وراٹ کوہلی: ’پہلی بار ایک ماہ تک بیٹ کو ہاتھ نہیں لگایا، بابر کو کھیلتا دیکھ کر اچھا لگتا ہے‘

وراٹ بابر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے مایہ ناز بیٹسمین وراٹ کوہلی ایشیا کپ سے قبل ہی شہ سرخیوں میں ہیں اور اس کی وجہ ان کی فارم، کرکٹ سے کچھ دنوں تک دور رہنے کے بعد واپسی، ذہنی تناؤ کی بات اور پاکستان کے کپتان بابر اعظم سے ملاقات کے متعلق ان کا تازہ انٹرویو ہے۔

وراٹ کوہلی نے سٹار سپورٹس کے جتن سپرو کے ساتھ بات چیت میں اپنا دل کھول کر رکھ دیا ہے اور انھوں نے اپنے فارم اور اپنی ذہنی صحت کے متعلق کھل کر بات کی ہے۔

خیال رہے کہ عام طور پر ذہنی صحت کے متعلق لوگ کھل کر بات نہیں کرتے۔ اس سے قبل اداکارہ دیپکا پاڈوکون نے بھی اپنی ذہنی کیفیت کے متعلق کھل کر بات کی تھی۔

وراٹ کوہلی اتوار کے روز ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف اہم میچ میں کھیل کر رہے ہیں۔ انھیں ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے خلاف ہونے والی سیریز میں آرام دیا گیا تھا کیونکہ ان کے فارم کے متعلق باتیں ہونے لگی تھیں۔

اب وراٹ کوہلی تازہ دم ہو کر انڈین ٹیم میں واپس آئے ہیں اور ان کی واپسی پر انڈین ٹیم بہت زیادہ مضبوط نظر آنے لگی ہے۔ اس کے علاوہ ایشیا کپ میں ان کا ریکارڈ بھی بہترین رہا ہے اس لیے لوگ ان سے بہتر کارکردگی کی زیادہ امید رکھتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ان کے انٹرویو کا ذکر ہو رہا ہے لیکن سب سے زیادہ جس بات کا ذکر ہے وہ بابر اعظم سے ان کی ملاقات، دوستی کے علاوہ بابر اعظم کے لیے ان کے توصیفی کلمات ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ کنگ نے کنگ کا اعتراف کیا اور یہ ویڈیو شیئر کی ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

ذہنی تناؤ پر کھل کر بات

انھوں نے ذہنی تناؤ پر بات کرتے ہوئے سٹار سپورٹس کو بتایا کہ وہ کس طرح کرکٹ سے ایک ماہ تک بالکل دور رہے۔

انھوں نے کہا: 'دس سالوں میں پہلی بار ایسا ہوا کہ میں نے ایک ماہ تک اپنے بیٹ کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ جب میں نے اس پر غور کیا تو مجھے خود حیرت ہوئی کہ ارے، میں نے 30 دنوں تک بیٹ کو ہاتھ نہیں لگا۔ میں نے ایسا اپنی پوری زندگی میں کبھی نہیں کیا تھا۔'

وراٹ کوہلی اور ٹیم انڈیا

،تصویر کا ذریعہMATTHEW LEWIS-ICC/ICC VIA GETTY IMAGES

انھوں نے مزید کہا: 'مجھے یہ احساس ہوا کہ میں مصنوعی طور پر شدت اختیار کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں اپنے آپ کو قائل کر رہا تھا کہ نہیں، تم میں بہت جذبہ ہے۔ لیکن تمھارا جسم تمھیں رکنے کے لیے کہہ رہا تھا۔ میرا دماغ مجھے وقفہ لینے اور ایک قدم پیچھے لینے کے لیے کہہ رہا ہے۔‘

انھوں نے انڈیا کے سابق کھلاڑی اور کوچ روی شاستری کی بریک لینے کی بات کا ذکر کیا جس میں انھوں نے کام کے بوجھ کا ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ وہ کتنی زیادہ کرکٹ کھیل رہے ہیں، یعنی پچھلے دس سالوں میں کسی سے بھی 40 یا 50 فیصد زیادہ کھیل رہے ہیں۔ کوہلی نے بتایا کہ ان تمام چیزوں کو نظر انداز کرنا بہت آسان ہے۔

