پاکستانی فٹبال اب بے رنگ نہیں

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی فٹبال ٹیم میں حالیہ برسوں کے دوران پاکستانی نژاد یورپی کھلاڑیوں کی شمولیت یہ ظاہر کررہی ہے کہ پاکستانی فٹبال اب غیر دلچسپ نہیں رہی اور بیرون ملک رہنے والے پاکستانی نوجوان ایک نئے تجربے کے طور پر اس سے تعلق قائم کرنے میں خوشی محسوس کر رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ذیشان رحمان، عاطف بشیر، عدنان فاروق احمد، عثمان گوندل، الطاف احمد اور کاشف صدیقی پاکستانی فٹبال ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔ اس وقت اے ایف سی چیلنج کپ کے گروپ ڈی کے کوالیفائنگ میچز کولمبو میں ہو رہے ہیں جس میں حصہ لینے والی پاکستانی ٹیم میں شامل دو کھلاڑی عدنان فاروق احمد اور عاطف بشیر برطانیہ میں پروفیشنل فٹبال لیگ کھیلتے ہیں۔
جرمنی میں پیدا ہونے والے چوبیس سالہ عاطف بشیر کے والد برطانیہ میں مقیم پاکستانی ہیں جبکہ والدہ ترک نژاد جرمن ہیں۔وہ فرسٹ ڈویژن ویلش فٹبال لیگ میں بیری ٹاؤن فٹبال کلب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عاطف بشیر کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ برطانیہ، جرمنی یا ترکی میں سے بھی کسی ایک ملک کی نمائندگی کرسکتے تھے لیکن انہوں نے پاکستان کو ترجیح دی اور گزشتہ سال مالدیپ میں کھیلی گئی ساف چیمپئن شپ میں پاکستان کے لیے کھیلے۔ ان کے علاوہ عدنان فاروق احمد برطانیہ میں پورٹ ویل کی نمائندگی کرتے ہیں۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن نے انگلینڈ میں لیگ کھیلنے والے ذیشان رحمان کو بھی کیمپ میں بلایا تھا لیکن ان کے کلب نے انہیں پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی اور فیڈریشن کو عاطف بشیر کو سکواڈ میں شامل کرنا پڑا۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر فیصل صالح حیات نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں یہ پاکستانی نژاد کھلاڑی ایک منظم انداز میں کھیلتے ہیں اور جب وہ پاکستان آکر کھیلتے ہیں تو مقامی فٹبالرز کو ان سے کافی سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور ٹیم کی کارکردگی پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے لیکن وہ چاہیں گے کہ مستقبل میں یہ کھلاڑی آخری لمحات میں ٹیم میں شامل ہونے کے بجائے کیمپ شروع ہوتے ہی اس کا حصہ بن سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کو پاکستانی ٹیم میں شامل کرنے کا مقصد ان کی حوصلہ افزائی کرنا تھا اس کے علاوہ ان کھلاڑیوں نے بھی پاکستانی ٹیم میں اس لیے دلچسپی اختیار کی کیونکہ انہوں نے پاکستانی فٹبال کا معیار بڑھتے ہوئے دیکھا۔ فیصل صالح حیات کا کہنا ہے کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے محددو وسائل میں رہتے ہوئے آسٹرین کوچ جارج کوٹن کی خدمات حاصل کی ہیں کیونکہ دنیا کے صف اول کے کوچز کا معاوضہ بہت زیادہ ہے جو پاکستان فٹبال فیڈریشن کے لیے ادا کرنا ممکن نہیں تاہم انہیں کوٹن کی صلاحیتوں پر بھروسہ ہے کہ ان کی موجودگی میں ٹیم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر کا کہنا ہے کہ وہ فیفا سے کراچی کا گول پروجیکٹ منظور کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں کیونکہ اس کی ڈیڈلائن گزرنے کے بعد سندھ کی حکومت نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کو پروجیکٹ کی زمین دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں گول پروجیکٹ مکمل ہونے سے پورے صوبے کے فٹبالرز کا فائدہ ہوا ہے جبکہ پشاور میں زیرتکمیل منصوبے کے فوائد صوبے کے نوجوان فٹبالرز کو حاصل ہونگے ۔ کراچی میں سب سے زیادہ ٹیلنٹ ہے اور اس شہر میں گول پروجیکٹ کے ذریعے باصلاحیت کھلاڑیوں کو بہت فائدہ ہوگا۔



