پاکستان ، کرکٹ کے لیے کتنا محفوظ؟

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر لاہور میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد یہ سوال بڑی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ کیا پاکستان بین الاقوامی کرکٹ اور کرکٹرز کے لیے محفوظ تھا یا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوگیا کہ پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے ایک محفوظ مقام ہے۔
حالیہ برسوں میں جب غیرملکی ٹیمیں سکیورٹی خدشات کے سبب پاکستان آنے کے لئے تیار نہیں تھیں تو پاکستانی کرکٹ حلقوں میں یہ آواز شدت سے اٹھتی رہی کہ دہشت گردی کسی ایک خاص ملک تک محدود نہیں اور یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے لہذا صرف پاکستان کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسے انٹرنیشنل کرکٹ تک محدود کر دینا درست نہیں۔
اس بارے میں جب سابق پاکستانی کپتان رمیز راجہ سے یہ پوچھا گیا کہ وہ ہمیشہ یہ آواز اٹھاتے رہے ہیں کہ پاکستان کو انٹرنیشنل کرکٹ سے محروم کردینا ناانصافی ہوگی لیکن اس تازہ ترین صورتحال سے اس موقف پر کتنا برا اثر پڑے گا؟ رمیز راجہ نے کہا کہ یقیناً یہ صورتحال انتہائی خراب ہے اور پاکستانی کرکٹ کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے لیکن وہ اب بھی اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ دہشت گردی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور پاکستان کو معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔رمیز راجہ نے کہا کہ کرکٹ کی عالمی برادری کو پاکستان کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے اور اسے تنہا چھوڑنے کا مطلب صرف پاکستانی کرکٹ ہی کا نقصان نہیں بلکہ اس کے منفی اثرات انٹرنیشنل کرکٹ پر بھی مرتب ہونگے کیونکہ پاکستان کا عالمی کرکٹ میں ہمیشہ سے ایک مقام رہا ہے۔
رمیز راجہ نے کہا کہ سری لنکا کی ٹیم سے انہیں بہت ہمدردی ہے کیونکہ وہ مشکل صورتحال میں پاکستان کا ساتھ دینے آئی تھی اور اسے یہ صلہ ملا ۔انہوں نے کہا کہ یونس خان کی ٹرپل سنچری کی شکل میں پاکستان کا امیج مثبت انداز میں سامنے آیا تھا لیکن لاہور کے واقعے نے سب کچھ بدل دیا ہے اب ہمیں اچھے دنوں کا انتظار کرنا ہوگا اور وقت ہی اس زخم کو بھرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان یقیناً تعلقات خوشگوار نہیں ہیں لیکن کرکٹ کی سطح پر بھارت کی حمایت پاکستان کے لئے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کو ٹھنڈے دماغ سے ورلڈ کپ کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک پاکستان دہشتگردی کی جنگ سے نہیں نکلے گا مستقبل میں کھیلوں کا کوئی بھی بین الاقوامی مقابلہ یہاں نہیں ہو سکے گا۔عمران خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ یا مستقبل میں کسی ٹیم کے پاکستان آنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والا حملہ ہوشیاری سے طے شدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا کیونکہ پاکستان میں عام طور پر ہونے والے خود کش حملے بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ شہ سرخیوں میں نہیں آتے لیکن اس خاص واقعے نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کرلی۔
عمران خان نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ حملہ کیا ان کی سری لنکن ٹیم سے کوئی دشمنی نہیں تھی کیونکہ وہ اب تک جو کچھ کرتے آئے ہیں وہ ایک ردعمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں غیرملکی ہاتھ کے ملوث ہونے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا یہ تامل ٹائگر بھی ہوسکتے ہیں اور وہ بھی جو پاکستان کو غیرمستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم کو جو سکیورٹی فراہم کی گئی اس سے دس گنا زیادہ سکیورٹی مشیرداخلہ رحمن ملک کو دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوچ کر ہی دل دہل جاتا ہے کہ اگر سری لنکن ٹیم کی بس راکٹ یا گرنیڈ کی لپیٹ میں آجاتی تو پوری ٹیم ہی اس کا نشانہ بن جاتی۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان آنے کے لیے کوئی تیار نہیں تھا ایسے میں سری لنکن ٹیم نے خیرسگالی کے جذبے کے تحت پاکستان آنا قبول کیا لیکن اسے سکیورٹی کی جو یقین دہانی کرائی گئی اس واقعے نے اس کی قلعی کھول دی ہے اور حکام کو اپنی نااہلی تسلیم کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان آصف اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار کرکٹرز دہشت گردی کی براہ راست زد میں آئے ہیں اور اس واقعے نے اس سوچ اور دعوے کی بھی نفی کردی ہے کہ پاکستان میں کرکٹرز پر حملے نہیں ہوسکتے اور وہ یہاں کھیلنے کے لیے محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھارتی ٹیم کا دورہ منسوخ ہوا تو بہت شور مچا کہ یہ منسوخ کیوں ہوا لیکن تازہ ترین واقعے کے بعد اب بھارتی ٹیم کے پاکستان آنے کے بارے میں بھول جائیں۔ آصف اقبال نے کہا کہ 'اب یہ معاملہ سفید فام ٹیموں کا نہیں رہا جو پاکستان میں کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہوتی تھیں‘۔
آصف اقبال نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ابھی وقت ہے لیکن انہیں نہیں لگتا کہ آئی سی سی اور اس کے رکن ممالک پاکستان کوانٹرنیشنل کرکٹ کا مزید ایک موقع دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اس وقت حالات کے رحم وکرم پر ہے۔ دہشت گردی اس وقت عالمگیر مسئلہ ہے اور اہم نوعیت کے بین الاقوامی ایونٹس ہمیشہ سے خطرے میں رہتے ہیں لیکن اصل چیز جو دیکھی جاتی ہے وہ یہ کہ سکیورٹی کے انتظامات کتنے موثر کئے جاتے ہیں۔یقیناً پاکستانی حکومت نے سکیورٹی کے ہرممکن انتظامات کیے ہونگے لیکن ان حالات میں جب دہشت گرد تنظیموں کو اپنی جان کی پروا نہ ہو تو انہیں روکنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب سے افسوس کی بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ کوئی کرکٹ ٹیم دہشت گردی کی لپیٹ میں آئی ہے یہ ایک خطرناک بات ہے اور اب صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ایشیا میں بھی کرکٹ ٹیموں کے دورے متاثر ہوسکتے ہیں۔احسان مانی کا کہنا ہے کہ لاہور دہشت گردی کے بعد2011ء میں ہونے والے ورلڈ کپ کے بارے میں آئی سی سی زیادہ سخت اور باریک بینی پر مبنی سوچ اختیار کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ظاہر سی بات ہے کہ اس واقعے کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کو وقتی طور پر زبردست دھچکہ پہنچے گا اور پاکستان خود کو تنہا محسوس کر سکتا ہے۔احسان مانی نے کہا کہ جو کچھ ہوا ہے وہ پاکستان کے اس موقف کے بالکل برعکس ہے کہ یہاں کرکٹ اور کرکٹرز کو دہشت گردی سے کوئی خطرہ نہیں۔ ایشیائی ممالک پاکستان آکر کھیلتے رہے تھے لیکن اس واقعے کے بعد انہیں یہ محسوس ہورہا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں پاکستان بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی نہیں کرسکے گا۔



