آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سہ فریقی سیریز: پاکستان کی نیوزی لینڈ کے خلاف چھ وکٹوں سے جیت، حارث، شاداب اور بابر میچ ونرز
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے پاس وقت کم ہے اور اسے دوہرے مسائل کا سامنا ہے۔ ایک جانب مڈل آرڈر بیٹنگ کے معاملات پریشان کن ہیں تو دوسری جانب اسے اپنے کھلاڑیوں کے مکمل فٹ ہونے کا بے چینی سے انتظار ہے۔
شاہین شاہ آفریدی اور فخر زمان اس سیریز میں نہیں ہیں۔ نسیم شاہ اور محمد حسنین بیمار ہیں اور عثمان قادر کا انگوٹھا فریکچر ہے۔
پاکستانی ٹیم انہی مسائل کے ساتھ حریفوں سے بھی نبرد آزما ہے۔ سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے پہلے میچ میں اس نے بنگلہ دیش کو 21 رنز سے شکست دی تھی اور ہفتے کے روز اس نے نیوزی لینڈ کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر سہ فریقی سیریز کے فائنل کی طرف قدم بڑھا دیے۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم گذشتہ سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل کھیلی تھی لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اسی ٹورنامنٹ میں وہ پاکستان سے ہاری بھی تھی۔
اس سال اس سہ فریقی سیریز سے قبل نیوزی لینڈ کی ٹیم 10میں سے نو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل جیت چکی تھی لیکن اس کا سامنا ویسٹ انڈیز، آئرلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ہالینڈ جیسی کمزور ٹیموں سے رہا تھا۔
حارث رؤف اور وسیم کی مؤثر بولنگ
نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو فن ایلن، حارث رؤف اور شاہنواز دھانی پر حاوی نظر آئے لیکن محمد وسیم نے انھیں اپنے پہلے ہی اوور میں اپنی ہی گیند پر کیچ کر لیا۔
کپتان کین ولیم سن اور ڈیون کانوے کی موجودگی میں نیوزی لینڈ نے پاور پلے کا اختتام 42 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ پر کیا۔
کین ولیم سن کی موجودہ فارم اچھی نہیں ہے جس پر نیوزی لینڈ کے کوچ سے سوالات بھی ہوئے ہیں۔ گذشتہ ماہ آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کے تینوں میچوں میں وہ بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہے تھے اور اس میچ میں بھی وہ رنز کے لیے تگ و دو کرتے رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاور پلے میں فاسٹ بولرز کے چھ اوورز کے بعد شاداب خان، افتخار احمد اور محمد نواز کا تکونی اسپن اٹیک ایکشن میں آیا تو کین ولیم سن اور ڈیون کانوے نے چانس لینے شروع کیے۔ شاداب خان کانوے کو آؤٹ کرنے میں تقریباً کامیاب ہوگئے تھے لیکن باؤنڈری پر حارث رؤف کیچ لینے کے بعد توازن برقرار نہ رکھ سکے اور وکٹ، چھکے میں بدل گئی۔
کانوے نے محمد نواز کو بھی اسی خیال سے کھیلا کہ اس بار بھی گیند باؤنڈری کے باہر ہوگی لیکن اس مرتبہ گیند ڈیپ مڈ وکٹ پر کھڑے حیدر علی کے ہاتھوں میں گئی۔
کانوے نے 35 گیندوں پر دو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے36 رنز بنائے۔ انھوں نے ولیم سن کے ساتھ 61 رنز کا اضافہ کیا۔ کانوے کی وکٹ کپتان ولیم سن پر بڑھنے والے دباؤ کا پتہ دے گئی کیونکہ محمد نواز کے اگلے ہی اوور میں وہ 30 گیندوں پر 31 رنز بنا کر بولڈ ہو گئے۔
دو وکٹیں گرنے کے بعد عام خیال یہی تھا کہ پاکستانی بولرز نیوزی لینڈ کے بیٹسمینوں کو سر اٹھانے نہیں دینگے لیکن مارک چیپمین نے محمد نواز کو ہی اپنے نشانے پر لے لیا اور ان کے ایک اوور میں دو چھکے اور دو چوکے مار دیے۔
22 رنز کے اس اوور سے نیوزی لینڈ کی سانسیں ضرور بحال ہوئیں لیکن محمد نواز کے بولنگ اعداد وشمار بری طرح متاثر ہو گئے جنھوں نے اپنے چار اوورز کا اختتام 44 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر کیا ۔
گلین فلپس کو اپنے آؤٹ ہونے کا یقین ہی نہ آیا جب 18 کے انفرادی سکور پر ان کا اچھا خاصا شاٹ باؤنڈری پر آصف علی کے ہاتھوں میں جاکر محفوظ ہو گیا اور شاہنواز دھانی کو کراؤڈ کے پاس جاکر وکٹ کی خوشی منانے کا موقع مل گیا۔
حارث رؤف اور محمد وسیم جونیئر کی انتہائی مؤثر بولنگ کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم آٹھ وکٹوں پر 147 رنز تک ہی پہنچنے میں کامیاب ہو سکی۔ نیوزی لینڈ نے پہلے دس اوورز میں صرف ایک وکٹ پر 70 رنز بنائے تھے جبکہ آخری دس اوورز میں وہ سات وکٹوں پر 77 رنز کا اضافہ کر پائی۔