کوہلی نے سٹار سپورٹس سے بات کرتے ہوئے کہا: 'مجھے ایک ایسے آدمی کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو ذہنی طور پر بہت مضبوط ہے اور میں ہوں بھی۔ لیکن ہر ایک کی اپنی ایک حد ہوتی ہے اور آپ کو اس حد کو پہچاننے کی ضرورت ہے، ورنہ چیزیں آپ کی صحت کو متاثر کر سکتی ہیں۔'

انھوں نے بتایا کہ جب انھیں کرکٹ سے دوری کا موقع ملا تو انھوں نے اس موقعے کو گلے لگا لیا۔ انھوں نے کہا: 'زندگی میں پیشے کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ اور جب آپ کے گرد ایسا ماحول ہو کہ سب آپ کو آپ کے پیشے کے حساب سے ہی دیکھ رہے ہوں تو آپ ایک انسان کی طرح اپنا نقطہِ نظر کھونے لگتے ہیں۔'

وراٹ کوہلی

،تصویر کا ذریعہALLSPORT/Getty Images

،تصویر کا کیپشنکوہلی میدان سے اپنی شادی کی انگوٹھی دکھاتے ہوئے

دل کی سننے والا

انھوں نے کہا کہ 'میں ہمیشہ سے اپنے دل کی سننے والا شخص رہا ہوں۔ میں نے کبھی کوئی اور بننا نہیں چاہا ہے اور یہ میں نے اس دوران (کرکٹ سے دوری کے وقفے) جاننے کی کوشش کی ہے۔ میں نے لوگوں کی خواہش اور امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کی اور صحیح معنوں میں اپنے اندر کی شخصیت کو پوری طرح محسوس نہیں کر سکا لیکن اس کرکٹ سے دوری کے دوران مجھے اس کا موقع ملا۔

'مجھے لگنے لگا کہ میں تربیت کے لیے پرجوش نہیں، میں مشق کے لیے پرجوش نہیں، اور یہ باتیں مجھے پریشان کرنے لگيں کہ میں تو ایسا نہیں اور حقیقی طور پر اس ماحول سے دور رہنے کی ضرورت تھی۔'

وراٹ کوہلی کے کریئر پر نظر ڈالی جائے اور میدان میں ان کے جوش و خروش کو دیکھا جائے تو یہ بات بالکل صادق نظر آتی ہے کہ وہ دل کی سننے والے رہے ہیں۔

گذشتہ سال ورلڈ کپ میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد جس طرح محمد شامی کو ٹرول کیا گیا تھا انھوں نے کسی چیز کی پروا کیے بغیر شامی کا ساتھ دیا تھا یعنی انھوں نے دل کی سنی تھی جس کا اعتراف بہت سارے مبصرین نے کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

بہر حال وراٹ کوہلی نے کہا کہ یہ بریک ان کے لیے بہت ضروری تھا اور یہ کہ کرکٹ میں یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بین سٹوکس، ٹرینٹ بولٹ اور معین علی وغیرہ نے ایسا کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب وہ 'تازہ دم محسوس کر رہے ہیں اور ان کا صبح اٹھ کر ورزش کرنے کے لیے جم جانے کا دل کرنے لگا ہے۔'

بابر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بابر ہمیشہ 'عزت و احترام' کے ساتھ پیش آئے

کوہلی نے سٹار سپورٹس کے ساتھ انٹرویو میں یہ انکشاف کیا کہ وہ پہلی بار بابر اعظم سے سنہ 2019 کے ورلڈ کپ کے دوران ملے۔ انھوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ پاکستانی سٹار بابر ہمیشہ ان کے ساتھ 'عزت و احترام' کے ساتھ پیش آئے اور ان کے برتاؤ میں کامیابیوں کے بعد بھی تبدیلی نہیں آئی۔

کوہلی نے بابر کو فی الحال کرکٹ کی تینوں 'فارمیٹ میں دنیا کا ٹاپ بلے باز' قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ وہ اس قسم کے کھلاڑی ہیں جس کی عالمی کرکٹ کو ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا: 'سنہ 2019 کے ورلڈ کپ میں مانچسٹر کے میچ کے بعد میری ان کے ساتھ پہلی بات چیت ہوئی۔ وہ اور عماد (وسیم) تھے۔ عماد کو میں انڈر 19 کرکٹ سے جانتا ہوں، ہم ایک دوسرے کے خلاف کھیل چکے ہیں اور عماد نے کہا کہ بابر مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

