’کرکٹ بورڈ کا تحقیقاتی پینل غیر قانونی‘

این سری نیواسن
،تصویر کا کیپشناین سری نیواسن پر آئی پی ایل میں سٹے بازی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سے کافی دباؤ تھا جس کے سبب وہ مستعفی ہوگئے تھے

ممبئی ہائی کورٹ نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے مقرر کردہ دو سبکدوش ججوں کے پینل کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کرکٹ بورڈ کو حکم دیا ہے کہ وہ کرکٹ میچوں میں سٹے بازی اور میچ فکسنگ معاملے کی جانچ کے لیے نئی کمیٹی تشکیل دے۔

مفاد عامہ کی کئی عزرداریوں کی سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ کرکٹ بورڈ نے تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل میں خود اپنے ضابطوں پر عمل نہیں کیا اس لیے یہ پینل اور اس کی جانچ کی رپورٹ غیر قانونی ہے۔

کرکٹ بورڈ نے آئی پی ایل کے میچوں میں سپاٹ فکسنگ اور بیٹنگ کے انکشافات کے بعد دو ججوں کی ایک تحقیقحاتی کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی نے گزشتہ دنوں بورڈ کے صدر سری نیواسن اور ان کے داماد اور کرکٹ بورڈ کو میچ فکسنک کے سبھی الزامات میں کلین چٹ دے دیی تھی۔

سری نیواسن کے دامادگروناتھ میپن کو ممبئی پولیس نے آئی پی ایل کے میچوں پر جوا کھیلنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ میپن اپنے سسر کے ساتھ آئی پی ایل کی چنئی سپر کنگ ٹیم کے مشترک مالک بتائے جاتے ہیں۔ لیکن ان پر جوئے بازی کا الزام لگنے کے بعد ان کی ملکیت کی خبروں کی تردید کی گئی تھی۔

آئی پی ایل کے میچوں کے دوران سپاٹ فکسنک کے الزام میں دلی پولیس نے ٹیسٹ میچ کھلاڑی سری سنت سمیت کئی کھلاڑیوں کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس ان کھلاڑیوں کے خلاف فرد جرم داخل کرنے والی ہے۔

دلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ کہ سپاٹ فکسنگ اور جوئے بازی کے انکشافات کے بعد کرکٹ بورڈ کے صدر این سری نیواسن پر مستعفی ہونے کے دباؤ کافی بڑھ گیا تھا۔

انہوں نے ایک تحقیقحاتی کمیٹی بنا کر رپورٹ آنے تک بورڈ سے ‏علیحدگی اختیار کر رکھی تھی۔ لیکن کمیٹی کی طرف سے کلین چٹ دیے جانے کے بعد ان کے حامی ان کی واپسی کی تیاریاں کر رہے تھے۔

ہائی کورٹ کے فیصلے سے سری نیواسن کی امیدوں کوزبردست دھچکہ پہنچا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ تمام الزامات کی از سر نو جانچ ہوگی۔

کرکٹ میں شفافیت کی مہم کے علمبردار راہل مہرا نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں کہا کہ ’یہ کرکٹ بورڈ کے منہ پر طمانچہ ہے۔ بورڈ کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔‘

ابھی تک بورڈ کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