لاہور: لنکن ٹیم پر حملہ، کئی کھلاڑی زخمی

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو سٹیڈیم لے جانے والی بس پر منگل کی صبح تقریباً ایک درجن نقاب پوش حملہ آوروں کی فائرنگ میں سری لنکا کے چھ کھلاڑی زخمی اور پنجاب پولیس کے چھ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایک عام شہری کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
سری لنکا کے کرکٹ حکام کے مطابق زخمیوں ہونے والے کھلاڑیوں میں سمرا وِیرا، اجنتا مینڈس، کمارا سنگاکارا اورتھرنگا پرانا وتھانا شامل ہیں۔
ہسپتال منتقل کیے جانے والے دو کھلاڑیوں میں سے ایک سمارا ویرا ہیں جنہوں نے کل ہی قذافی سٹڈیم میں ڈبل سینچری بنائی تھی۔دوسرے پرنا وی تھانہ ہیں ان دونوں کو بھی سری لنکا بھجوانے کا انتظام کیا جارہا ہے۔
ان کھلاڑیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر فیاض رانجھا کے مطابق دونوں کھلاڑی خطرے سے بالکل باہر ہیں اور انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعہ ہسپتال سے منتقل کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔
سمیرا ویرا کے کوہلے میں گولی لگی تھی جب کہ پرانا وتھانا کے سینے میں کچھ چھرے لگے تھے۔
سابق کرکٹر عبدالقادر کا کہنا ہے کہ وہ دونوں کھلاڑیوں سے ملکر آئے ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

فائرنگ کے بعد گورنر پنجاب سلمان تاثیر جائے واردات پر پہنچ گئے اور انہوں نے کہا کہ اس حملے میں وہی عناصر ملوث ہیں جنہوں نے بھارت کے شہر ممبئی پر گزشتہ سال حملہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی تربیت یافتہ دہشت گرد معلوم ہوتے تھے جنہوں نے بڑے سکون کے ساتھ یہ کارروائی کی ہے۔ لاہور سٹی پولیس کے سربراہ حاجی حبیب الرحمان نے کہا کہ کسی بھی حملہ آور کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد نقاب پوش مسلح افراد ایک کار چھین کر فرار ہو گئے۔ سری لنکا کےکم سے کم آٹھ کھلاڑیوں کو پاکستانی فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے قذافی سٹڈیم سے منتقل کیا گیا۔ ٹیم کو خصوصی طیارے سے کولمبو بھیجنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے سری لنکا ٹیم کے دورے کی منسوخی کا باضابطہ اعلان پہلے ہی کردیا تھا۔
حملے میں میچ کے چوتھے ایمپائر احسن رضا شدید زخمی ہیں اور ان کی حالت ابھی خطرے سے باہر نہیں ہے۔ ان کے پیٹ میں گولیاں لگی ہیں اور ان کا آپریشن کیا جا رہا ہے۔ سری لنکا کی ٹیم کو قذافی سٹیڈیم سے پاکستانی افواج کے ایک ہیلی کاپٹر پر لاہور سے روانہ کر دیا گیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ انہیں کے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے سری لنکا بھیجا جائے گا۔ ادھر کولمبو میں سری لنکا کے صدر مہندا راجاپکشا نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے وزیر خارجہ کو فوراً پاکستان جانے کا حکم دیا ہے تاکہ ٹیم کو واپس لانے کا انتظام کیا جاسکے۔ ٹی وی پر دکھائی جانے والی تصاویر میں حملہ آوروں کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ سری لنکا کی ٹیم کو سٹیڈیم لے جانے والی بس کے ڈرائیور خلیل احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ قدافی سٹیڈیم کے قریب لبرٹی چوک کے پاس ان کی بس پر عقب سے ایک دستی بم پھینکا گیا جو کہ بس پر نہیں لگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد سامنے کی جانب سے بھی ایک نقاب پوش حملہ آور نے دستی بم پھینکا جو کہ بس کے نیچے گرا لیکن انہوں نے بس کی رفتار بڑھا دی اور دستی بم بس کے پیچھے پھٹا۔ خلیل احمد نے بتایا کہ اس دوران بس پر چاروں طرف سے فائرنگ شروع ہو گئی جس میں ان کے مطابق دو کھلاڑی زخمی ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد بارہ سے پندرہ تک تھی جو مختلف اطراف سے بس پر فائرنگ کر رہے تھے۔



