انگلینڈ پہلی عالمی ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا میزبان

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اعلان کیا ہے کہ کرکٹ کی پہلی عالمی ٹیسٹ چیمپیئن شپ 2017 میں انگلینڈ میں منعقد ہو گی اور اس میں چار ٹیمیں شرکت کریں گی۔
آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا کہ اس ٹونامنٹ میں حصہ لینے والی ٹیموں کا تعین درجہ بندی کی بنیاد پر کیا جائے گا جو یکم مئی 2013 سے 31 دسمبر 2016 کے درمیان ٹیموں کی ٹیسٹ میچوں میں کارکردگی کی بنیاد پر طے ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس چیمپیئن شپ کا مقصد ٹیسٹ میچوں کی روایتی قدر کو برقرار رکھنا ہے۔
اس ٹورنامنٹ میں کامیابی حاصل کرنے والی ٹیم کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا انعام رکھا گیا ہے۔
اس سلسلے میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا کہ ٹیسٹ فارمیٹ کرکٹ میں اہم ترین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس طرز کی چیمپیئن شپ باہمی مقابلوں کی اہمیت میں مزید اضافہ کرے گی جس سے ہر ٹیم کے پاس ٹیسٹ کرکٹ میں چیمپیئن بننے کا موقع موجود ہوگا۔‘
یاد رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو کرکٹ ٹیسٹ میچوں کی سیریز پیر کو متحدہ عرب امارات میں شروع ہو رہی ہے۔
اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ ابوظہبی میں کھیلا جائے گا۔
جنوبی افریقہ کے اس دورے میں دونوں ممالک کے مابین دو ٹیسٹ میچ، پانچ ایک روزہ میچ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے جائیں گے۔
پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ حفاظتی وجوہات کی بنا پر ختم ہونے کے بعد سے متحدہ عرب امارات میں پاکستان میزبانی کے فرائض انجام دیتا رہا ہے۔

اس ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہاٹ سپاٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے سے انکار کیا ہے اور تھرڈ امپائر کوگراؤنڈ امپائر کے فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے ’بال ٹریکنگ‘ اور صوتی آلات دستیاب ہوں گے۔
اس ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی بلے باز محمد حفیظ کو ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ ادھر پاکستانی سپن گیند باز سعید اجمل سے اس سیریز میں اچھی کارکردگی کی توقع کی جا رہی ہے تاہم جنوبی افریقہ کے خلاف گذشتہ سیریز میں ان کی کارکردگی قدرے مایوس کن تھی۔
پاکستانی ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جنوبی افریقہ کے بلے باز سعید اجمل کو برطانوی بلے بازوں سے بہتر کھیلتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں گذشتہ سال سعید اجمل نے انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں میں چوبیس وکٹیں حاصل کیں تھی۔ اُس سیریز سے پہلے انگلینڈ ٹیسٹ درجہ بندی میں پہلے نمبر پر تھا۔



