ آیا لیکن بیٹسمینوں کی غیر ذمہ داری کے سبب ضائع ہوگیا۔

بیٹنگ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد باؤلرز نے ہرممکن کوشش کی لیکن وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹوں کے باوجود میزبان ٹیم انتالیسویں اوور میں ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی جو اس کے لیے اس لیے بھی اطمینان کا باعث ہے کہ آخری سات مرتبہ اسے جب بھی ہدف حاصل کرنے کا موقع ملا وہ اس میں ناکام رہی تھی۔

<link type="page"><caption> آخری ایک روزہ میچ میں جنوبی افریقہ فاتح</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2013/11/131130_pak_sa_3rd_odi_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

محمد حفیظ اور ناصر جمشید ٹیم کو جتنا بھی ڈبوسکتے تھے ڈبونے کے بعد بالآخر باہر ہوگئے لیکن ان کی جگہ لینے والے عمرامین اور اسد شفیق بھی’نہلے پہ دہلا‘ ثابت ہوئے۔

عمر امین نے اپنے سامنے احمد شہزاد اور اسد شفیق کی وکٹیں گرنے سے بھی سبق نہیں سیکھا اور ضرورت سے زیادہ جوش دکھاتے ہوئے گیارہویں اوور میں وہ بھی ڈریسنگ روم کی طرف چل دیے۔

اسد شفیق کو اب اس بات کا گلہ نہیں ہونا چاہیے کہ ون ڈے میں ان کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ اس بار انھیں ون ڈاؤن کی پوزیشن پر بیٹنگ کرکے اپنی صلاحیتیں دکھانے اور بڑا سکور کرنے کا پورا پورا موقع ملا تھا لیکن وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

صہیب مقصود کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ اگر وہ بڑی اننگز نہیں کھیلیں گے ان کی صلاحیتوں پر سے اعتبار اٹھنا شروع ہو جائے گا جس کی ایک مثال اسی ٹیم میں شامل عمر اکمل کی ہے جن کی غیر مستقل مزاجی اب ان کے ٹیلنٹ سے زیادہ وجہ شہرت بن چکی ہے۔

انور علی اور بلاول بھٹی کی بیٹنگ چمک بھی ایک میچ کے بعد ماند پڑگئی۔

بکھری ہوئی پاکستانی بیٹنگ کو ایک بار پھر کپتان مصباح الحق نے سمیٹنے کی کوشش کی۔ انھوں نے عبدالرحمٰن کے ساتھ نصف سنچری کی شراکت قائم کی لیکن اس کے بعد وہ اکیلے ہی بولنگ سے لڑتے نظر آئے۔

جنوبی افریقی بولرز نے انھیں قابو میں نہ آتا دیکھ کر سہیل تنویر اور سعید اجمل کو آسانی سے شکار کر لیا۔

ٹیم کے سکور میں 44 فیصد حصہ مصباح الحق کا تھا۔ اس سال ون ڈے اور ٹیسٹ میچز میں ان کے بنائے گئے رنز کی تعداد 1793 ہوچکی ہے جس کی اوسط 51.22 بنتی ہے اور اس قابلِ ذکر کارکردگی میں ایک سنچری اور اٹھارہ نصف سنچریاں شامل ہیں۔

گزشتہ میچ میں سنچری بنانے والے احمد شہزاد کو اس بار صفر کی ہزیمت اٹھانا پڑی
،تصویر کا کیپشنگزشتہ میچ میں سنچری بنانے والے احمد شہزاد کو اس بار صفر کی ہزیمت اٹھانا پڑی

یہاں مجھے ایک سابق کرکٹر کی بات یاد آ رہی ہے کہ مصباح الحق کے رنز اس لیے نظر آتے ہیں کیونکہ دوسرے بیٹسمین سکور نہیں کر رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کیا مصباح الحق نے دوسرے بیٹسمینوں کو رنز بنانے سے روکا ہوا ہے؟

جنوبی افریقہ کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ شاہد آفریدی اور محمد حفیظ کے نہ ہونے کے سبب پاکستان کے پاس بیس اہم اوورز نہیں ہیں لیکن 180 تک پہنچنے کے لیے اسے چھ وکٹیں گنوانی پڑیں۔

کپتان اے بی ڈی ویلیئرز جو گذشتہ میچ میں آؤٹ ہوکر اپنی ٹیم کو جیت سے دور کرگئے تھے اس بار ناٹ آؤٹ رہ کر ٹیم کو فتح دلا گئے۔