ٹی20:’مقبول بنانا ہے تو تبدیلی ضروری‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سری لنکا سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار آف سپنر مرلی دھرن کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں مقامی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی طرز میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ انہیں بھی بقیہ دنیا میں ہونے والے مقابلوں جیسی اہمیت ملے۔
چالیس سالہ مرلی دھرن لگاتار دوسرے سال انگلش کاؤنٹی گلوسٹرشائر کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں شریک ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر انگلش لیگ انڈین پریمیئر لیگ کی طرز پر’فرنچائز فارمیٹ‘ اپنا لے تو یہ اس کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مرلی نے کہا کہ ’انہیں ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی مقامی لیگ انگلینڈ نے ہی متعارف کروائی تھی لیکن اب وہ پرانی ہو چکی ہے۔
سری لنکن سپنر کا کہنا تھا کہ ’انہیں فرنچائزڈ ٹیمیں بنانے کی ضرورت ہے اور یہ مالی طور پر کاؤنٹیوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ انگلینڈ کے لیے بہت بڑی چیز ہوگی۔ میرے خیال میں یہاں اس کی مارکیٹ ہے اور ٹی وی کے حقوق بھی آئیں گے‘۔
مرلی دھرن نے کہا کہ ’اگر انگلینڈ ایسا کر لیتا ہے تو یہ چند بہترین اقدامات میں سے ایک ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ یہ اس مقابلے کو اس سے کہیں زیادہ کامیاب بنا دے گا جتنا یہ اب ہے‘۔
خیال رہے کہ اس وقت دنیا میں کرکٹ کھیلنے والے دس ممالک میں مقامی ٹی ٹوئنٹی لیگ کھیلی جا رہی ہے جن میں مقامی اور غیر ملکی کھلاڑی شرکت کرتے ہیں۔



