سمیع چوہدری کا کالم: مارک ووڈ نے سیریز میں جان ڈال دی

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

گوتم گمبھیر نے کہا تھا کہ بطور بولر آپ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ کرکٹ بلے بازوں کا کھیل ہے اور ٹی ٹونٹی کرکٹ پر تو یہ مقولہ بالکل صادق بھی آتا ہے مگر مارک ووڈ گذشتہ شب اس سے یکسر اختلاف کرتے نظر آئے۔

پچھلے چند ماہ مارک ووڈ کے لیے خاصے پریشان کن رہے ہیں۔ حالانکہ ایشز میں وہ اپنے کیریئر کی بہترین بولنگ کروا رہے تھے اور بعد ازاں آئی پی ایل میں بھی نئی فرنچائز لکھنؤ سپر جائنٹس نے لگ بھگ ساڑھے سات لاکھ پاؤنڈ کے عوض ان کی خدمات حاصل کیں۔

32 سال کی عمر میں کسی فاسٹ بولر کے لیے اس سے سہانا وقت کیا ہو سکتا ہے کہ کیریئر کے اوائل کا انجریز والا دور ڈھل چکا ہو اور عروج کا وقت ایسی دھج سے شروع ہو رہا ہو۔ مگر پھر ویسٹ انڈیز کے دورے پر ان کی کہنی میں تکلیف شروع ہوئی اور دو ہفتے بعد وہ اس کہنی کی سرجری کرواتے پائے گئے۔

مگر جب حال ہی میں جنوبی افریقہ کے دورۂ انگلینڈ میں ووڈ کی واپسی کی توقع کی جا رہی تھی تو سکائے سپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے بتلایا کہ اُنھیں دوبارہ سرجری کی ضرورت تھی۔ اور اپنی کہنی سے زیادہ وہ ٹخنے کی انجری سے پریشان نظر آئے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے سنہ 2016 میں ان کے ٹخنے کے تین آپریشن ہو چکے تھے۔

اس قدر طویل انتظار اور صبر آزما علاج معالجے کے بعد کل شب جو مارک ووڈ نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کم بیک کرنے اترے، وہ اتنے ہی خطرناک تھے جتنا سات سال پہلے ڈیبیو کرنے والے ووڈ خطرناک ہوا کرتے تھے۔

ان کا پہلا اوور تباہ کن پیس بولنگ کی گولہ باری پر مشتمل تھا۔ وہ مسلسل 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار کی گیندیں پھینک رہے تھے اور ان کے پہلے سپیل کی سست ترین گیند بھی 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کی حامل تھی۔

کراچی جیسی ایشیائی بیٹنگ وکٹوں پر پیس ہی بسا اوقات بنیادی فرق ثابت ہوتی ہے۔ دوسرے ٹی ٹونٹی میں حارث رؤف اور شاہنواز دھانی نے پیس ہی کی بنیاد پر انگلش بلے بازوں کو چکرا ڈالا تھا اور پاکستان کی جانب سے ہدف کے ریکارڈ تعاقب میں بھی معین علی کو بنیادی کمی پیس کی عدم موجودگی میں ہی کھٹک رہی تھی۔ ڈیوڈ ولی یا لیوک ووڈ بھلا وہ کہاں کر سکتے تھے جو مارک ووڈ کا خاصہ ہے؟

بابر اعظم بلاشبہ دنیا کے بہترین بلے باز ہیں مگر یہاں مارک ووڈ ان سے بہتر نکلے اور ان کے تخمینوں کو بھانپ کر دام میں لے آئے۔ تھرڈ مین فیلڈر باؤنڈری پر تھا، بابر اعظم اننگز کے اوائل کی احتیاط کاٹ رہے تھے اور مطلوبہ رن ریٹ بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔

