آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کی بنگلہ دیش کو 21 رنز سے شکست: مڈل آرڈر پھر ناکام، رضوان اکیلے کب تک؟
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیمیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ایک ہی گروپ میں ہیں، اس لیے نیوزی لینڈ کی یہ سہ فریقی سیریز ان دونوں کے لیے عالمی مقابلے میں جانے سے قبل اپنی غلطیاں سدھارنے کا آخری موقع فراہم کر رہی ہے۔
جب یہ دونوں ٹیمیں جمعہ کے روز کرائسٹ چرچ کے ہیگلی اوول میں مدمقابل آئیں تو اس سال دونوں ٹیموں کی کارکردگی کا سب کو بخوبی اندازہ تھا۔ بنگلہ دیش کی ٹیم سلیکشن کے عمل جراحی سے گزری ہے تو دوسری جانب پاکستانی ٹیم اگرچہ انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں تین میچ جیتنے پر خوش لیکن اپنے مڈل آرڈر بیٹسمینوں کے گرجنے اور برسنے کی شدت سے منتظر ہے۔
بنگلہ دیش کے خلاف بھی یہ مڈل آرڈر بیٹنگ گرجی نہ برسی لیکن محمد رضوان ایک بار پھر ٹیم کے کام آئے۔ باقی کسر بولنگ نے پوری کر کے پاکستان کو 21 رنز کی جیت سے ہمکنار کر دیا۔
یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی بنگلہ دیش کے خلاف 16 میچوں میں 14ویں کامیابی ہے۔ اس سال پاکستانی ٹیم 15 میں سے 7واں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل جیتی ہے جبکہ بنگلہ دیش کی اس سال 13 میچوں میں یہ 8ویں شکست ہے۔
پاکستانی اننگز میں کیا ہوا؟
بنگلہ دیشی ٹیم اپنے سب سے تجربہ کار کرکٹر شکیب الحسن کے بغیر میدان میں اُتری جبکہ انگلینڈ کے خلاف آخری ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والی پاکستانی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں۔
خوشدل شاہ اور محمد حسنین کو حیدر علی اور شاہنواز دھانی کے لیے جگہ چھوڑنی پڑی۔ ٹاس کپتان نورالحسن نے جیتا اور پہلے بولنگ کے ذریعے پاکستانی ٹیم کو بڑے سکور سے روکنے کا فیصلہ کیا۔
بابر اعظم اس وکٹ پر 170 رنز کے بارے میں سوچ رہے تھے تاہم پاکستانی ٹیم 5 وکٹوں پر 167رنز تک پہنچ پائی جس کے لیے وہ محمد رضوان کی شکر گزار تھی۔
بنگلہ دیش کو بابر اعظم اور محمد رضوان کو الگ کرنے کا سنہری موقع چوتھے اوور میں ملا تھا لیکن فیلڈر کے قدم ڈگمگا گئے اور محمد رضوان رن آؤٹ ہونے سے بال بال بچ گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان دونوں نے پاور پلے کے چھ اوورز میں چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 43 رنز کا اضافہ کیا لیکن 52 کے مجموعی سکور پر بنگلہ دیش کو بابر اعظم کی قیمتی وکٹ مل گئی جو 22 رنز بنا کر مہدی حسن کو سوئپ کرنے کی کوشش میں کیچ ہو گئے۔
شان مسعود اور محمد رضوان کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم نے نصف سفر کا اختتام 71 رنز پر کیا لیکن 94 کے سکور پر پاکستانی ٹیم کو دوسرا نقصان بھی اٹھانا پڑا جب شان مسعود ایک چھکے اور چار چوکوں کی مدد سے 31 رنز بنا کر نسم احمد کی گیند پر حسن محمود کو کیچ دے بیٹھے۔
اس کے بعد وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور محمد رضوان ایک اینڈ سے یہ سب کچھ دیکھتے رہے۔
حیدر، افتخار، آصف اور کتنا مایوس کریں گے؟
انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں مایوس کن کارکردگی کے بعد حیدر علی کے لیے فارم میں واپس آنے کے لیے اچھا موقع تھا لیکن وہ صرف 6 رنز بنا کر تسکین احمد کی گیند پر باؤنڈری پر کیچ ہو گئے۔