حارث رؤف کا آخری اوور نیوزی لینڈ کو تین زخم دے گیا۔ اس اوور میں جمی نیشم، مائیکل بریسویل اور 32 رنز بنانے والے مارک چیپمین کی وکٹیں گریں۔
حارث رؤف نے 28 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔ وسیم جونیئر 20 رنز کے عوض دو وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔ شاداب خان اگرچہ کوئی وکٹ نہ لے سکے لیکن ان کے چار اوورز میں صرف 21 رنز بنے۔
پاکستانی اننگز کے نشیب و فراز
دو بہترین بیٹسمینوں بابر اعظم اور محمد رضوان کا مقابلہ دو ورلڈ کلاس بولرز ٹرینٹ بولٹ اور ٹم ساؤدی سے تھا۔ بابر اعظم نے ٹرینٹ بولٹ کا پہلا اوور میڈن کھیلا لیکن ان کے اگلے اوور میں وہ تین چوکے لگانے میں کامیاب ہو گئے۔
بابراعظم کی خوش قسمتی کہ ٹم ساؤدی کی گیند پر کور پوزیشن پر گلین فلپس نے ان کا آسان کیچ گرا دیا لیکن اسی اوور میں نیوزی لینڈ کو محمد رضوان کی اہم وکٹ مل گئی۔
محمد رضوان نے 12 گیندوں پر چار رنز بنائے اور اپنی وکٹ بچانے کے لیے انھوں نے ریویو کا سہارا لیا لیکن چونکہ یہ امپائر کال تھی لہذا فیصلہ رضوان کے خلاف گیا۔
شان کا اس گراؤنڈ پر تیسرا صفر
ون ڈاؤن بیٹسمین شان مسعود سامنا کرنے والی دوسری ہی گیند پر بلیئر ٹکنر کی گیند پر وکٹ کیپر کانوے کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ یہ شان مسعود کا ہیگلی اوول گراؤنڈ میں تیسرا صفر ہے۔
گذشتہ سال نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں وہ صفر کی خفت سے دوچار ہوکر ٹیم سے باہر ہو گئے تھے۔
شان مسعود کی پاکستانی ٹیم میں واپسی ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے ذریعے ہوئی ہے۔ اگرچہ انھوں نے انگلینڈ کےخلاف حالیہ سیریز میں دو نصف سنچریاں بنائیں لیکن یہ دونوں نصف سنچریاں ہارے ہوئے میچوں میں تھیں جس کا فائدہ ٹیم کو نہ پہنچ سکا۔
یہ بھی پڑھیے
شاداب کمال کے کرکٹر ہیں
شاداب خان نے مؤثر بولنگ کے بعد بیٹنگ بھی خوب کی۔ 37 رنز پر دو وکٹیں گرنے کے بعد شاداب خان کو چوتھے نمبر پر بھیجنے کا جرات مندانہ فیصلہ درست ثابت ہوا۔ بابر اعظم اور ان کے درمیان 61 رنز کی شراکت میں شاداب خان کا حصہ 34 رنز رہا جس میں دو چھکے اور دو چوکے شامل تھے۔ وہ اپنا کام خوب کر گئے۔
شاداب خان کے آؤٹ ہونے کے بعد محمد نواز بھی اوپر کے نمبر پر بھیجے گئے۔ نواز کی آخر وقت تک وکٹ پر موجودگی بہت ضروری تھی لیکن17 ویں اوور کی آخری گیند پر وہ 16 رنز بناکر ٹرینٹ بولٹ کو وکٹ دے گئے۔ اس وقت پاکستانی ٹیم جیت سے 24 رنز دور تھی۔
بابر اعظم نے ایک اینڈ کو ذمہ داری سے سنبھالتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اپنی 28 ویں نصف سنچری سکور کی ۔وہی پاکستانی ٹیم کی آخری اور سب سے بڑی امید تھے اور وہ ٹیم کو جتوا کر ہی واپس لوٹے۔
لیکن پاکستانی ٹیم کے نقطہ نظر سے خوشی کی بات حیدر علی کی مختصر مگر ٹیم کو جیت کے قریب لانے والی بیٹنگ تھی جس میں انھوں نے صرف دو گیندوں پر ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے 10 رنز سکور کیے۔
بابر اعظم نے 53 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 11 چوکوں کی مدد سے 79 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔ پاکستانی ٹیم نے جب مطلوبہ سکور پورا کیا تو 10گیندیں باقی تھیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
سابق کرکٹر محمد آصف نے پاکستان کی بالنگ کی تعریف کی۔ جہاں انھوں نے حارث اور وسیم کو سراہا وہیں شاداب اور بابر اعظم کی اننگز کو بھی پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کے لیے ایک مثبت پیغام قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر نیوزی لینڈ اور پاکستان کا میچ ختم ہونے کے بعد بھی ٹاپ ٹرینڈز میں دکھائی دے رہا ہے۔
بنتِ خالد نے لکھا آج سارا پاکستان شاداب ہے۔
ہیری بروکر نے لکھا حارث رؤف کا نام یاد رکھیے۔ انھوں نے حارث کی پرفارمنس کے باعث انھیں تباہ کرنے والا کہہ کر پکارا۔
جہاں بہت تعریف ہو رہی ہے وہیں اس میچ کو پاکستانی ٹیم کےمڈل آڈر کے لیے ایک پیغام اور یادہانی بھی قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ پرفارم کرنا شروع کریں۔
ایسا ہی مشورہ ساج صادق نامجی صارف نے دیا۔
مسکان نے انڈیا کے نام پیغام میں لکھا ’ہمسایوں کے لیے یادہانی کہ نیوزی لینڈ اپنی فل سٹرینتھ کے ساتھ کھیل رہا تھا۔‘