فٹبال کپتان: کوچ کی وجہ سے ریٹائر ہوا

عیسیٰ خان
،تصویر کا کیپشنکوٹن بھی اچھے کوچ ہیں لیکن گیم پلان میں وہ کسی دوسرے کے مشورے کو اہمیت نہیں دیتے: محمد عیسیٰ
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان فٹبال ٹیم کے کپتان محمد عیسیٰ نے کہا ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کا سبب کوچ جارج کوٹن ہیں جنہوں نے ان کی پوزیشنز تبدیل کیں اور میچ کی حکمت عملی وضع کرتے ہوئے کبھی ان سے مشورے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

محمد عیسیٰ نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں کھیلی گئی سیف چیمپئن شپ کے دوران ہی بین الاقوامی فٹبال کو خیرباد کہنے کا اعلان کردیا تھا جس میں پاکستانی ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کرسکی۔

محمد عیسیٰ نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہیں اپنے اس فیصلے پر مایوسی ہے لیکن وہ تقریباً ایک سال سے سٹرائیکر کی پوزیشن پر کھیلنے کی بھیک مانگ رہے تھے لیکن کوچ جارج کوٹن انہیں اس پوزیشن پر کھلانے کے لیے تیار نہیں تھے بلکہ وہ انہیں مڈ فیلڈ میں کھلاتے رہے اور پھر یکایک انہیں ونگ میں کھلایا۔

محمد عیسیٰ نے کہا کہ جارج کوٹن نے انہیں سٹرائیکر سے ہٹا کر مڈ فیلڈ میں کھلانے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ سست ہوگئے ہیں اگر ایسا تھا تو پھرانہیں ونگ میں کھلانے کی منطق سمجھ سے باہر ہے۔

محمد عیسیٰ نے کہا کہ کوچ نے نہ صرف ان کی پوزیشن تبدیل کی بلکہ میچ کی حکمت عملی وضع کرتے وقت بھی وہ انہیں نظرانداز کر رہے تھے اور ٹیم میں شامل پاکستانی نژاد برطانوی کھلاڑیوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں نے پاکستان کو کوئی ٹورنامنٹ نہیں جتوایا بلکہ اب جب سیف گیمز میں ٹیم کو ان کی ضرورت ہے تو انہوں نے کہہ دیا ہے کہ وہ سیف گیمز میں حصہ نہیں لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے اس بات کے مخالف رہے ہیں کہ ان مہمان کھلاڑیوں کو براہ راست میچ نہیں کھیلنا چاہیے بلکہ ٹیم میں ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے کیمپ میں آئیں اور دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر کھیلیں۔

ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر نظرثانی کے بارے میں سوال کے جواب میں محمد عیسیٰ نے کہا کہ جن حالات سے وہ گزرے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ان کی واپسی مشکل ہے کیونکہ وہ بے اختیار کپتان یا کھلاڑی کے طور پر کھیلنے کے حق میں نہیں۔

محمد عیسیٰ نے جارج کوٹن کا سابق کوچ شاریدا سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ شاریدا ٹیم سے مشورہ کرتے تھے کوٹن بھی اچھے کوچ ہیں لیکن گیم پلان میں وہ کسی دوسرے کے مشورے کو اہمیت نہیں دیتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر فیصل صالح حیات سے ان کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