انڈین کرکٹ بورڈ، جہاں رہنے کے لیے امت شاہ کا ’یس مین‘ ہونا ضروری ہے

    • مصنف, جسوندر سدھو
    • عہدہ, سپورٹس جرنلسٹ

آئندہ منگل کو انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے عہدیداروں کا انتخاب ہونے والا ہے۔ سابق انڈین کپتان اور کرکٹ بورڈ کے موجودہ صدر سورو گنگولی اس بااثر بورڈ کے انتخاب سے بظاہر باہر ہو چکے ہیں۔

بورڈ کے صدر کے لیے 1983 کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے ایک رکن راجر بنی نے صدر کے عہدے کے لیے اپنا نام داخل کرایا ہے۔ امکان یہی ہے کہ وہ بلا مقابلہ جیتیں گے۔ ابھی تک کسی اور نے اپنی نامزدگی داخل نہیں کروائی ہے۔

بی سی سی آئی کے اس الیکشن میں وزیر داخلہ امت شاہ کے بیٹے جے شاہ دوبارہ سیکریٹری کے عہدے کی تیاری میں ہیں۔ ملک کے وزیر اطلاعات اور نشریات انوراگ ٹھاکر کے بھائی ارون دھومل 280 ارب 390 کروڑ مالیت کے آئی پی ایل چیئرمین ہو سکتے ہیں جبکہ ان کی جگہ بی جے پی ممبئی کے صدر آشیش شیلر بورڈ کے خزانچی بن سکتے ہیں۔

انڈیا کا کرکٹ بورڈ دنیا کا امیر ترین کرکٹ بورڈ ہے۔ ابھی حال ہی میں کرکٹ بورڈ نے آئی پی ایل کے نشریاتی حقوق ایک ٹی وی کمپنی کو 10 برس کے لیے 230 ارب 574 کروڑ روپے میں فروخت کیے۔

بورڈ کی آمدنی اور اثر و رسوخ کے پیش نظر سیاسی رہنما اس پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

معروف تجزیہ کار پردیپ میگزین کہتے ہیں ’بی سی سی آئی پر ہمیشہ سے سیاست حاوی رہی ہے۔ ابتدا میں یہ بیوروکریٹس اور کاروباری شخصیات کے زیر اثر رہا لیکن گذشتہ 20-25 برسوں میں اس پر سیاسی رہنما حاوی ہو گئے ہیں جس میں حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں دونوں کے رہنما شامل ہوتے تھے، لیکن بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نے کرکٹ بورڈ کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔‘

کئی حلقوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ سورو گنگولی کرکٹ بورڈ کی سیاست کی نذر ہو گئے ہیں۔ بعض رہنماؤں کا الزام ہے کہ بی جے پی چاہتی تھی کہ سورو بنگال میں بی جے پی میں شامل ہوں لیکن جب وہ نہیں ہوئے تو انھیں کرکٹ بورڈ سے باہر کر دیا گیا۔

پردیپ میگزین کہتے ہیں ’اس معاملے کو سمجھنا بہت آسان ہے۔ سورو گنگولی امت شاہ کیمپ کی حمایت سے صدر بنے تھے۔ اب ان کے پاس وہ حمایت نہیں ہے۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے: سورو یس مین نہیں ہیں۔ گذشتہ دو برس سے امت شاہ اور ان کے بیٹے جے شاہ سے ان کے تعلقات اچھے نہیں رہے ہیں۔ کئی فیصلوں میں ان کے اختلافات کُھل کر سامنے آئے۔ رہی بات سیاست کا شکار بننے کی تو سورو خود سیاست کے سبب بورڈ کے صدر بنے تھے اور اب اسی سیاست کی وجہ سے انھیں جانا پڑ رہا ہے۔‘

معاملہ اب صرف کرکٹ بورڈ کی کمائی اور اس کی طاقت کا نہیں رہا ہے۔

انڈیا کی حکومت نے حالیہ برسوں میں کرکٹ کا استعمال سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے منصوبوں اور پالیسیوں کو مشتہر کرنے اور اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے بھی کیا ہے جو اس سے پہلے کی حکومتوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

سابق کپتان وراٹ کوہلی کے پانچ کروڑ سے زیادہ فالوورز ہیں۔ باقی سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اگر دیکھیں تو وہ حیران کُن ہیں۔ اگر کوہلی حکومت کے کسی منصوبے کے بارے میں کچھ لکھتے ہیں یا وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں وہ یہ لکھیں کہ انھیں تر‏غیب انھیں سے ملتی ہے تو عوام پر اس کا اثر گہرا پڑتا ہے۔

سورو گنگولی کا زوال اور جے شاہ کا عروج

آئندہ ہفتے کرکٹ بورڈ سے سورو گنگولی کو الوداع کہے جانے کی خبروں کے درمیان انھوں نے کہا کہ کوئی کھلاڑی نہ تو ہمیشہ کھیل سکتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ کے لیے منتظم کی ذمہ داری ادا کر سکتا ہے۔

ایک پروگرام میں انھوں نے کہا ’میں بنگال کرکٹ بورڈ کا پانچ برس تک صدر رہا۔ بی سی سی آئی کا بھی کئی برس تک صدر رہا۔ اس مدت کے بعد آپ کو اسے چھوڑنا ہی ہو گا اور آگے بڑھنا ہو گا۔‘

سورو کے جانے کے بعد کرکٹ بورڈ میں وزیر داخلہ امت شاہ کے بیٹے جے شاہ کا رتبہ اور بھی بلند ہو جائے گا۔ ان کے پاس اب خود اپنی اور اپنوں کی ٹیم ہے۔ یہ اُنھیں بہت طاقتور بناتا ہے۔

بی سی سی آئی پر کنٹرول کا مطلب ہے کہ اب وہ دوسری ریاستوں کے کرکٹ بورڈوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں جو سیاسی اعتبار سے بہت اہم ہے۔ پھر ان کے پاس نشریاتی حقوق کا اختیار ہے۔

اس سے بہت سے معاہدے منسلک ہوتے ہیں جو کاروباری برادری کو اپنی طرف مائل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

جے شاہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے ساتھ کرکٹ بورڈ کی سرگرمیاں ممبئی سے ہٹ کر اب پوری طرح احمدآ باد منتقل ہوتی جا رہی ہیں۔

سپورٹ تجزیہ کار پردیپ میگزین کہتے ہیں ’گنگولی ہاں میں ہاں ملانے والے شخص نہیں تھے۔ نئے صدر راجر بنی اچھے کھلاڑی رہ چکے ہوں گے لیکن وہ امت شاہ کیمپ کے یس مین ہوں گے۔‘