آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان بمقابلہ انگلینڈ پانچویں ٹی ٹوئنٹی پر سمیع چوہدری کا کالم: ’عامر جمال نے بساط پلٹ دی‘
معین علی بہت دیر سے اس اوور کی تاک میں تھے۔ جس استعداد سے آج کل ان کا بلا چل رہا ہے، یہ طے تھا کہ آخری اوور میں کوئی بھی گیند، کسی بھی بولر کے ہاتھ سے، کہیں بھی آن گرا، وہ اسے باؤنڈری پار پہنچا ہی لیں گے۔
معین علی بیک فٹ پہ کھیلنے کی عادی ہیں۔ افقی بلے سے، پچھلے قدموں پہ جا کر وہ گیند کو گراؤنڈ کے اطراف پھینکنے میں خاصی مہارت رکھتے ہیں اور حالیہ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں ایک قابلِ قدر کھلاڑی کے طور پہ جانے جاتے ہیں۔
یہاں انھوں نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کو ترجیح اس لیے دی کہ وہ دوسری اننگز کی بولنگ سے احتراز برت رہے تھے۔ لاہور میں موسم سرما کی آمد کی جھلک ہے، رات ڈھلتے فضا میں خنکی بڑھتی جاتی ہے اور اوس زدہ حالات میں بولرز کے لیے گیند کو سنبھالنا خاصا دشوار ہوتا ہے۔
جس طرح کے پیس اٹیک کے ساتھ معین علی قذافی میں اترے تھے، پاکستان کے لیے وہاں کوئی خطرہ مول لینے کی گنجائش نہیں تھی۔ مگر بابر اعظم کی وکٹ نے ووڈ کے حوصلے بارِ دگر بلند کر چھوڑے۔
ووڈ اس وقت اپنے کرئیر کی تیز رفتار ترین بولنگ کر رہے ہیں اور اس قدر تند رفتار شارٹ پچ بولنگ ہی بابر اعظم جیسے مکمل بلے باز کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
محمد رضوان اپنے حصے کی شمع جلانے کی کوشش کرتے رہے مگر اس پچ پہ سانس لینا دشوار تھا۔ ویسے تو لاہور کی وکٹ کبھی بھی اپنی رفتار کے سبب مشہور نہیں رہی مگر یہاں معاملہ کچھ زیادہ ہی دقیق تھا کہ گیند بلے پہ آ کے نہیں دے رہا تھا اور آؤٹ فیلڈ میں نمی کا تناسب ایسا تھا کہ باؤنڈری عبور کرنا بھی دشوار تھا۔
اس سیاق و سباق میں رضوان کی یہ ایک اور عظیم اننگز تھی۔ جہاں کسی کا بلا چل ہی نہ پایا، وہاں انہوں نے اپنی ٹیم کا نصف بوجھ اپنے کندھوں پہ اٹھا لیا۔
معین علی کے بولرز نے بہرطور اپنا ذمہ خوب نبھایا اور پاکستان کو مسابقتی ٹوٹل سے دس پندرہ رنز پیچھے ہی ڈھیر کر ڈالا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس طرح کی پچ پہ دنیا کی تگڑی سے تگڑی بیٹنگ لائن کو بھی ایک ایسا بلے باز چاہیے ہوتا ہے جو میچ کو سترہویں اوور تک کھینچ کے لے جا سکے بھلے اس کا سٹرائیک ریٹ کم ہی کیوں نہ ہو جائے۔ مگر یہاں رضوان نے ایک بار پھر سٹرائیک ریٹ کے ناقدین کو خاموش کیے رکھا۔
معین علی کی بیٹنگ لائن کو گراؤنڈ میں اترنے سے پہلے تک یہ سمجھ لینا چاہیے تھا کہ جس طرح ان کی بولنگ اننگز میں باؤنس کم رہا تھا اور بلے باز محبوس سے نظر آئے تھے، اب بھی باؤنس کم ہی رہے گا اور کسی کو ایک کنارا تھامے رکھنا ہو گا۔