ایسے میں یہ یقینی تھا کہ اگر ووڈ اپنی لینتھ ذرا سی بھی واپس کھینچیں گے تو بابر اعظم ضرور کوئی نہ کوئی اونچا شاٹ کھیلیں گے اور بابر نے بالکل وہی کیا، مگر گیند کی رفتار ان کی توقع سے کہیں زیادہ نکلی۔ گیند بابر کے بلے سے مڈل نہ ہو پائی اور بالآخر باؤنڈری پر موجود ریس ٹاپلی کے ہاتھوں میں جا محفوظ ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

اپنے دوسرے ہی اوور میں مارک ووڈ نے حیدر علی پر ایسی تند و تیز گولہ باری شروع کی کہ وہ بھی مخمصے کے شکار نظر آئے اور چار و ناچار سیلف ڈیفنس کرتے ہوئے ایک برق رفتار ڈلیوری کو شارٹ مڈ وکٹ کی جانب کھیل گئے۔ یوں 221 رنز کے تعاقب میں پاکستان پانچویں ہی اوور میں 21 رنز کے عوض تیسری وکٹ گنوا چکا تھا۔

ایسے میں یہ پیشگوئی کرنا بالکل دشوار نہ تھا کہ باقی ماندہ پاکستانی اننگز کا انجام کیا ہو گا جہاں مڈل آرڈر پہلے ہی طرح طرح کے مباحث کی زد میں ہے۔ مڈل آرڈر کے لیے چونکہ یہ ہدف ہی پہاڑ سا تھا اور بابر و رضوان کی مشترکہ ناکامی کا بھی یہ نایاب دن تھا، اس لیے فوری کسی پوسٹ مارٹم کی نوبت نہیں آ جانی چاہیے۔

مگر پاکستان کو اپنی لیگ سپن اور ڈیتھ بولنگ پر توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔ گذشتہ چند سال میں جب پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ پر راج کیا ہے تو یہ دونوں پہلو اس کے مضبوط ترین پہلو رہے ہیں۔ ڈیتھ بولنگ میں تو پاکستان کی اکانومی بہترین رہی ہے۔

اگرچہ فی الوقت یہ ٹیم اپنی پوری قوت سے نہیں کھیل رہی اور اسے شاہین آفریدی کی خدمات بھی میسر نہیں ہیں مگر ورلڈ کپ کی تیاری کا تقاضہ یہ ہے کہ متبادل بولنگ آپشنز بھی ڈیتھ اوورز میں اکانومی بولنگ کرنے کی مشق حاصل کریں۔ کل شب پاکستان نے آخری 10 اوورز میں 132 رنز دے کر بھی کوئی وکٹ حاصل نہیں کی۔

اس سے پہلے اگرچہ عثمان قادر دو وکٹیں حاصل کر چکے تھے مگر بحیثیتِ مجموعی ان کے سپیل کا اکانومی ریٹ کسی بھی لحاظ سے امید افزا نہیں تھا۔

اس کا بہت سا کریڈٹ ہیری بروک کو بھی جاتا ہے جنھوں نے دھانی کی بہترین گیندوں کو بھی اپنی مہارت سے باؤنڈری پار اٹھا پھینکا۔ ٹائمنگ اور پلیسمنٹ، دونوں پر یکساں عبور رکھنے والے بروک اپنے نئے نئے کریئر کی ابتدا ہی میں ایسی بہترین فارم میں نظر آ رہے ہیں اور پانچویں نمبر پر ان کی یہ کارکردگی یقیناً انگلش سلیکٹرز کی مشکلات میں اضافہ کر دے گی۔

مگر پاکستان کے لیے اس میچ سے خوشی کی واحد خبر یہ رہی کہ پریشان حال مڈل آرڈر کے اہم ترین مہرے شان مسعود نے نمبر چار پر اپنی افادیت ثابت کر دی۔ میچ کے سیاق و سباق میں ان کی اننگز جرات اور مزاحمت کی مثال تھی مگر بدقسمتی کہ مطلوبہ رن ریٹ سے نمٹنے کے لیے اُنھیں دوسرے کنارے سے جیسی تائید کی ضرورت تھی، وہ حاصل نہ ہو پائی اور مارک ووڈ کے کم بیک نے سیریز میں جان ڈال دی۔