
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا فائنل سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان اتوار کو پریماداسا سٹیڈیم میں کھیلا جا رہا ہے۔
سری لنکا کی ٹیم پانچ سال میں کسی بھی آئی سی سی ٹورنامنٹ کا چوتھا فائنل کھیل رہی ہے جن میں دو ہزار سات اور دو ہزار گیارہ کے عالمی کپ کے علاوہ دو ہزار نو میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا فائنل بھی شامل ہے لیکن وہ پہلی جیت کی منتظر ہے۔
کپتان مہیلا جے وردھنے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے یہ جمود توڑنے کے لیے بے تاب ہیں۔
جے وردھنے کا کہنا ہے کہ انہیں اندازہ ہے کہ وہ ٹائٹل سے صرف ایک میچ کی دوری پر ہیں لیکن ذاتی طور پر انہیں فخر ہے کہ وہ اس ٹیم کا حصہ رہے ہیں جو ان بڑے ٹورنامنٹس میں مستقل مزاجی سے کارکردگی دکھاتی آئی ہے ۔
انہوں نے کہاک یہ ٹیم کے اعلی معیار کو ظاہر کرتا ہے اورساتھ ہی کھلاڑیوں کے عزم کو بھی کہ وہ ملک کے لیے اچھا کرنا چاہتے ہیں حالانکہ سری لنکن ٹیم ایک بھی فائنل نہیں جیت پائی ہے لیکن جیت کی کوششیں اپنی جگہ موجود رہی ہیں۔
سری لنکن کپتان کا خیال ہے کہ پچھلے فائنلز کے مقابلے میں اس مرتبہ ان کی ٹیم میں زیادہ پختگی اور تجربہ موجود ہے۔
سری لنکا نے فائنل تک کے سفر میں صرف جنوبی افریقہ سے گروپ میچ میں شکست کھائی جبکہ سپرایٹ میں اس نے تینوں میچز جیتے اور پھر سیمی فائنل میں پاکستانی ٹیم کے ارمان ٹھنڈے کردیئے۔
اس عمدہ کارکردگی میں جے وردھنے کی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ لستھ مالنگا اجانتھا مینڈس اور رنگانا ہیرتھ کی موثر بالنف نمایاں رہی ہے۔
ویسٹ انڈیز وہ واحد ٹیم ہے جس نے ایک بھی گروپ میچ جیتے بغیر سپر ایٹ میں جگہ بنائی ہے۔
آئرلینڈ کے خلاف میچ بارش کی نذر ہوگیا جبکہ آسٹریلیا کے خلاف بھی بارش نے اپنا کام دکھایا اور ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت آسٹریلیا نے کامیابی حاصل کی۔
ویسٹ انڈیز نے سپرایٹ میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کو شکست دی البتہ اسے سری لنکا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ویسٹ انڈیز دو ہزار چھ میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے بعد پہلا بڑا فائنل کھیل رہی ہے۔
ویسٹ انڈین ٹیم کی تمام تر امیدوں کا مرکز کرس گیل ہیں جو اس ٹورنامنٹ میں تین نصف سنچریوں کی مدد سے دو سوانیس رنز بناکر حریف بولرز پر قیامت ڈھارہے ہیں۔ وہ پانچ اننگز میں سولہ چھکے بھی لگا چکے ہیں۔
سری لنکن ٹیم کرس گیل اور دوسرے بیٹسمینوں کو سپن کے جال سے شکار کرنے کی حکمت عملی بنائے ہوئے ہیں ۔دوسری جانب سپنرز کو اچھا کھیلنے والے سری لنکن بیٹسمینوں کے سامنے ویسٹ انڈین سپنر سنیل نارائن کی صلاحیتوں کا بھی امحتان ہوگا جنہوں نے پالیکلے میں چار اوورز میں تیئس رنز دیئے تھے تاہم وکٹ حاصل نہیں کرسکے تھے۔
فائنل اسی وکٹ پر کھیلا جائے گا جس پر سری لنکا نے پاکستان کو سیمی فائنل میں شکست دی تھی۔
فائنل کے امپائرز علیم ڈار اور سائمن ٹافل ہوں جنکا یہ آخری بین الاقوامی میچ ہے۔






