'ہم نے بیٹھ کر کھیل کے بارے میں بات کی۔ میں نے ان کی طرف سے بہت عزت و احترام کا اظہار دیکھا اور اس حقیقت سے قطع نظر اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی کہ وہ اس وقت تمام فارمیٹس میں دنیا کے ٹاپ بلے باز ہیں، اور مستقل کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔‘

سابق انڈین کپتان نے کہا کہ ’اور بجا طور پر ان میں حیرت انگیز ٹیلنٹ ہے اور میں ہمیشہ انھیں کھیلتے ہوئے دیکھ کر لطف اندوز ہوا ہوں۔ ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ اب پرفارم کر رہے ہیں اور اپنے رنگ میں آ رہے ہیں لیکن میرے متعلق ان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے جو کہ ان کی اچھی پرورش کی علامت ہے۔‘

کوہلی نے مزید کہا: ’ان کی کرکٹ کی بنیاد بھی بہت مضبوط ہیں۔ اس طرح کے کھلاڑی، اس قسم کے کردار بہت آگے جاتے ہیں اور بہت سے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہو گا۔'

کوہلی اور شاہین شاہ

،تصویر کا ذریعہMICHAEL STEELE-ICC

خیال رہے کہ جب بھی بابر اعظم کا کوہلی سے موازنہ کیا گیا ہے تو انھوں نے کوہلی کو عظیم کھلاڑی کہا ہے اور یہ بھی کہا کہ وہ ابھی ان کے آس پاس بھی نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ گذشتہ دنوں انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے ان کے ساتھ خیر سگالی اور ہمدردی کا اظہار کیا تھا جس کا کوہلی نے بھی کھلے دل کے ساتھ شکریہ ادا کیا۔

سٹار سپورٹس کے ایک پروگرام 'شاز اینڈ واز' یعنی شاستری اور وسیم اکرم پر مبنی پروگرام میں وسیم اکرم نے کہا: 'بابر اعظم اور وراٹ کوہلی کے درمیان موازنہ فطری ہے۔ میرے زمانے میں یہ انضمام الحق بمقابلہ سچن ٹینڈولکر تھا اس سے پہلے یہ جاوید میانداد بمقابلہ سنیل گواسکر تھا۔ بابر آل ٹائم گریٹ بننے کے لیے صحیح راستے پر گامزن ہیں لیکن وراٹ کوہلی کے ساتھ موازنہ کرنے سے پہلے انھیں ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر مداحوں کے تبصرے

سوشل میڈیا پر صارفین نے کوہلی کے تازہ بیان اور ان کی ویڈیو کو شیئر کیا ہے جبکہ بہت سے لوگوں نے بابر اعظم کے پرانے بیان اور ان کے ٹویٹس کو شیئر کرتے ہوئے دونوں کی تعریف کی ہے۔

دی ماروہ خان نامی ایک صارف لکھتی ہیں کہ 'اگر آپ بابر یا کوہلی کسی سے بھی نفرت کرتے ہیں تو آپ کرکٹ کے پرستار نہیں ہے بلکہ آپ قوم پرست جنونی ہیں جن کے کرکٹ کا علم اتنا محدود ہے کہ نفرت کی سرحد نہیں پار کرسکتا۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

صحافی عرفہ فیروز ‌ذکی لکھتے ہیں کہ 'انڈیا پاکستان کے کرکٹ پرستار انڈیا پاکستان کی کرکٹ کے بار میں بہت پرجوش ہوتے ہیں۔ جب وہ کوہلی بابر روہت اور شاہین کو ایک ہی فریم میں دیکھتے ہیں تو فرط جذبات سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔ دونوں جانب کے کرکٹر بھی ایک دوسرے سے گرمجوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ بی سی سی آئی (انڈین کرکٹ بورڈ) کو کب ہند پاک کرکٹ کی اہمیت کی سمجھ آئے گی۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

بہت سے لوگوں نے بابر اعظم اور وراٹ کوہلی کی مختلف تصاویر ایک ساتھ شیئر کی ہے اور ان سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔

ایک صارف نے لکھا ہے کہ نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر سکاٹ سٹائرس نے کہا ہے بابر تنہا ہی انڈیا کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لیکن ابھی تک ایشیا کپ میں وراٹ کوہلی کا پاکستان کے خلاف بہترین ریکارڈ رہا ہے اور ایک تازہ دم کوہلی کیا کارنامہ سرانجام دیتے ہیں یہ آج شام تک واضح ہو جائے گا۔