انگلینڈ، پاکستان ٹی ٹوئنٹی سیریز پر سمیع چوہدری کا کالم: شان مسعود یہ بوجھ کس حد تک اٹھا پائیں گے؟

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

انگلش کرکٹ فی الوقت تغیّر کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ اس ٹرانزیشن کا پہلا حصہ تو ٹیسٹ ٹیم بخوبی نبھا چکی، جس نے جو روٹ سے قیادت بین سٹوکس کو منتقل کی اور ایک انقلابی قدم کے تحت برینڈن میکلم کو ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ تعینات کیا۔

زمامِ کار میکلم اور سٹوکس کے ہاتھ منتقل ہوتے ہی نتائج حیرت انگیز طور پہ بہتری کی سمت گامزن ہوئے اور انگلش ٹیسٹ ٹیم کی نئی اپروچ کے لیے باقاعدہ ایک نئی اصطلاح ’بیز بال‘ تخلیق کی گئی۔

واضح رہے کہ ’بیز‘ برینڈن میکلم کا عرف بھی ہے اور سٹوکس کی ٹیم جیسی جارحانہ کرکٹ کھیل رہی ہے، اسے اگر بیس بال سے تشبیہہ دے کر ’بیز بال‘ کہا جا رہا ہے تو یہ بے جا نہیں ہے۔

انگلش کرکٹ کو دوسرا امتحان محدود فارمیٹ میں درپیش ہے جہاں ورلڈ کپ فاتح کپتان اوئن مورگن کی ریٹائرمنٹ کے بعد جوس بٹلر کو ایک نئی ٹیم بنانا ہے اور اس انقلاب کا علم بلند کیے رکھنا ہے جس کی ابتدا مورگن نے کی تھی اور انگلش کرکٹ کا چہرہ بدل ڈالا تھا۔

بٹلر کے قیادت سنبھالنے کے بعد گذشتہ کچھ عرصے میں کھیلی گئی چھ دو طرفہ سیریز میں سے انھیں محض ایک ہی میں کامیابی حاصل ہو پائی ہے اور وہ بھی نیدرلینڈز کے خلاف تھی۔ سو، بٹلر کی ٹیم کو ابھی کئی پڑاؤ طے کرنا باقی ہیں۔

اور اگر اِس پار نظر دوڑائی جائے تو پاکستان کرکٹ بھی اپنی جگہ بہت مستحکم نظر نہیں آتی۔

اگرچہ حالیہ چند نتائج بہت امید افزا رہے ہیں اور بابر اعظم کی ٹیم نے ایشیا کپ میں عمدہ کرکٹ کھیل کر فائنل تک رسائی بھی حاصل کی، مگر اس اہم ترین میچ میں ایک بار پھر پاکستانی مڈل آرڈر کی ناپختگی اور کوالٹی سپن کے خلاف تکنیکی مسائل ابھر کر سامنے آئے۔

اگرچہ بہت سے حلقوں میں یہ بحث چھڑی ہے کہ پاکستان کو اپنی اوپننگ جوڑی پہ نظرِ ثانی کی ضرورت ہے مگر چیف سلیکٹر محمد وسیم مُصر ہیں کہ چونکہ اسی جوڑی نے پاکستانی ٹی ٹونٹی ٹیم کو رینکنگ کی رفعتوں تک پہنچایا لہٰذا چند ایک خراب پرفارمنسز کو بنیاد بنا کر پورے ڈھانچے کو چھیڑ دینا غلط ہو گا۔

اس میں دو رائے نہیں کہ محمد رضوان کی مڈل آرڈر سے ترقی کے بعد اگرچہ ان کا اپنا ریکارڈ بھی بہت بہتر ہوا ہے اور پاکستان کے لیے بھی کئی ایک مثبت نتائج سامنے آئے ہیں مگر اس تبدیلی نے مڈل آرڈر کے توازن کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔

کیونکہ اگر بابر اعظم اور فخر زمان اوپن کریں تو کسی ابتدائی نقصان کی صورت میں پاکستانی مڈل آرڈر کو محمد رضوان کی شکل میں ایک بھرپور سہارا میسر رہتا ہے۔

مگر چونکہ یہ ابھی ممکن ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تو ایسے میں مڈل آرڈر کے لیے نوید یہ ہے کہ شان مسعود کو ٹی ٹونٹی ڈیبیو کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے اور اب ان پہ یہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ چوتھے نمبر پہ آ کر مڈل آرڈر کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کریں اور کسی ممکنہ بحران کی صورت میں ناؤ کو ڈولنے سے بچائیں۔

یہ بھی پڑھیے

ورلڈ کپ کی آمد آمد ہے اور میگا ایونٹ سے پہلے یہ پاکستان کے پاس سنہری موقع ہے کہ اپنے مڈل آرڈر کے جھول اور کمیاں کوتاہیاں دور کر کے اپنا حتمی کمبینیشن فائن ٹیون کر لے۔

پچھلے ایونٹ کی سیمی فائنلسٹ ٹیم اس بار بھی کم از کم سیمی فائنل تک رسائی کی بھرپور کوشش کرے گی اور اسے سیمی فائنل تک رسائی کے لیے ایک مضبوط مڈل آرڈر کی ضرورت ہو گی۔

محمد حفیظ کی ریٹائرمنٹ اور شعیب ملک کے خارج از امکان قرار دیے جانے کے بعد پاکستان نے خوشدل شاہ اور افتخار احمد پہ خاصی سرمایہ کاری کی ہے۔

اب جلد بازی میں ان کے بارے کوئی حتمی فیصلہ صادر کر دینا زیادتی ہو گی۔ ایسے میں شان مسعود کی آمد سے مڈل آرڈر میں نہ صرف تنوع کا اضافہ ہو گا اور یکسانیت سے چھٹکارا ملے گا بلکہ مسابقت کی بھی ایک فضا پیدا ہو گی۔

سات میچز پہ محیط یہ طویل سیریز پاکستانی مڈل آرڈر ہی نہیں، شان مسعود کے لیے بھی ایک ٹیسٹ کیس ہو گی کہ وہ کس حد تک اس نحیف مڈل آرڈر کا بوجھ اٹھا پائیں گے۔