حیدر علی جب انٹرنیشنل کرکٹ میں آئے تھے تو ان کے ٹیلنٹ پر کافی بات ہوئی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی بہتر سے بہتر ہونے کے بجائے نیچے چلی گئی۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف گذشتہ سال کراچی میں نصف سنچری بنانے کے بعد وہ چھ اننگز میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں انھیں چار میچ کھیلنے کو ملے جن کی تین اننگز میں وہ صرف تین، چار اور 18 رنز ہی بنانے میں کامیاب ہو سکے تھے اور اب اس میچ میں بھی ناکامی کے بعد ان کی ورلڈ کپ سکواڈ میں موجودگی پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔
افتخار احمد 13 رنز بنا کر حسن محمود کی گیند پر ڈیپ مڈوکٹ پر کیچ ہوئے۔ افتخار احمد بھی ایک ایسے بیٹسمین ہیں جو ملنے والے مستقل مواقعوں سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس سال 12 ٹی ٹوئنٹی اننگز میں ان کا سب سے بڑا انفرادی سکور صرف 32 رنز سری لنکا کےخلاف ایشیا کپ میں رہا ہے۔
پاکستانی بیٹنگ لائن کے ناکام بیٹسمینوں میں ایک اور نام آصف علی کا ہے جن کا یہ 50واں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل تھا۔ جب وہ بیٹنگ کے لیے آئے تو اس وقت 16 گیندوں کا کھیل باقی تھا لیکن وہ صرف چار گیندیں کھیل کر اتنے ہی رنز بناکر ڈگ آؤٹ میں واپس لوٹ گئے۔
محمد رضوان آخر اکیلے کب تک؟
محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اپنی 21ویں نصف سنچری 38 گیندوں پر ایک چھکے اور چار چوکوں کی مدد سے مکمل کی اور ایک اینڈ کو سنبھالتے ہوئے انھوں نے 50 گیندوں پر 78 رنز ناٹ آؤٹ کی اہم اننگز کھیل ڈالی جس میں دو چھکے اور سات چوکے شامل تھے۔
رضوان اس وقت ٹی ٹوئنٹی کی عالمی رینکنگ میں نمبر ایک بیٹسمین ہیں۔ اس سال تمام ٹی ٹوئنٹی میچوں میں ان کے بنائے ہوئے رنز کی تعداد 1519 ہو گئی ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ مستقل مزاجی سے سکور کرتے ہوئے پاکستانی بیٹنگ کی لاج رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بنگلہ دیش کی بے رنگ بیٹنگ
پاکستانی پیس اٹیک کے سامنے بنگلہ دیشی بیٹسمینوں کے لیے کھل کر کھیلنا آسان نہ تھا۔ دونوں اوپنرز شبیر رحمن اور مہدی حسن پاور پلے میں ہی اپنی وکٹوں سے ہاتھ دھوبیٹھے۔
لٹن داس اور عفیف حسین سپنرز محمد نواز اور شاداب خان کے خلاف جارحانہ موڈ میں نظر آئے لیکن ان کی نصف سنچری شراکت محمد نواز کے ہاتھوں ہی ختم ہوئی جنھوں نے خطرناک لٹن داس کو 35 رنز پر ڈیپ بیک ورڈ سکوائر لیگ پر حیدرعلی کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔ اگلی ہی گیند پر محمد نواز مصدق حسین کو بھی ایل بی ڈبلیو کر کے بنگلہ دیشی ٹیم کی مشکلات میں اضافہ کر گئے۔
87 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد بنگلہ دیشی ٹیم پر دباؤ بڑھتا گیا اور اسی کے نتیجے میں پہلے عفیف حسین اور پھر کپتان نورالحسن کی وکٹیں بھی گر گئیں اور میچ بنگلہ دیشی ٹیم کے ہاتھ سے نکلتا چلا گیا۔
آخری اوور میں اگرچہ یاسر علی نے حارث رؤف کی بولنگ پر 20 رنز بنا ڈالے لیکن بنگلہ دیشی اننگز مکمل ہوئی تو سکور 8 وکٹوں کے نقصان پر 146رنز تک ہی پہنچ پایا تھا۔
پاکستانی بولرز میں محمد وسیم تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے۔
سہ فریقی سیریز میں پاکستان کا اگلا میچ ہفتے کے روز نیوزی لینڈ کے خلاف ہو گا۔