کرس گیل کا گینگ نیم سٹائل

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 6 اکتوبر 2012 ,‭ 08:16 GMT 13:16 PST

ویسٹ انڈیز کے بلے باز کرس گیل نے مشہور گینگ نیم سٹائل اپنا کر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی رونق بڑھا رکھی ہے اور اب شائقین کو ان کی جارحانہ بیٹنگ کے ساتھ ساتھ ان کے اس رقص کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے۔

کرس گیل جب بیٹنگ کر رہے ہوں یا فیلڈنگ میں ہوں خوشی میں تھرکنے لگتے ہیں۔

گینگ نیم دراصل جنوبی کوریا کے ایک مقبول گلوکار پارک جے سینگ کا وہ مشہور سٹائل ہے جس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی سحر میں مبتلا کر رکھا ہے۔

ایک ایک اور پھر دو دو مرتبہ پیروں کو اوپر کر کے اور دونوں ہاتھوں کو ملا کر اچھلنے یا ناچنے کا یہ انداز کرس گیل کو بھی وڈیو دیکھنے کے بعد اتنا بھایا کہ وہ اپنی خوشی اور جیت کا جشن اسی رقص یا گینگ نیم اسٹائل کے ذریعے منا رہے ہیں۔

کرس گیل کہتے ہیں کہ ’انہوں نے اس بارے میں کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں کی تھی کہ وہ خود بھی یہ کریں گے لیکن چونکہ وہ موڈی ہیں اور خوشی کے اظہار کے لیے بعض اوقات عجیب وغریب حرکت کر جاتے ہیں لہذا انہیں یہ طریقہ بہت اچھا لگا ہے۔‘

کرس گیل کی اس خوشی میں اب ویسٹ انڈیز کے دوسرے کرکٹرز بھی شریک ہوگئے ہیں۔

اس سے قبل انگلینڈ کے گریم سوآن نے ایشیز جیتنے کے بعد سڈنی کے میدان میں اپنے سپرنکلر ڈانس سے بڑی مقبولیت حاصل کی تھی۔

ویسٹ انڈین کرکٹرز ماضی میں مختلف انداز اختیار کر کے شائقین کو اپنی جانب متوجہ کرتے رہے ہیں۔ چوکے کے بعد کریز پر دونوں بلے بازووں کا اپنے دستانے مکے کے انداز میں ٹکرانا ویسٹ انڈیز نے شروع کیا تھا۔

فٹبال میں گول کے بعد کھلاڑی مختلف حرکتیں کر کے انفرادیت لانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ شہرۂ آفاق ایتھلیٹ یوسین بولٹ بھی ریس جیتنے کے بعد ترچھے ہوکر ایک ہاتھ کو تیر کے انداز میں لہراتے ہیں۔

یوسین بولٹ نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے فائنل میں کرس گیل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

یوسین بولٹ کرکٹ کے بہت شوقین ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے وہ خود بھی کرکٹ کھیلتے ہیں۔ وہ ایک چیریٹی میچ میں کرس گیل کو بولڈ بھی کرچکے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ سری لنکا کے خلاف کرس گیل کا بلا خاموش نہ ہو۔

کرس گیل اس ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں جب بھی اپنے اصل رنگ میں نظر آئے باؤنڈری چھوٹی پڑ گئی اور فاصلے سمٹ گئے ہیں کیونکہ جتنی قوت سے وہ چھکے لگاتے ہیں گیند تماشائیوں میں جاگرتی ہے۔

اگر فائنل میں بھی یہ آتش فشاں ٹھنڈا نہ ہوا تو پھر ویسٹ انڈیز کو چھ سال بعد پہلا بڑا ٹورنامنٹ جیتنے سے کوئی نہیں روک سکے گا اور بقوں آسٹریلوی کپتان جارج بیلی اگر سری لنکا کو یہ فائنل جیتنا ہے تو اسے کرس گیل کو جلد آؤٹ کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>