مگر اس کے بعد کے واقعات سے یہ عیاں ہوا کہ اس معاملے میں انگلش کیمپ کی حکمتِ عملی کچھ ٹھوس نہیں تھی۔ پاور پلے کے پہلے اوور سے ہی یہ واضح ہو گیا کہ انگلش اوپنرز اس وکٹ کی چال سے قدم نہ ملا پائیں گے۔
پاور پلے میں جلد بازی اور تین وکٹوں کے گرنے سے انگلش بیٹنگ کا لوئر آرڈر بے نقاب ہو گیا اور یہاں اسے شاداب خان کی مشاقی اور افتخار کی ڈرفٹ کا سامنا تھا۔
سپن کے ان کنجوس اوورز نے مطلوبہ رن ریٹ کو اس نہج تک پہنچا چھوڑا کہ انگلش بلے بازوں کو کوئی راہ سجھائی نہ دیتی تھی اور جب ڈیبیو کرنے والے عامر جمال اپنے پہلے اوور کے لیے آئے تو سیم کرّن کو غچہ دے کر بساط پاکستان کے حق میں پلٹ دی۔
مگر معین علی کا خطرہ پھر بھی اپنی جگہ موجود تھا۔ جو فارم وہ لے کر چلے آ رہے تھے اور جیسی بے رحمی انہوں نے وسیم جونئیر اور حارث رؤف کے سامنے دکھائی، اس کے بعد یہ سوچنا بھی محال تھا کہ کوئی ڈیبیو کرنے والا پیسر آخری اوور میں پندرہ رنز کا دفاع کر سکے گا۔
یہ بھی پڑھیے
اور یہی وہ اوور تھا جس کا معین علی کب سے انتظار کر رہے تھے۔
عامر جمال نے آخری اوور کی پہلی گیند فل ٹاس پھینکی مگر اس کی لائن معین علی کی پہنچ سے باہر تھی اور یہ بلے کے اندرونی کنارے سے ٹکرا کر پیڈ تک جا پہنچی۔
دوسری گیند قدرے وائیڈ لائن پہ فل لینتھ پھینکی گئی اور لینتھ کو ترجیح دینے والے معین علی تلملا کر رہ گئے۔ مگر کرّن کی پکار پہ سنگل لینے سے انکاری رہے۔
تیسری گیند وائیڈ ہوئی۔ جب اس وائیڈ کو دہرانا پڑا تو عامر ذرا سا چوک گیے اور لینتھ دے ڈالی، معین علی بالکل بھی نہیں چوکے اور مڈوکٹ باؤنڈری پار کر کے انگلینڈ کے امکانات کو از سرِ نو زندہ کر ڈالا۔
چوتھی اور پانچویں گیند بہت اہم تھی اور قذافی میں موجود پاکستانی شائقین کی دھڑکنیں رکی ہوئی تھیں۔ مگر عامر جمال نے کمال ضبط اور فراست کا ایسا مظاہرہ کیا کہ وسیم اکرم بھی داد دینے پہ مجبور ہو گئے۔
وہ دو ایسے کمال یارکرز تھے کہ اننگز کے اس مرحلے میں معین علی جیسے رواں بلے باز نے بھی بالآخر ہتھیار ڈال دئیے اور بالآخر سنگل لے ہی لیا۔ آخری گیند پہ ڈیوڈ ولی نے کوئی کرشمہ دکھانے کی کوشش تو کی مگر بے ثمر رہے۔
پاکستانی بیٹنگ جس انتشار کا شکار دکھائی دی تھی، بولنگ نے اس کا سارا حساب چکتا کر دیا۔
جہاں سپنرز نے جیت کی راہ ہموار کر کے پیسرز کو پلیٹ فارم فراہم کیا، وہاں کس نے سوچا تھا کہ وسیم جونئیر اور حارث رؤف کے ہوتے ہوئے بھی دن کے ہیرو عامر جمال ہوں گے جو اپنی زندگی میں پہلی بار انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے تھے۔