منظور جونیئر : ´میں کہتا بھائی سونے دو وہ کہتا میچ کی حکمت عملی بنالیتے ہیں´

،تصویر کا ذریعہPHF
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
1982میں ممبئی میں منعقدہ ہاکی ورلڈ کپ کے فائنل میں پاکستان نے جرمنی کو ایک کے مقابلے میں تین گول سے شکست دے کر اپنے عالمی اعزاز کا کامیابی سے دفاع کیا تھا۔ پاکستان کی طرف سے یہ گول حسن سردار، کلیم اللہ اور منظور جونیئر نے کیے تھے لیکن منظور جونیئر کے گول نے وانکھڈے اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین کو اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکر داد دینے پر مجبور کر دیا تھا کیونکہ واقعی کمال کا گول تھا۔
منظور جونیئر نے میدان کے وسط میں گیند حاصل کی اور پھر جرمنی کے ایک کے بعد ایک کھلاڑی کو ڈاج دے کر گیند کو ڈی میں لے گئے اور جرمن گول کیپر کرسٹئن بیزمیر بھی انہیں نہ روک سکے۔ یہ منظور جونیئر کی فن کاری کا کوئی پہلا مظاہرہ نہیں تھا۔ وہ یہ جادوگری دکھانے کے فن میں کمال کی مہارت رکھتے تھے۔
ان جیسا رائٹ ان کوئی نہیں آیا۔

،تصویر کا ذریعہPHF
منظور جونیئر کے دیرینہ دوست کلیم اللہ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ´مجھے کھلاڑی بنانے والے منظور جونیئر ہیں۔میں ان کے ساتھ دس سال کھیلا ۔ان سے بڑا اور مکمل رائٹ ان کھلاڑی کوئی دوسرا نہیں آیا ´۔
کلیم اللہ کہتے ہیں´ میں اور منظور کئی بین الاقوامی دوروں میں روم میٹ رہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اولمپکس ہو یا ورلڈ کپ ، جب رات کو میں سونے کی تیاری کرتا تو منظور اپنے مخصوص پنجابی لہجے میں مجھ سے کہتے سنو کل کا میچ بہت اہم ہے کیا خیال ہے اس کے بارے میں حکمت عملی نہ بنا لیں کہ کس طرح ان کے کھلاڑیوں کو قابو کرنا ہے۔ میں منظور سے کہتا بھائی میں جلدی سونے کا عادی ہوں مجھے سونے دو لیکن وہ بضد رہتے کہ میچ پر بات کرنی ہے۔ ہاکی منظور کے خون میں شامل تھی´۔
توبہ کرو توبہ کرو۔
کلیم اللہ نے منظور جونیئر کے بارے میں یہ بھی بتایا ´ وہ ہر وقت اللہ کو یاد رکھنے والے شخص تھے۔ جب بھی ٹیم میدان میں اترتی تو وہ ہر کھلاڑی کو کہا کرتے تھے توبہ کرو توبہ کرو۔ میں ان سے مذاق میں کہتا کہ کیا ہم جنگ لڑنے آئے ہیں جو آپ ہمیں توبہ کا کہہ رہے ہیں´۔
کلیم اللہ کہتے ہیں´ اگر 1984ء کے لاس اینجلز اولمپکس کے فائنل کی وڈیو دیکھیں تو اس میں بھی آپ کو یہی بات نظر آئے گی جب میں فیصلہ کن گول کرکے واپس آ رہا تھا تو منظور جونیئر مجھے شاباشی دیتے ہوئے کہہ رہے تھے توبہ توبہ کرو´۔
ریکارڈ ساز کھلاڑی
منظور جونیئر ایک مکمل کھلاڑی تھے جنہوں نے رائٹ ان پوزیشن پر کھیلتے ہوئے 175 بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 86گول کیے۔
پاکستان نے صرف ایک مرتبہ 1979 میں جونیئر ورلڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹ جیتا ہے۔ اس فاتح ٹیم کے کپتان منظور جونیئر تھے لیکن انہیں لاس اینجلز اولمپکس کے فاتح کپتان کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔ یہ اولمپکس میں پاکستان کا ابتک جیتا گیا آخری گولڈ میڈل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منظور جونیئر 1978اور 1982میں عالمی کپ جیتنے والی فاتح ٹیموں میں بھی شامل تھے۔ ان کے کریڈٹ پر 1978اور 1980کی چیمپئنز ٹرافی کے گولڈ میڈلز بھی ہیں جبکہ وہ دوبار ایشین گیمز اور ایک بار ایشیا کپ کے گولڈ میڈلسٹ بھی ہیں۔
یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ پاکستان نے 1976کے مانٹریال اولمپکس میں ہالینڈ کو تین دو سے ہراکر کانسی کا تمغہ جیتا تو اس میچ میں فیصلہ کن گول منظور جونیئر نے کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPHF
منظور جونیئر ان چار خوش قسمت پاکستانی کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جن کے نام اولمپکس۔ ورلڈ کپ ۔چیمپئنز ٹرافی اور جونیئر ورلڈ کپ کے گولڈ میڈلز کے سامنے درج ہیں دیگر تین کھلاڑی معین الدین گول کیپر۔ کلیم اللہ اور رشید الحسن ہیں۔
منظور جونیئر کے دو بھائی محمود حسین اور مقصود حسین بھی انٹرنیشنل ہاکی میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ منظور جونیئر کا آخری انٹرنیشنل1984 میں کراچی میں منعقدہ چیمپئنز ٹرافی میں آسٹریلیا کے خلاف میچ تھا اور جب وہ آخری بار میدان سے باہر آئے تو ان کی جگہ لینے والے انہی کے بھائی مقصود حسین تھے۔
جونیئر نام کیوں پڑا ؟

،تصویر کا ذریعہPHF
منظور جونیئر کا اصل نام منظور حسین تھا وہ 28 اکتوبر1958 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ جب پاکستانی ٹیم میں آئے تو اسوقت منظور الحسن پہلے سے ٹیم میں موجود تھے لہذا وہ منظور سینئر کہلائے اور منظور حسین کے ساتھ جونیئر لگ گیا جو ان کی پہچان بنا رہا۔
بیس منٹ کا کھلاڑی
جب پاکستانی ٹیم لاس اینجلز اولمپکس میں حصہ لینے جا رہی تھی تو کچھ حلقے منظور جونیئر پر یہ کہہ کر تنقید کر رہے تھے کہ وہ صرف بیس منٹ کے کھلاڑی ہیں لیکن منظور جونیئر نے نہ صرف کپتان کی حیثیت سے بلکہ کھلاڑی کی حیثیت سے بھی ان ناقدین کو غلط ثابت کر دکھایا۔ وہ اولمپکس کے تمام میچوں میں تمام وقت کھیلے اور خوب کھیلے۔
منظور جونیئر دین سے ہمیشہ بہت قریب رہے جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے محلے کی مسجد میں جاکر باقاعدہ پانچ وقت اذان دیا کرتے تھے۔انہیں اس سال کے اوائل میں اپنی بیوی کی وفات کا صدمہ بھی برداشت کرنا پڑا تھا۔ وہ خود دل کے عارضے میں بھی مبتلا تھے۔29 اگست کو انہیں دل کا دورہ پڑا انہیں لاہور میں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ وفات پاگئے۔









